مانا کہ تیری دید کے قابل نہیں ہوں میں تو میرا شوق دیکھ مرا انتظار دیکھ
Poetry Collection
Parliament
This tag features verses chosen by politicians for expressing views during parliamentary debates and enriching discussions with poetic flair and cultural depth.
Total
24
Sher
24
Featured Picks
Is collection se writer-diverse top picks for quick reading.
ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہو جاتے ہیں بد نام وہ قتل بھی کرتے ہیں تو چرچا نہیں ہوتا
کچھ تو مجبوریاں رہی ہوں گی یوں کوئی بے وفا نہیں ہوتا
تم تکلف کو بھی اخلاص سمجھتے ہو فرازؔ دوست ہوتا نہیں ہر ہاتھ ملانے والا
یہ جبر بھی دیکھا ہے تاریخ کی نظروں نے لمحوں نے خطا کی تھی صدیوں نے سزا پائی
شام تک صبح کی نظروں سے اتر جاتے ہیں اتنے سمجھوتوں پہ جیتے ہیں کہ مر جاتے ہیں
سفر میں دھوپ تو ہوگی جو چل سکو تو چلو سبھی ہیں بھیڑ میں تم بھی نکل سکو تو چلو
تمہارے پاؤں کے نیچے کوئی زمین نہیں کمال یہ ہے کہ پھر بھی تمہیں یقین نہیں
چہرے پہ سارے شہر کے گرد ملال ہے جو دل کا حال ہے وہی دلی کا حال ہے
سچ گھٹے یا بڑھے تو سچ نہ رہے جھوٹ کی کوئی انتہا ہی نہیں
دوپہر تک بک گیا بازار کا ہر ایک جھوٹ اور میں اک سچ کو لے کر شام تک بیٹھا رہا
زندگی دی ہے تو جینے کا ہنر بھی دینا پاؤں بخشیں ہیں تو توفیق سفر بھی دینا
ہم کو ان سے وفا کی ہے امید جو نہیں جانتے وفا کیا ہے
نشہ پلا کے گرانا تو سب کو آتا ہے مزا تو جب ہے کہ گرتوں کو تھام لے ساقی
شہرت کی بلندی بھی پل بھر کا تماشا ہے جس ڈال پہ بیٹھے ہو وہ ٹوٹ بھی سکتی ہے
سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا ہم بلبلیں ہیں اس کی یہ گلستاں ہمارا
مانا کہ تیری دید کے قابل نہیں ہوں میں تو میرا شوق دیکھ مرا انتظار دیکھ
ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہو جاتے ہیں بد نام وہ قتل بھی کرتے ہیں تو چرچا نہیں ہوتا
کچھ تو مجبوریاں رہی ہوں گی یوں کوئی بے وفا نہیں ہوتا
تم تکلف کو بھی اخلاص سمجھتے ہو فرازؔ دوست ہوتا نہیں ہر ہاتھ ملانے والا
یہ جبر بھی دیکھا ہے تاریخ کی نظروں نے لمحوں نے خطا کی تھی صدیوں نے سزا پائی
ہم کو ان سے وفا کی ہے امید جو نہیں جانتے وفا کیا ہے
مذہب نہیں سکھاتا آپس میں بیر رکھنا ہندی ہیں ہم وطن ہے ہندوستاں ہمارا
شہرت کی بلندی بھی پل بھر کا تماشا ہے جس ڈال پہ بیٹھے ہو وہ ٹوٹ بھی سکتی ہے
سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا ہم بلبلیں ہیں اس کی یہ گلستاں ہمارا
تم سے پہلے وہ جو اک شخص یہاں تخت نشیں تھا اس کو بھی اپنے خدا ہونے پہ اتنا ہی یقیں تھا
تمہارے پاؤں کے نیچے کوئی زمین نہیں کمال یہ ہے کہ پھر بھی تمہیں یقین نہیں
یقین ہو تو کوئی راستہ نکلتا ہے ہوا کی اوٹ بھی لے کر چراغ جلتا ہے
سچ گھٹے یا بڑھے تو سچ نہ رہے جھوٹ کی کوئی انتہا ہی نہیں
کسی کے واسطے راہیں کہاں بدلتی ہیں تم اپنے آپ کو خود ہی بدل سکو تو چلو
دوپہر تک بک گیا بازار کا ہر ایک جھوٹ اور میں اک سچ کو لے کر شام تک بیٹھا رہا
زندگی دی ہے تو جینے کا ہنر بھی دینا پاؤں بخشیں ہیں تو توفیق سفر بھی دینا
You have reached the end.
Explore Similar Collections
Parliament FAQs
Parliament collection me kya milega?
Parliament se related curated sher, selected ghazal excerpts aur context-friendly reading flow milega.
Kya is page ki links internal hain?
Haan, collection links, writer links aur detail links sab Kuch Alfaaz ke internal routes par map kiye gaye hain.
Collection ko kaise explore karein?
Type filter (Sher/Ghazal/Nazm), featured picks aur similar collections rail use karke fast discovery kar sakte hain.