Poetry Collection

Saya

Only those who suffer the scorching rays of the blazing sun know the significance of shade. Shade is both a physical condition as well as a metaphor of pleasure and protection which stands in opposition to the sun, or such other sources that bring pain and suffering. This selection of shers on shade will bring to you a variety of experiences that you would enjoy when you go through them.

Total

43

Sher

43

Featured Picks

Is collection se writer-diverse top picks for quick reading.

پیڑ کے کاٹنے والوں کو یہ معلوم تو تھا جسم جل جائیں گے جب سر پہ نہ سایہ ہوگا

ذرا یہ دھوپ ڈھل جائے تو ان کا حال پوچھیں گے یہاں کچھ سائے اپنے آپ کو پیکر بتاتے ہیں

کوئی تصویر مکمل نہیں ہونے پاتی دھوپ دیتے ہیں تو سایا نہیں رہنے دیتے

لوگ کہتے ہیں کہ سایا ترے پیکر کا نہیں میں تو کہتا ہوں زمانے پہ ہے سایا تیرا

ڈھلتے سورج کی تمازت نے بکھر کر دیکھا سر کشیدہ مرا سایا صف اشجار کے بیچ

آسماں ایک سلگتا ہوا صحرا ہے جہاں ڈھونڈھتا پھرتا ہے خود اپنا ہی سایا سورج

روشنی میں اپنی شخصیت پہ جب بھی سوچنا اپنے قد کو اپنے سائے سے بھی کم تر دیکھنا

وہ مرے ساتھ ہے سائے کی طرح دل کی ضد ہے کہ نظر بھی آئے

دھوپ بولی کہ میں آبائی وطن ہوں تیرا میں نے پھر سایۂ دیوار کو زحمت نہیں دی

تجھ سے جدا ہوئے تو یہ ہو جائیں گے جدا باقی کہاں رہیں گے یہ سائے ترے بغیر

سایہ بھی ساتھ چھوڑ گیا اب تو اے اثرؔ پھر کس لیے میں آج کو کل سے جدا کروں

دھوپ بڑھتے ہی جدا ہو جائے گا سایۂ دیوار بھی دیوار سے

وہ اور ہوں گے جو کار ہوس پہ زندہ ہیں میں اس کی دھوپ سے سایہ بدل کے آیا ہوں

دھوپ جوانی کا یارانہ اپنی جگہ تھک جاتا ہے جسم تو سایہ مانگتا ہے

تاریکیوں نے خود کو ملایا ہے دھوپ میں سایہ جو شام کا نظر آیا ہے دھوپ میں

جو سایہ دار شجر تھے وہ صرف دار ہوئے دکھائی دیتے نہیں دور دور تک سائے

وہ تپش ہے کہ جل اٹھے سائے دھوپ رکھی تھی سائبان میں کیا

اس دشت سخن میں کوئی کیا پھول کھلائے چمکی جو ذرا دھوپ تو جلنے لگے سائے

پیڑ کے کاٹنے والوں کو یہ معلوم تو تھا جسم جل جائیں گے جب سر پہ نہ سایہ ہوگا

ذرا یہ دھوپ ڈھل جائے تو ان کا حال پوچھیں گے یہاں کچھ سائے اپنے آپ کو پیکر بتاتے ہیں

کوئی تصویر مکمل نہیں ہونے پاتی دھوپ دیتے ہیں تو سایا نہیں رہنے دیتے

لوگ کہتے ہیں کہ سایا ترے پیکر کا نہیں میں تو کہتا ہوں زمانے پہ ہے سایا تیرا

ڈھلتے سورج کی تمازت نے بکھر کر دیکھا سر کشیدہ مرا سایا صف اشجار کے بیچ

آسماں ایک سلگتا ہوا صحرا ہے جہاں ڈھونڈھتا پھرتا ہے خود اپنا ہی سایا سورج

روشنی میں اپنی شخصیت پہ جب بھی سوچنا اپنے قد کو اپنے سائے سے بھی کم تر دیکھنا

وہ مرے ساتھ ہے سائے کی طرح دل کی ضد ہے کہ نظر بھی آئے

دھوپ بولی کہ میں آبائی وطن ہوں تیرا میں نے پھر سایۂ دیوار کو زحمت نہیں دی

اس دشت سخن میں کوئی کیا پھول کھلائے چمکی جو ذرا دھوپ تو جلنے لگے سائے

یاروں نے میری راہ میں دیوار کھینچ کر مشہور کر دیا کہ مجھے سایہ چاہئے

سایہ بھی ساتھ چھوڑ گیا اب تو اے اثرؔ پھر کس لیے میں آج کو کل سے جدا کروں

ہم ایک فکر کے پیکر ہیں اک خیال کے پھول ترا وجود نہیں ہے تو میرا سایا نہیں

وہ اور ہوں گے جو کار ہوس پہ زندہ ہیں میں اس کی دھوپ سے سایہ بدل کے آیا ہوں

رشتے ناطے ٹوٹے پھوٹے لگے ہیں جب بھی اپنا سایہ ساتھ نہیں ہوتا

جو سایہ دار شجر تھے وہ صرف دار ہوئے دکھائی دیتے نہیں دور دور تک سائے

زاویہ دھوپ نے کچھ ایسا بنایا ہے کہ ہم سائے کو جسم کی جنبش سے جدا دیکھتے ہیں

وہ تپش ہے کہ جل اٹھے سائے دھوپ رکھی تھی سائبان میں کیا

کسی کی راہ میں آنے کی یہ بھی صورت ہے کہ سایہ کے لیے دیوار ہو لیا جائے

Explore Similar Collections

Saya FAQs

Saya collection me kya milega?

Saya se related curated sher, selected ghazal excerpts aur context-friendly reading flow milega.

Kya is page ki links internal hain?

Haan, collection links, writer links aur detail links sab Kuch Alfaaz ke internal routes par map kiye gaye hain.

Collection ko kaise explore karein?

Type filter (Sher/Ghazal/Nazm), featured picks aur similar collections rail use karke fast discovery kar sakte hain.