Poetry Collection

Sardi

Winter is a season rather special to lovers. It also helps us enjoy the rays of the sun as well as the blazing embers in the fireplace. In such a season, the lovers in separation crave for each other. Urdu poets have represented this season both in physical and metaphorical terms. You may like to read the verses here and enjoy the various states of winter and how it impacts us.

Total

33

Sher

33

Featured Picks

Is collection se writer-diverse top picks for quick reading.

یہ سرد رات یہ آوارگی یہ نیند کا بوجھ ہم اپنے شہر میں ہوتے تو گھر گئے ہوتے یہ شعر اردو کے مشہور اشعار میں سے ایک ہے۔ اس میں جو کیفیت پائی جاتی ہے اسے شدید تنہائی کے عالم پر محمول کیا جا سکتا ہے۔ اس کے تلازمات میں شدت بھی ہے اور احساس بھی۔ ’’سرد رات‘‘، ’’آوارگی‘‘اور ’’نیند کا بوجھ‘‘ یہ ایسے تین عالم ہیں جن سے تنہائی کی تصویر بنتی ہے اور جب یہ کہا کہ ’’ہم اپنے شہر میں ہوتے تو گھر گئے ہوتے‘‘ تو گویا تنہائی کے ساتھ ساتھ بےخانمائی کے المیہ کی تصویر بھی کھینچی ہے۔ شعر کا بنیادی مضمون تنہائی اور بےخانمائی اور اجنبیت ہے۔ شاعر کسی اور شہر میں ہیں اور سرد رات میں آنکھوں پر نیند کا بوجھ لے کے آوارہ گھوم رہے ہیں۔ ظاہر ہے کہ وہ شہر میں اجنبی ہیں اس لئے کسی کے گھر نہیں جا سکتے ورنہ سرد رات، آوارگی اور نیند کا بوجھ وہ مجبوریاں ہیں جو کسی ٹھکانے کا تقاضا کرتی ہیں۔ مگر شاعر کا المیہ یہ ہے کہ وہ تنہائی کے شہر میں کسی کو جانتے نہیں اسی لئے کہتے ہیں اگر میں اپنے شہر میں ہوتا تو اپنے گھر گیا ہوتا۔ شفق سوپوری

کچھ تو ہوا بھی سرد تھی کچھ تھا ترا خیال بھی دل کو خوشی کے ساتھ ساتھ ہوتا رہا ملال بھی

اب اداس پھرتے ہو سردیوں کی شاموں میں اس طرح تو ہوتا ہے اس طرح کے کاموں میں

یادوں کی شال اوڑھ کے آوارہ گردیاں کاٹی ہیں ہم نے یوں بھی دسمبر کی سردیاں

تم تو سردی کی حسیں دھوپ کا چہرہ ہو جسے دیکھتے رہتے ہیں دیوار سے جاتے ہوئے ہم

بیٹھے بیٹھے پھینک دیا ہے آتش دان میں کیا کیا کچھ موسم اتنا سرد نہیں تھا جتنی آگ جلا لی ہے

وہ سردیوں کی دھوپ کی طرح غروب ہو گیا لپٹ رہی ہے یاد جسم سے لحاف کی طرح

سردی اور گرمی کے عذر نہیں چلتے موسم دیکھ کے صاحب عشق نہیں ہوتا

سورج لحاف اوڑھ کے سویا تمام رات سردی سے اک پرندہ دریچے میں مر گیا

سخت سردی میں ٹھٹھرتی ہے بہت روح مری جسم یار آ کہ بچاری کو سہارا مل جائے

تیز دھوپ میں آئی ایسی لہر سردی کی موم کا ہر اک پتلا بچ گیا پگھلنے سے

اتنی سردی ہے کہ میں بانہوں کی حرارت مانگوں رت یہ موزوں ہے کہاں گھر سے نکلنے کے لیے

سرد جھونکوں سے بھڑکتے ہیں بدن میں شعلے جان لے لے گی یہ برسات قریب آ جاؤ

سردی ہے کہ اس جسم سے پھر بھی نہیں جاتی سورج ہے کہ مدت سے مرے سر پر کھڑا ہے

~ Fakhr Zaman

ایسی سردی میں شرط چادر ہے اوڑھنے کی ہو یا بچھونے کی

سرد راتوں کا تقاضہ تھا بدن جل جاے پھر وہ اک آگ جو سینہ سے لگائی میں نے

رات بے چین سی سردی میں ٹھٹھرتی ہے بہت دن بھی ہر روز سلگتا ہے تری یادوں سے

علویؔ یہ معجزہ ہے دسمبر کی دھوپ کا سارے مکان شہر کے دھوئے ہوئے سے ہیں

یہ سرد رات یہ آوارگی یہ نیند کا بوجھ ہم اپنے شہر میں ہوتے تو گھر گئے ہوتے یہ شعر اردو کے مشہور اشعار میں سے ایک ہے۔ اس میں جو کیفیت پائی جاتی ہے اسے شدید تنہائی کے عالم پر محمول کیا جا سکتا ہے۔ اس کے تلازمات میں شدت بھی ہے اور احساس بھی۔ ’’سرد رات‘‘، ’’آوارگی‘‘اور ’’نیند کا بوجھ‘‘ یہ ایسے تین عالم ہیں جن سے تنہائی کی تصویر بنتی ہے اور جب یہ کہا کہ ’’ہم اپنے شہر میں ہوتے تو گھر گئے ہوتے‘‘ تو گویا تنہائی کے ساتھ ساتھ بےخانمائی کے المیہ کی تصویر بھی کھینچی ہے۔ شعر کا بنیادی مضمون تنہائی اور بےخانمائی اور اجنبیت ہے۔ شاعر کسی اور شہر میں ہیں اور سرد رات میں آنکھوں پر نیند کا بوجھ لے کے آوارہ گھوم رہے ہیں۔ ظاہر ہے کہ وہ شہر میں اجنبی ہیں اس لئے کسی کے گھر نہیں جا سکتے ورنہ سرد رات، آوارگی اور نیند کا بوجھ وہ مجبوریاں ہیں جو کسی ٹھکانے کا تقاضا کرتی ہیں۔ مگر شاعر کا المیہ یہ ہے کہ وہ تنہائی کے شہر میں کسی کو جانتے نہیں اسی لئے کہتے ہیں اگر میں اپنے شہر میں ہوتا تو اپنے گھر گیا ہوتا۔ شفق سوپوری

کچھ تو ہوا بھی سرد تھی کچھ تھا ترا خیال بھی دل کو خوشی کے ساتھ ساتھ ہوتا رہا ملال بھی

اب اداس پھرتے ہو سردیوں کی شاموں میں اس طرح تو ہوتا ہے اس طرح کے کاموں میں

یادوں کی شال اوڑھ کے آوارہ گردیاں کاٹی ہیں ہم نے یوں بھی دسمبر کی سردیاں

تم تو سردی کی حسیں دھوپ کا چہرہ ہو جسے دیکھتے رہتے ہیں دیوار سے جاتے ہوئے ہم

بیٹھے بیٹھے پھینک دیا ہے آتش دان میں کیا کیا کچھ موسم اتنا سرد نہیں تھا جتنی آگ جلا لی ہے

رات بے چین سی سردی میں ٹھٹھرتی ہے بہت دن بھی ہر روز سلگتا ہے تری یادوں سے

وہ سردیوں کی دھوپ کی طرح غروب ہو گیا لپٹ رہی ہے یاد جسم سے لحاف کی طرح

علویؔ یہ معجزہ ہے دسمبر کی دھوپ کا سارے مکان شہر کے دھوئے ہوئے سے ہیں

اب کی سردی میں کہاں ہے وہ الاؤ سینہ اب کی سردی میں مجھے خود کو جلانا ہوگا

سورج لحاف اوڑھ کے سویا تمام رات سردی سے اک پرندہ دریچے میں مر گیا

سخت سردی میں ٹھٹھرتی ہے بہت روح مری جسم یار آ کہ بچاری کو سہارا مل جائے

تیز دھوپ میں آئی ایسی لہر سردی کی موم کا ہر اک پتلا بچ گیا پگھلنے سے

اتنی سردی ہے کہ میں بانہوں کی حرارت مانگوں رت یہ موزوں ہے کہاں گھر سے نکلنے کے لیے

سرد جھونکوں سے بھڑکتے ہیں بدن میں شعلے جان لے لے گی یہ برسات قریب آ جاؤ

سردی ہے کہ اس جسم سے پھر بھی نہیں جاتی سورج ہے کہ مدت سے مرے سر پر کھڑا ہے

~ Fakhr Zaman

ایسی سردی میں شرط چادر ہے اوڑھنے کی ہو یا بچھونے کی

سرد راتوں کا تقاضہ تھا بدن جل جاے پھر وہ اک آگ جو سینہ سے لگائی میں نے

Explore Similar Collections

Sardi FAQs

Sardi collection me kya milega?

Sardi se related curated sher, selected ghazal excerpts aur context-friendly reading flow milega.

Kya is page ki links internal hain?

Haan, collection links, writer links aur detail links sab Kuch Alfaaz ke internal routes par map kiye gaye hain.

Collection ko kaise explore karein?

Type filter (Sher/Ghazal/Nazm), featured picks aur similar collections rail use karke fast discovery kar sakte hain.