ریختے کے تمہیں استاد نہیں ہو غالبؔ کہتے ہیں اگلے زمانے میں کوئی میرؔ بھی تھا
Poetry Collection
Rekhta
Rekhta is one of the old names of the Urdu language. Literally, it stands for blending or amalgamation. Since Urdu, as a language, came into being as a result of the blending of many languages, it was called Rekhta. Here you have some shers where this language has been known with its old name--Rekhta.
Total
24
Sher
23
Ghazal
1
Featured Picks
Is collection se writer-diverse top picks for quick reading.
گفتگو ریختے میں ہم سے نہ کر یہ ہماری زبان ہے پیارے
جا پڑے چپ ہو کے جب شہر خموشاں میں نظیرؔ یہ غزل یہ ریختہ یہ شعر خوانی پھر کہاں
ریختہ گوئی کی بنیاد ولیؔ نے ڈالی بعد ازاں خلق کو مرزاؔ سے ہے اور میرؔ سے فیض
قائمؔ جو کہیں ہیں فارسی یار اس سے تو یہ ریختہ ہے بہتر
ریختہ کے قصر کی بنیاد اٹھائی اے نصیرؔ کام ہے ملک سخن میں صاحب مقدور کا
اک بات کہیں گے انشاؔ جی تمہیں ریختہ کہتے عمر ہوئی تم ایک جہاں کا علم پڑھے کوئی میرؔ سا شعر کہا تم نے
کیوں نہ آ کر اس کے سننے کو کریں سب یار بھیڑ آبروؔ یہ ریختہ تو نیں کہا ہے دھوم کا
پڑھتے پھریں گے گلیوں میں ان ریختوں کو لوگ مدت رہیں گی یاد یہ باتیں ہماریاں
جو یہ کہے کہ ریختہ کیونکے ہو رشک فارسی گفتۂ غالبؔ ایک بار پڑھ کے اسے سنا کہ یوں
کیا ریختہ کم ہے مصحفیؔ کا بو آتی ہے اس میں فارسی کی
قائم میں غزل طور کیا ریختہ ورنہ اک بات لچر سی بزبان دکنی تھی
آنکھیں نہ چرا مصحفیٔؔ ریختہ گو سے اک عمر سے تیرا ہے ثنا خوان ادھر دیکھ
قائمؔ میں ریختہ کو دیا خلعت قبول ورنہ یہ پیش اہل ہنر کیا کمال تھا
جب سے معنی بندی کا چرچا ہوا اے مصحفیؔ خلطے میں جاتا رہا حسن زبان ریختہ
مصحفیؔ گرچہ یہ سب کہتے ہیں ہم سے بہتر اپنی پر ریختہ گوئی کی زباں اور ہی ہے
ریختے کے تمہیں استاد نہیں ہو غالبؔ کہتے ہیں اگلے زمانے میں کوئی میرؔ بھی تھا
گفتگو ریختے میں ہم سے نہ کر یہ ہماری زبان ہے پیارے
اب نہ غالبؔ سے شکایت ہے نہ شکوہ میرؔ کا بن گیا میں بھی نشانہ ریختہ کے تیر کا
جو یہ کہے کہ ریختہ کیونکے ہو رشک فارسی گفتۂ غالبؔ ایک بار پڑھ کے اسے سنا کہ یوں
یار کے آگے پڑھا یہ ریختہ جا کر نظیرؔ سن کے بولا واہ واہ اچھا کہا اچھا کہا
ریختہ گوئی کی بنیاد ولیؔ نے ڈالی بعد ازاں خلق کو مرزاؔ سے ہے اور میرؔ سے فیض
قائمؔ جو کہیں ہیں فارسی یار اس سے تو یہ ریختہ ہے بہتر
کیا ریختہ کم ہے مصحفیؔ کا بو آتی ہے اس میں فارسی کی
قائم میں غزل طور کیا ریختہ ورنہ اک بات لچر سی بزبان دکنی تھی
اے مصحفیؔ استاد فن ریختہ گوئی تجھ سا کوئی عالم کو میں چھانا نہیں ملتا
آنکھیں نہ چرا مصحفیٔؔ ریختہ گو سے اک عمر سے تیرا ہے ثنا خوان ادھر دیکھ
اک بات کہیں گے انشاؔ جی تمہیں ریختہ کہتے عمر ہوئی تم ایک جہاں کا علم پڑھے کوئی میرؔ سا شعر کہا تم نے
پیچ دے دے لفظ و معنی کو بناتے ہیں کلفت اور وہ پھر اس پہ رکھتے ہیں گمان ریختہ
جب سے معنی بندی کا چرچا ہوا اے مصحفیؔ خلطے میں جاتا رہا حسن زبان ریختہ
مصحفیؔ گرچہ یہ سب کہتے ہیں ہم سے بہتر اپنی پر ریختہ گوئی کی زباں اور ہی ہے
طبع کہہ اور غزل، ہے یہ نظیریؔ کا جواب ریختہ یہ جو پڑھا قابل اظہار نہ تھا
You have reached the end.
Explore Similar Collections
Rekhta FAQs
Rekhta collection me kya milega?
Rekhta se related curated sher, selected ghazal excerpts aur context-friendly reading flow milega.
Kya is page ki links internal hain?
Haan, collection links, writer links aur detail links sab Kuch Alfaaz ke internal routes par map kiye gaye hain.
Collection ko kaise explore karein?
Type filter (Sher/Ghazal/Nazm), featured picks aur similar collections rail use karke fast discovery kar sakte hain.