Poetry Collection

Parinda

Birds have a commune of their own and they relate with humans in their own ways. They represent nature, innocence, and beauty but they also represent imagination, aspiration, and strength. Poets have used the images of birds both in abstract and concrete terms and to create a plethora of meanings. Here are some verses for your perusal and appreciation.

Total

31

Sher

31

Featured Picks

Is collection se writer-diverse top picks for quick reading.

نکال لایا ہوں ایک پنجرے سے اک پرندہ اب اس پرندے کے دل سے پنجرہ نکالنا ہے

تم پرندوں سے زیادہ تو نہیں ہو آزاد شام ہونے کو ہے اب گھر کی طرف لوٹ چلو

بچھڑ کے تجھ سے نہ دیکھا گیا کسی کا ملاپ اڑا دیئے ہیں پرندے شجر پہ بیٹھے ہوئے

پرند شاخ پہ تنہا اداس بیٹھا ہے اڑان بھول گیا مدتوں کی بندش میں

کچھ احتیاط پرندے بھی رکھنا بھول گئے کچھ انتقام بھی آندھی نے بدترین لیے

جانے کیا کیا ظلم پرندے دیکھ کے آتے ہیں شام ڈھلے پیڑوں پر مرثیہ خوانی ہوتی ہے

پرند پیڑ سے پرواز کرتے جاتے ہیں کہ بستیوں کا مقدر بدلتا جاتا ہے

ریگ دل میں کئی نادیدہ پرندے بھی ہیں دفن سوچتے ہوں گے کہ دریا کی زیارت کر جائیں

جانے کیا سوچ کے پھر ان کو رہائی دے دی ہم نے اب کے بھی پرندوں کو تہہ دام کیا

غول کے غول مرے صحن میں آ بیٹھتے ہیں یہ پرندے مجھے ہجرت نہیں کرنے دیتے

پلٹ گئے جو پرندے تو پھر گلہ کیا ہے ہر ایک شاخ شجر پر بچھے ہیں جال بہت

یہ پرندے جو منڈیروں پہ کھلی دھوپ میں ہیں بال و پر اپنے سکھائیں گے چلے جائیں گے

کوئی فضاؔ تو ملے ہم کو قابل‌ پراوز اب ان حدوں میں بھلا بال و پر کہاں کھولیں

صحن گلشن میں کئی دام بچھے ہیں اے اثرؔ اڑ کے جاؤں بھی اگر میں تو کدھر جاؤں گا

یہ پرندے بھی کھیتوں کے مزدور ہیں لوٹ کے اپنے گھر شام تک جائیں گے

پرندے دور فضاؤں میں کھو گئے علویؔ اجاڑ اجاڑ درختوں پہ آشیانے تھے

پرند کیوں مری شاخوں سے خوف کھاتے ہیں کہ اک درخت ہوں اور سایہ دار میں بھی ہوں

یہ طائروں کی قطاریں کدھر کو جاتی ہیں نہ کوئی دام بچھا ہے کہیں نہ دانہ ہے

نکال لایا ہوں ایک پنجرے سے اک پرندہ اب اس پرندے کے دل سے پنجرہ نکالنا ہے

تم پرندوں سے زیادہ تو نہیں ہو آزاد شام ہونے کو ہے اب گھر کی طرف لوٹ چلو

بچھڑ کے تجھ سے نہ دیکھا گیا کسی کا ملاپ اڑا دیئے ہیں پرندے شجر پہ بیٹھے ہوئے

پرند شاخ پہ تنہا اداس بیٹھا ہے اڑان بھول گیا مدتوں کی بندش میں

یہ پرندے بھی کھیتوں کے مزدور ہیں لوٹ کے اپنے گھر شام تک جائیں گے

عجیب درد کا رشتہ تھا سب کے سب روئے شجر گرا تو پرندے تمام شب روئے

پرندے دور فضاؤں میں کھو گئے علویؔ اجاڑ اجاڑ درختوں پہ آشیانے تھے

پرند اونچی اڑانوں کی دھن میں رہتا ہے مگر زمیں کی حدوں میں بسر بھی کرتا ہے

پرند پیڑ سے پرواز کرتے جاتے ہیں کہ بستیوں کا مقدر بدلتا جاتا ہے

پرند کیوں مری شاخوں سے خوف کھاتے ہیں کہ اک درخت ہوں اور سایہ دار میں بھی ہوں

یہ طائروں کی قطاریں کدھر کو جاتی ہیں نہ کوئی دام بچھا ہے کہیں نہ دانہ ہے

جانے کیا سوچ کے پھر ان کو رہائی دے دی ہم نے اب کے بھی پرندوں کو تہہ دام کیا

ہم پرندوں سے ہنر چھینے گا کون جل گیا اک گھر تو سو گھر بن گئے

~ Zeenatullah Javed

پلٹ گئے جو پرندے تو پھر گلہ کیا ہے ہر ایک شاخ شجر پر بچھے ہیں جال بہت

ضرور امن کا پیغام لے گیا تھا کہیں پرندہ لوٹا لئے پر لہو میں ڈوبے ہوئے

یہ پرندے جو منڈیروں پہ کھلی دھوپ میں ہیں بال و پر اپنے سکھائیں گے چلے جائیں گے

بات پیڑوں کی نہیں، غم ہے پرندوں کا ندیمؔ گھونسلے جن کے کوئی توڑ دیا کرتا تھا

ہماری روح پرندوں کو سونپ دی جائے کہ یہ بدن تو گنہ گار ہو گئے صاحب

صحن گلشن میں کئی دام بچھے ہیں اے اثرؔ اڑ کے جاؤں بھی اگر میں تو کدھر جاؤں گا

Explore Similar Collections

Parinda FAQs

Parinda collection me kya milega?

Parinda se related curated sher, selected ghazal excerpts aur context-friendly reading flow milega.

Kya is page ki links internal hain?

Haan, collection links, writer links aur detail links sab Kuch Alfaaz ke internal routes par map kiye gaye hain.

Collection ko kaise explore karein?

Type filter (Sher/Ghazal/Nazm), featured picks aur similar collections rail use karke fast discovery kar sakte hain.