اس طرح زندگی نے دیا ہے ہمارا ساتھ جیسے کوئی نباہ رہا ہو رقیب سے
Poetry Collection
Raqeeb
An envious person is yet another stock character of classical Urdu poetry. He wants to dislodge the lover, possess the beloved, and rule the world. He is often led by lust and is also the one about whom the beloved knows and enjoys this dichotomous situation rather secretly. Read these verses to know the inscrutable ways of those in love.
Total
40
Sher
37
Ghazal
3
Featured Picks
Is collection se writer-diverse top picks for quick reading.
نہ میں سمجھا نہ آپ آئے کہیں سے پسینہ پوچھیے اپنی جبیں سے
لے میرے تجربوں سے سبق اے مرے رقیب دو چار سال عمر میں تجھ سے بڑا ہوں میں
رفیقوں سے رقیب اچھے جو جل کر نام لیتے ہیں گلوں سے خار بہتر ہیں جو دامن تھام لیتے ہیں
مجھ سے بگڑ گئے تو رقیبوں کی بن گئی غیروں میں بٹ رہا ہے مرا اعتبار آج
تمہارے خط میں نیا اک سلام کس کا تھا نہ تھا رقیب تو آخر وہ نام کس کا تھا
اس نقش پا کے سجدے نے کیا کیا کیا ذلیل میں کوچۂ رقیب میں بھی سر کے بل گیا
رقیب قتل ہوا اس کی تیغ ابرو سے حرام زادہ تھا اچھا ہوا حلال ہوا
بیٹھے ہوئے رقیب ہیں دل بر کے آس پاس کانٹوں کا ہے ہجوم گل تر کے آس پاس
غیر سے کھیلی ہے ہولی یار نے ڈالے مجھ پر دیدۂ خوں بار رنگ
اپنی زبان سے مجھے جو چاہے کہہ لیں آپ بڑھ بڑھ کے بولنا نہیں اچھا رقیب کا
ہمیں نرگس کا دستہ غیر کے ہاتھوں سے کیوں بھیجا جو آنکھیں ہی دکھانی تھیں دکھاتے اپنی نظروں سے
کہتے ہو کہ ہم درد کسی کا نہیں سنتے میں نے تو رقیبوں سے سنا اور ہی کچھ ہے
جس کا تجھ سا حبیب ہووے گا کون اس کا رقیب ہووے گا
رقیب دونوں جہاں میں ذلیل کیوں ہوتا کسی کے بیچ میں کمبخت اگر نہیں آتا
وہ جسے سارے زمانے نے کہا میرا رقیب میں نے اس کو ہم سفر جانا کہ تو اس کی بھی تھی
جمع کرتے ہو کیوں رقیبوں کو اک تماشا ہوا گلہ نہ ہوا
آپ ہی سے نہ جب رہا مطلب پھر رقیبوں سے مجھ کو کیا مطلب
حال میرا بھی جائے عبرت ہے اب سفارش رقیب کرتے ہیں
سامنے اس کے نہ کہتے مگر اب کہتے ہیں لذت عشق گئی غیر کے مر جانے سے
اس طرح زندگی نے دیا ہے ہمارا ساتھ جیسے کوئی نباہ رہا ہو رقیب سے
نہ میں سمجھا نہ آپ آئے کہیں سے پسینہ پوچھیے اپنی جبیں سے
لے میرے تجربوں سے سبق اے مرے رقیب دو چار سال عمر میں تجھ سے بڑا ہوں میں
رفیقوں سے رقیب اچھے جو جل کر نام لیتے ہیں گلوں سے خار بہتر ہیں جو دامن تھام لیتے ہیں
مجھ سے بگڑ گئے تو رقیبوں کی بن گئی غیروں میں بٹ رہا ہے مرا اعتبار آج
تمہارے خط میں نیا اک سلام کس کا تھا نہ تھا رقیب تو آخر وہ نام کس کا تھا
اس نقش پا کے سجدے نے کیا کیا کیا ذلیل میں کوچۂ رقیب میں بھی سر کے بل گیا
رقیب قتل ہوا اس کی تیغ ابرو سے حرام زادہ تھا اچھا ہوا حلال ہوا
جمع کرتے ہو کیوں رقیبوں کو اک تماشا ہوا گلہ نہ ہوا
بیٹھے ہوئے رقیب ہیں دل بر کے آس پاس کانٹوں کا ہے ہجوم گل تر کے آس پاس
یاد آئیں اس کو دیکھ کے اپنی مصیبتیں روئے ہم آج خوب لپٹ کر رقیب سے
اپنی زبان سے مجھے جو چاہے کہہ لیں آپ بڑھ بڑھ کے بولنا نہیں اچھا رقیب کا
آپ ہی سے نہ جب رہا مطلب پھر رقیبوں سے مجھ کو کیا مطلب
غصہ آتا ہے پیار آتا ہے غیر کے گھر سے یار آتا ہے
جس کا تجھ سا حبیب ہووے گا کون اس کا رقیب ہووے گا
ہم اپنے عشق کی اب اور کیا شہادت دیں ہمیں ہمارے رقیبوں نے معتبر جانا
وہ جسے سارے زمانے نے کہا میرا رقیب میں نے اس کو ہم سفر جانا کہ تو اس کی بھی تھی
گو آپ نے جواب برا ہی دیا ولے مجھ سے بیاں نہ کیجے عدو کے پیام کو
سامنے اس کے نہ کہتے مگر اب کہتے ہیں لذت عشق گئی غیر کے مر جانے سے
یہ کہہ کے میرے سامنے ٹالا رقیب کو مجھ سے کبھی کی جان نہ پہچان جائیے
Explore Similar Collections
Raqeeb FAQs
Raqeeb collection me kya milega?
Raqeeb se related curated sher, selected ghazal excerpts aur context-friendly reading flow milega.
Kya is page ki links internal hain?
Haan, collection links, writer links aur detail links sab Kuch Alfaaz ke internal routes par map kiye gaye hain.
Collection ko kaise explore karein?
Type filter (Sher/Ghazal/Nazm), featured picks aur similar collections rail use karke fast discovery kar sakte hain.