کیسے کہیں کہ تجھ کو بھی ہم سے ہے واسطہ کوئی تو نے تو ہم سے آج تک کوئی گلہ نہیں کیا
Poetry Collection
Shikwa
A lamp burns all night and spreads its light silently. No one cares what the lamp suffers through to spread that light. No one even bothers to think about how it faces the dark night to do what it is destined to do. Poets have used the lamp as a strong metaphor in their poetry. They have also elaborated the symbolic relationship between the moth and itself and in this process, they have commented upon the philosophy of life itself that is characterized both by deprivation and fulfillment.
Total
60
Sher
50
Ghazal
10
Featured Picks
Is collection se writer-diverse top picks for quick reading.
گلا بھی تجھ سے بہت ہے مگر محبت بھی وہ بات اپنی جگہ ہے یہ بات اپنی جگہ
زندگی سے یہی گلہ ہے مجھے تو بہت دیر سے ملا ہے مجھے
کب وہ سنتا ہے کہانی میری اور پھر وہ بھی زبانی میری
شکوہ کوئی دریا کی روانی سے نہیں ہے رشتہ ہی مری پیاس کا پانی سے نہیں ہے
رات آ کر گزر بھی جاتی ہے اک ہماری سحر نہیں ہوتی
سر اگر سر ہے تو نیزوں سے شکایت کیسی دل اگر دل ہے تو دریا سے بڑا ہونا ہے
محبت ہی میں ملتے ہیں شکایت کے مزے پیہم محبت جتنی بڑھتی ہے، شکایت ہوتی جاتی ہے
کوئی چراغ جلاتا نہیں سلیقے سے مگر سبھی کو شکایت ہوا سے ہوتی ہے
سنے گا کون میری چاک دامانی کا افسانہ یہاں سب اپنے اپنے پیرہن کی بات کرتے ہیں
صاف انکار اگر ہو تو تسلی ہو جائے جھوٹے وعدوں سے ترے رنج سوا ہوتا ہے
ہاں انہیں لوگوں سے دنیا میں شکایت ہے ہمیں ہاں وہی لوگ جو اکثر ہمیں یاد آئے ہیں
ہمارے عشق میں رسوا ہوئے تم مگر ہم تو تماشا ہو گئے ہیں
وہ کریں بھی تو کن الفاظ میں تیرا شکوہ جن کو تیری نگہ لطف نے برباد کیا
کس منہ سے کریں ان کے تغافل کی شکایت خود ہم کو محبت کا سبق یاد نہیں ہے
ہم کو آپس میں محبت نہیں کرنے دیتے اک یہی عیب ہے اس شہر کے داناؤں میں
سر محشر یہی پوچھوں گا خدا سے پہلے تو نے روکا بھی تھا بندے کو خطا سے پہلے
دل کی تکلیف کم نہیں کرتے اب کوئی شکوہ ہم نہیں کرتے
کیا وہ نمرود کی خدائی تھی بندگی میں مرا بھلا نہ ہوا
ہم عجب ہیں کہ اس کی باہوں میں شکوۂ نارسائی کرتے ہیں
کیسے کہیں کہ تجھ کو بھی ہم سے ہے واسطہ کوئی تو نے تو ہم سے آج تک کوئی گلہ نہیں کیا
گلا بھی تجھ سے بہت ہے مگر محبت بھی وہ بات اپنی جگہ ہے یہ بات اپنی جگہ
زندگی سے یہی گلہ ہے مجھے تو بہت دیر سے ملا ہے مجھے
دل کی تکلیف کم نہیں کرتے اب کوئی شکوہ ہم نہیں کرتے
بڑا مزہ ہو جو محشر میں ہم کریں شکوہ وہ منتوں سے کہیں چپ رہو خدا کے لیے
شکوہ کوئی دریا کی روانی سے نہیں ہے رشتہ ہی مری پیاس کا پانی سے نہیں ہے
آرزو حسرت اور امید شکایت آنسو اک ترا ذکر تھا اور بیچ میں کیا کیا نکلا
سر اگر سر ہے تو نیزوں سے شکایت کیسی دل اگر دل ہے تو دریا سے بڑا ہونا ہے
کیوں ہجر کے شکوے کرتا ہے کیوں درد کے رونے روتا ہے اب عشق کیا تو صبر بھی کر اس میں تو یہی کچھ ہوتا ہے
کہنے دیتی نہیں کچھ منہ سے محبت میری لب پہ رہ جاتی ہے آ آ کے شکایت میری
سنے گا کون میری چاک دامانی کا افسانہ یہاں سب اپنے اپنے پیرہن کی بات کرتے ہیں
چپ رہو تو پوچھتا ہے خیر ہے لو خموشی بھی شکایت ہو گئی
ہاں انہیں لوگوں سے دنیا میں شکایت ہے ہمیں ہاں وہی لوگ جو اکثر ہمیں یاد آئے ہیں
ان کا غم ان کا تصور ان کے شکوے اب کہاں اب تو یہ باتیں بھی اے دل ہو گئیں آئی گئی
ہمارے عشق میں رسوا ہوئے تم مگر ہم تو تماشا ہو گئے ہیں
وہ کریں بھی تو کن الفاظ میں تیرا شکوہ جن کو تیری نگہ لطف نے برباد کیا
کس منہ سے کریں ان کے تغافل کی شکایت خود ہم کو محبت کا سبق یاد نہیں ہے
ہم کو آپس میں محبت نہیں کرنے دیتے اک یہی عیب ہے اس شہر کے داناؤں میں
صرف شکوے دکھ رہے ہیں یہ نہیں دکھتا تجھے تجھ سے شکوے رکھنے والا تیرا دیوانہ بھی ہے
سر محشر یہی پوچھوں گا خدا سے پہلے تو نے روکا بھی تھا بندے کو خطا سے پہلے
Explore Similar Collections
Shikwa FAQs
Shikwa collection me kya milega?
Shikwa se related curated sher, selected ghazal excerpts aur context-friendly reading flow milega.
Kya is page ki links internal hain?
Haan, collection links, writer links aur detail links sab Kuch Alfaaz ke internal routes par map kiye gaye hain.
Collection ko kaise explore karein?
Type filter (Sher/Ghazal/Nazm), featured picks aur similar collections rail use karke fast discovery kar sakte hain.