کون کہتا ہے کہ موت آئی تو مر جاؤں گا میں تو دریا ہوں سمندر میں اتر جاؤں گا
Poetry Collection
Samundar
Sea has been a major symbol in poetry of all languages and in all ages. It represents history, memory, flux of time, and grandeur apart from many other things. Urdu poets have been enamored by its symbolic significance and they have used it multiple contexts. This selection brings to you a few of its facets and dimensions. We hope you enjoy the depths of the sea and its poetical representations here.
Total
24
Sher
18
Ghazal
6
Featured Picks
Is collection se writer-diverse top picks for quick reading.
گرتے ہیں سمندر میں بڑے شوق سے دریا لیکن کسی دریا میں سمندر نہیں گرتا
نظروں سے ناپتا ہے سمندر کی وسعتیں ساحل پہ اک شخص اکیلا کھڑا ہوا
دوست احباب سے لینے نہ سہارے جانا دل جو گھبرائے سمندر کے کنارے جانا
بند ہو جاتا ہے کوزے میں کبھی دریا بھی اور کبھی قطرہ سمندر میں بدل جاتا ہے
کٹی ہوئی ہے زمیں کوہ سے سمندر تک ملا ہے گھاؤ یہ دریا کو راستہ دے کر
سمندر ادا فہم تھا رک گیا کہ ہم پاؤں پانی پہ دھرنے کو تھے
یہ میرے دل کی ہوس دشت بے کراں جیسی وہ تیری آنکھ کے تیور سمندروں والے
میں گھر بسا کے سمندر کے بیچ سویا تھا اٹھا تو آگ کی لپٹوں میں تھا مکان مرا
اپنے لہو سے پیاس بجھانی ہے تا حیات اب راستے میں کوئی سمندر نہ آئے گا
اے فنا ٹوٹ سکے گی نہ کبھی کشتی عمر میں کسی اور سمندر میں اتر جاؤں گا
ناخدا ہے موت جو دم ہے سو ہے باد مراد عزم ہے کشتیٔ تن کو بحر ہستی یار کا
کون کہتا ہے کہ موت آئی تو مر جاؤں گا میں تو دریا ہوں سمندر میں اتر جاؤں گا
گرتے ہیں سمندر میں بڑے شوق سے دریا لیکن کسی دریا میں سمندر نہیں گرتا
نظروں سے ناپتا ہے سمندر کی وسعتیں ساحل پہ اک شخص اکیلا کھڑا ہوا
دوست احباب سے لینے نہ سہارے جانا دل جو گھبرائے سمندر کے کنارے جانا
بند ہو جاتا ہے کوزے میں کبھی دریا بھی اور کبھی قطرہ سمندر میں بدل جاتا ہے
چمک رہا ہے خیمۂ روشن دور ستارے سا دل کی کشتی تیر رہی ہے کھلے سمندر میں
رکھی ہوئی ہے دونوں کی بنیاد ریت پر صحرائے بے کراں کو سمندر لکھیں گے ہم
سمندر ادا فہم تھا رک گیا کہ ہم پاؤں پانی پہ دھرنے کو تھے
آپ ساگر ہیں تو سیراب کریں پیاسے کو آپ بادل ہیں تو مجھ دشت پہ سایا کیجئے
میں گھر بسا کے سمندر کے بیچ سویا تھا اٹھا تو آگ کی لپٹوں میں تھا مکان مرا
کسی بھی پیاس کے مارے کی پیاس بجھ نہ سکی سمندروں میں تو آتے رہے اچھال بہت
اے فنا ٹوٹ سکے گی نہ کبھی کشتی عمر میں کسی اور سمندر میں اتر جاؤں گا
You have reached the end.
Explore Similar Collections
Samundar FAQs
Samundar collection me kya milega?
Samundar se related curated sher, selected ghazal excerpts aur context-friendly reading flow milega.
Kya is page ki links internal hain?
Haan, collection links, writer links aur detail links sab Kuch Alfaaz ke internal routes par map kiye gaye hain.
Collection ko kaise explore karein?
Type filter (Sher/Ghazal/Nazm), featured picks aur similar collections rail use karke fast discovery kar sakte hain.