میں چاہتا تھا کہ اس کو گلاب پیش کروں وہ خود گلاب تھا اس کو گلاب کیا دیتا
Poetry Collection
Phool
A blossom, or a flower, is an image but it is also a simile, a metaphor, and a symbol. Its various colours represent various shades of life. They also represent transience as opposed to permanence. Even though it has become a cliche but some poets have used it as a repository of many more meanings than we may imagine. You may see some of them in this selection.
Total
53
Sher
44
Ghazal
9
Featured Picks
Is collection se writer-diverse top picks for quick reading.
لوگ کانٹوں سے بچ کے چلتے ہیں میں نے پھولوں سے زخم کھائے ہیں
کانٹوں سے گزر جاتا ہوں دامن کو بچا کر پھولوں کی سیاست سے میں بیگانہ نہیں ہوں
اسے کسی سے محبت نہ تھی مگر اس نے گلاب توڑ کے دنیا کو شک میں ڈال دیا
آج بھی شاید کوئی پھولوں کا تحفہ بھیج دے تتلیاں منڈلا رہی ہیں کانچ کے گلدان پر
کانٹوں سے دل لگاؤ جو تا عمر ساتھ دیں پھولوں کا کیا جو سانس کی گرمی نہ سہ سکیں
پھول ہی پھول یاد آتے ہیں آپ جب جب بھی مسکراتے ہیں
سنو کہ اب ہم گلاب دیں گے گلاب لیں گے محبتوں میں کوئی خسارہ نہیں چلے گا
سچ ہے احسان کا بھی بوجھ بہت ہوتا ہے چار پھولوں سے دبی جاتی ہے تربت میری
پھول کر لے نباہ کانٹوں سے آدمی ہی نہ آدمی سے ملے
کانٹے تو خیر کانٹے ہیں اس کا گلہ ہی کیا پھولوں کی واردات سے گھبرا کے پی گیا
اپنی قسمت میں سبھی کچھ تھا مگر پھول نہ تھے تم اگر پھول نہ ہوتے تو ہمارے ہوتے
رنگ آنکھوں کے لیے بو ہے دماغوں کے لیے پھول کو ہاتھ لگانے کی ضرورت کیا ہے
پھولوں کو سرخی دینے میں پتے پیلے ہو جاتے ہیں
کئی طرح کے تحائف پسند ہیں اس کو مگر جو کام یہاں پھول سے نکلتا ہے
پھولوں کی تازگی ہی نہیں دیکھنے کی چیز کانٹوں کی سمت بھی تو نگاہیں اٹھا کے دیکھ
مہر و مہ گل پھول سب تھے پر ہمیں چہرئی چہرہ ہمیں بھاتا رہا
میں نے قبول کر لیا چپ چاپ وہ گلاب جو شاخ دے رہی تھی تری اور سے مجھے
پتہ تھا مجھ کو ملاقات غیر ممکن ہے سو تیرا دھیان کیا اور گلاب چوم لیا
چاہنے والو پیار میں تھوڑی آزادی بھی لازم ہے دیکھو میرا پھول زیادہ دیکھ بھال سے ٹوٹ گیا
میں چاہتا تھا کہ اس کو گلاب پیش کروں وہ خود گلاب تھا اس کو گلاب کیا دیتا
لوگ کانٹوں سے بچ کے چلتے ہیں میں نے پھولوں سے زخم کھائے ہیں
کانٹوں سے گزر جاتا ہوں دامن کو بچا کر پھولوں کی سیاست سے میں بیگانہ نہیں ہوں
اسے کسی سے محبت نہ تھی مگر اس نے گلاب توڑ کے دنیا کو شک میں ڈال دیا
آج بھی شاید کوئی پھولوں کا تحفہ بھیج دے تتلیاں منڈلا رہی ہیں کانچ کے گلدان پر
کانٹوں سے دل لگاؤ جو تا عمر ساتھ دیں پھولوں کا کیا جو سانس کی گرمی نہ سہ سکیں
پھول ہی پھول یاد آتے ہیں آپ جب جب بھی مسکراتے ہیں
سنو کہ اب ہم گلاب دیں گے گلاب لیں گے محبتوں میں کوئی خسارہ نہیں چلے گا
سچ ہے احسان کا بھی بوجھ بہت ہوتا ہے چار پھولوں سے دبی جاتی ہے تربت میری
پھول کر لے نباہ کانٹوں سے آدمی ہی نہ آدمی سے ملے
کانٹے تو خیر کانٹے ہیں اس کا گلہ ہی کیا پھولوں کی واردات سے گھبرا کے پی گیا
اپنی قسمت میں سبھی کچھ تھا مگر پھول نہ تھے تم اگر پھول نہ ہوتے تو ہمارے ہوتے
رنگ آنکھوں کے لیے بو ہے دماغوں کے لیے پھول کو ہاتھ لگانے کی ضرورت کیا ہے
پھولوں کو سرخی دینے میں پتے پیلے ہو جاتے ہیں
کئی طرح کے تحائف پسند ہیں اس کو مگر جو کام یہاں پھول سے نکلتا ہے
پھولوں کی تازگی ہی نہیں دیکھنے کی چیز کانٹوں کی سمت بھی تو نگاہیں اٹھا کے دیکھ
کانٹوں پہ چلے ہیں تو کہیں پھول کھلے ہیں پھولوں سے ملے ہیں تو بڑی چوٹ لگی ہے
مہر و مہ گل پھول سب تھے پر ہمیں چہرئی چہرہ ہمیں بھاتا رہا
تجھ سے بچھڑوں تو کوئی پھول نہ مہکے مجھ میں دیکھ کیا کرب ہے کیا ذات کی سچائی ہے
پتہ تھا مجھ کو ملاقات غیر ممکن ہے سو تیرا دھیان کیا اور گلاب چوم لیا
Explore Similar Collections
Phool FAQs
Phool collection me kya milega?
Phool se related curated sher, selected ghazal excerpts aur context-friendly reading flow milega.
Kya is page ki links internal hain?
Haan, collection links, writer links aur detail links sab Kuch Alfaaz ke internal routes par map kiye gaye hain.
Collection ko kaise explore karein?
Type filter (Sher/Ghazal/Nazm), featured picks aur similar collections rail use karke fast discovery kar sakte hain.