لگاوٹ کی ادا سے ان کا کہنا پان حاضر ہے قیامت ہے ستم ہے دل فدا ہے جان حاضر ہے
Poetry Collection
Paan
Chewing betel leaves is a part of the Indian subcontinent’s culture. It is also offered to others in an act of courtesy and to make friends. The redness that betel leaves bring to lips has attracted men and women to each other. Poetry too has taken note of this. We share some of them with you here.
Total
29
Sher
29
Featured Picks
Is collection se writer-diverse top picks for quick reading.
سنا کے کوئی کہانی ہمیں سلاتی تھی دعاؤں جیسی بڑے پان دان کی خوشبو
ہونٹھوں میں داب کر جو گلوری دی یار نے کیا دانت پیسے غیروں نے کیا کیا چبائے ہونٹھ
اٹھایا اس نے بیڑا قتل کا کچھ دل میں ٹھانا ہے چبانا پان کا بھی خوں بہانے کا بہانہ ہے
جب ہم کلام ہم سے ہوتا ہے پان کھا کر کس رنگ سے کرے ہے باتیں چبا چبا کر
گلوری رقیبوں نے بھیجی ہے صاحب کسی اور کو بھی کھلا لیجئے گا
بالوں میں بل ہے آنکھ میں سرمہ ہے منہ میں پان گھر سے نکل کے پاؤں نکالے نکل چلے
بہت سے خون خرابے مچیں گے خانہ خراب یہی ہے رنگ اگر تیرے پان کھانے کا
اک جنم کے پیاسے بھی سیر ہوں تو ہم جانیں یوں تو رحمت یزداں چار سو برستی ہے
کب پان رقیبوں کو عنایت نہیں ہوتے کس روز مرے قتل کا بیڑا نہیں اٹھتا یہ شعر اپنے تلازمات کی وجہ سے کافی دلچسپ ہے۔ مضمون روایتی ہے مگر طرزِ بیان نے اس میں جان ڈال دی ہے۔ پان اور بیڑا ہم معنی ہیں۔ مگر شاعر کا کمال یہ ہے کہ انہوں نے پان کی مناسبت سے بیڑا اٹھانا استعمال کرکے شعر میں لطف کا عنصر ڈال دیا ہے۔ بیڑا اٹھانا محاورہ ہے جس کے معنی ذمہ لینا، عہد لینا، آمادہ ہونا اور مستعد ہونا ہے۔ مضمون اس شعر کا یہ ہے کہ شاعر کا محبوب اس کے رقیبوں پر مہربان ہوکر انہیں پان عنایت کرتا ہے جس کی وجہ سے شاعر کو یہ احساس ہوتا ہے دراصل ایسا کرکے اس کا محبوب اسے قتل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس شعر میں عشق میں رقابت کے نتیجہ میں پیدا ہونے والی عاشق کی جلن بھی ہے اور محبوب کی عاشق کے تئیں بےاعتنائی بھی۔ یعنی شعری کردار اس بات پر شاکی ہے کہ اس کا محبوب اس کے رقیبوں کی طرف ملتفت ہوکر انہیں پان عنایت کرتا ہے اور ایسا کرکے جیسے اس نے اپنے عاشق کو قتل کرنے کا عہد کیا ہے۔ شفق سوپوری
پان بن بن کے مری جان کہاں جاتے ہیں یہ مرے قتل کے سامان کہاں جاتے ہیں
پان کے ٹھیلے ہوٹل لوگوں کا جمگھٹ اپنے تنہا ہونے کا احساس بھی کیا
جبھی تو پان کھا کر مسکرایا تبھی دل کھل گیا گل کی کلی کا
تیرے ہونٹھوں کے تئیں پان سے لال دیکھ کر خون جگر کھاتا ہوں
ہاتھ میں لے کر گلوری مجھ کو دکھلا کر کہا منہ تو بنوائے کوئی اس پان کھانے کے لیے
خون عشاق کا اٹھا بیڑا بے سبب کب وہ پان کھاتا ہے
آئے بھی تو کھائے نہ گلوری نہ ملا عطر روکی مری دعوت مجھے مہماں سے گلا ہے
مرے قتل پر تم نے بیڑا اٹھایا مرے ہاتھ کا پان کھایا تو ہوتا
سدا پان کھا کھا کے نکلے ہے باہر زمانے میں خوں خوار پیدا ہوا ہے
کیا ہے مجھے دیتے ہو گلوری چونے میں کہیں نہ سنکھیا ہو
لگاوٹ کی ادا سے ان کا کہنا پان حاضر ہے قیامت ہے ستم ہے دل فدا ہے جان حاضر ہے
سنا کے کوئی کہانی ہمیں سلاتی تھی دعاؤں جیسی بڑے پان دان کی خوشبو
ہونٹھوں میں داب کر جو گلوری دی یار نے کیا دانت پیسے غیروں نے کیا کیا چبائے ہونٹھ
اٹھایا اس نے بیڑا قتل کا کچھ دل میں ٹھانا ہے چبانا پان کا بھی خوں بہانے کا بہانہ ہے
جب ہم کلام ہم سے ہوتا ہے پان کھا کر کس رنگ سے کرے ہے باتیں چبا چبا کر
گلوری رقیبوں نے بھیجی ہے صاحب کسی اور کو بھی کھلا لیجئے گا
بالوں میں بل ہے آنکھ میں سرمہ ہے منہ میں پان گھر سے نکل کے پاؤں نکالے نکل چلے
بہت سے خون خرابے مچیں گے خانہ خراب یہی ہے رنگ اگر تیرے پان کھانے کا
اک جنم کے پیاسے بھی سیر ہوں تو ہم جانیں یوں تو رحمت یزداں چار سو برستی ہے
کب پان رقیبوں کو عنایت نہیں ہوتے کس روز مرے قتل کا بیڑا نہیں اٹھتا یہ شعر اپنے تلازمات کی وجہ سے کافی دلچسپ ہے۔ مضمون روایتی ہے مگر طرزِ بیان نے اس میں جان ڈال دی ہے۔ پان اور بیڑا ہم معنی ہیں۔ مگر شاعر کا کمال یہ ہے کہ انہوں نے پان کی مناسبت سے بیڑا اٹھانا استعمال کرکے شعر میں لطف کا عنصر ڈال دیا ہے۔ بیڑا اٹھانا محاورہ ہے جس کے معنی ذمہ لینا، عہد لینا، آمادہ ہونا اور مستعد ہونا ہے۔ مضمون اس شعر کا یہ ہے کہ شاعر کا محبوب اس کے رقیبوں پر مہربان ہوکر انہیں پان عنایت کرتا ہے جس کی وجہ سے شاعر کو یہ احساس ہوتا ہے دراصل ایسا کرکے اس کا محبوب اسے قتل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس شعر میں عشق میں رقابت کے نتیجہ میں پیدا ہونے والی عاشق کی جلن بھی ہے اور محبوب کی عاشق کے تئیں بےاعتنائی بھی۔ یعنی شعری کردار اس بات پر شاکی ہے کہ اس کا محبوب اس کے رقیبوں کی طرف ملتفت ہوکر انہیں پان عنایت کرتا ہے اور ایسا کرکے جیسے اس نے اپنے عاشق کو قتل کرنے کا عہد کیا ہے۔ شفق سوپوری
آئے بھی تو کھائے نہ گلوری نہ ملا عطر روکی مری دعوت مجھے مہماں سے گلا ہے
پان بن بن کے مری جان کہاں جاتے ہیں یہ مرے قتل کے سامان کہاں جاتے ہیں
مرے قتل پر تم نے بیڑا اٹھایا مرے ہاتھ کا پان کھایا تو ہوتا
تمہارے لب کی سرخی لعل کی مانند اصلی ہے اگر تم پان اے پیارے نہ کھاؤ گے تو کیا ہوگا
جبھی تو پان کھا کر مسکرایا تبھی دل کھل گیا گل کی کلی کا
تیرے ہونٹھوں کے تئیں پان سے لال دیکھ کر خون جگر کھاتا ہوں
ہاتھ میں لے کر گلوری مجھ کو دکھلا کر کہا منہ تو بنوائے کوئی اس پان کھانے کے لیے
سدا پان کھا کھا کے نکلے ہے باہر زمانے میں خوں خوار پیدا ہوا ہے
آتے ہیں وہ کہیں سے تو اے مہرؔ قرض دام چکنی ڈلی الاچی منگا پان چھالیا
کیا ہے مجھے دیتے ہو گلوری چونے میں کہیں نہ سنکھیا ہو
You have reached the end.
Explore Similar Collections
Paan FAQs
Paan collection me kya milega?
Paan se related curated sher, selected ghazal excerpts aur context-friendly reading flow milega.
Kya is page ki links internal hain?
Haan, collection links, writer links aur detail links sab Kuch Alfaaz ke internal routes par map kiye gaye hain.
Collection ko kaise explore karein?
Type filter (Sher/Ghazal/Nazm), featured picks aur similar collections rail use karke fast discovery kar sakte hain.