آیا ہے اک راہ نما کے استقبال کو اک بچہ پیٹ ہے خالی آنکھ میں حسرت ہاتھوں میں گلدستہ ہے
Related Sher
اب ان جلے ہوئے جسموں پہ خود ہی سایہ کروں تمہیں کہا تھا بتا کر قریب آیا کروں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے بعد مہینوں ادا سے رہتا ہوں مزاق ہے وہ ہے وہ بھی مجھے ہاتھ مت لگایا کروں
Tehzeeb Hafi
295 likes
تیرا بنتا تھا کہ تو دشمن ہوں اپنے ہاتھوں سے کھلایا تھا تجھے تیری گالی سے مجھے یاد آیا کتنے تانوں سے بچایا تھا تجھے
Ali Zaryoun
114 likes
اشارہ کر رہے ہیں بال یہ بکھرے ہوئے کیا تو میرے پا سے آیا ہے کہیں ہوتے ہوئے کیا یہ اتنا ہنسنے والے عشق ہے وہ ہے وہ ٹوٹے ہوئے لوگ تو ان سے پوچھنا اندر سے بھی اچھے ہوئے کیا
Kushal Dauneria
62 likes
اتنی کیوں بےچین ہے تو ا سے گھنیری رات ہے وہ ہے وہ ہے وہ لے مجھے اب دیکھ لے اب چاند بن آیا ہوں ہے وہ ہے وہ
nakul kumar
61 likes
تو بھی کب مری مطابق مجھے دکھ دے پایا ک سے نے بھرنا تھا یہ پیما لگ ا گر خالی تھا ایک دکھ یہ کہ تو ملنے نہیں آیا مجھ سے ایک دکھ یہ ہے ا سے دن میرا گھر خالی تھا
Tehzeeb Hafi
162 likes
More from Ghulam Mohammad Qasir
اب اک تیر بھی ہو لیا ساتھ ورنہ پرندہ چلا تھا سفر پر اکیلے
Ghulam Mohammad Qasir
0 likes
ہر سال کی آخری شاموں ہے وہ ہے وہ دو چار ورق اڑ جاتے ہیں اب اور لگ بکھرے رشتوں کی بوسیدہ کتاب تو اچھا ہوں
Ghulam Mohammad Qasir
6 likes
گلیوں کی اداسی پوچھتی ہے گھر کا سناٹا کہتا ہے ا سے شہر کا ہر رہنے والا کیوں دوسرے شہر ہے وہ ہے وہ رہتا ہے
Ghulam Mohammad Qasir
9 likes
اب اسی آگ ہے وہ ہے وہ جلتے ہیں جسے اپنے دامن سے ہوا دی ہم نے
Ghulam Mohammad Qasir
19 likes
مری دیے نے اندھیرے سے دوستی کر لی مجھے تو اپنے اجالے ہے وہ ہے وہ جانتا ہے تو آ
Ghulam Mohammad Qasir
11 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Ghulam Mohammad Qasir.
Similar Moods
More moods that pair well with Ghulam Mohammad Qasir's sher.







