Poetry Collection

Shikwa

A lamp burns all night and spreads its light silently. No one cares what the lamp suffers through to spread that light. No one even bothers to think about how it faces the dark night to do what it is destined to do. Poets have used the lamp as a strong metaphor in their poetry. They have also elaborated the symbolic relationship between the moth and itself and in this process, they have commented upon the philosophy of life itself that is characterized both by deprivation and fulfillment.

Total

60

Sher

50

Ghazal

10

Featured Picks

Is collection se writer-diverse top picks for quick reading.

کیسے کہیں کہ تجھ کو بھی ہم سے ہے واسطہ کوئی تو نے تو ہم سے آج تک کوئی گلہ نہیں کیا

گلا بھی تجھ سے بہت ہے مگر محبت بھی وہ بات اپنی جگہ ہے یہ بات اپنی جگہ

زندگی سے یہی گلہ ہے مجھے تو بہت دیر سے ملا ہے مجھے

کب وہ سنتا ہے کہانی میری اور پھر وہ بھی زبانی میری

شکوہ کوئی دریا کی روانی سے نہیں ہے رشتہ ہی مری پیاس کا پانی سے نہیں ہے

سر اگر سر ہے تو نیزوں سے شکایت کیسی دل اگر دل ہے تو دریا سے بڑا ہونا ہے

محبت ہی میں ملتے ہیں شکایت کے مزے پیہم محبت جتنی بڑھتی ہے، شکایت ہوتی جاتی ہے

کوئی چراغ جلاتا نہیں سلیقے سے مگر سبھی کو شکایت ہوا سے ہوتی ہے

سنے گا کون میری چاک دامانی کا افسانہ یہاں سب اپنے اپنے پیرہن کی بات کرتے ہیں

ہاں انہیں لوگوں سے دنیا میں شکایت ہے ہمیں ہاں وہی لوگ جو اکثر ہمیں یاد آئے ہیں

~ Rahi Masoom Raza

ہمارے عشق میں رسوا ہوئے تم مگر ہم تو تماشا ہو گئے ہیں

وہ کریں بھی تو کن الفاظ میں تیرا شکوہ جن کو تیری نگہ لطف نے برباد کیا

کس منہ سے کریں ان کے تغافل کی شکایت خود ہم کو محبت کا سبق یاد نہیں ہے

ہم کو آپس میں محبت نہیں کرنے دیتے اک یہی عیب ہے اس شہر کے داناؤں میں

سر محشر یہی پوچھوں گا خدا سے پہلے تو نے روکا بھی تھا بندے کو خطا سے پہلے

دل کی تکلیف کم نہیں کرتے اب کوئی شکوہ ہم نہیں کرتے

کیا وہ نمرود کی خدائی تھی بندگی میں مرا بھلا نہ ہوا

ہم عجب ہیں کہ اس کی باہوں میں شکوۂ نارسائی کرتے ہیں

کیسے کہیں کہ تجھ کو بھی ہم سے ہے واسطہ کوئی تو نے تو ہم سے آج تک کوئی گلہ نہیں کیا

گلا بھی تجھ سے بہت ہے مگر محبت بھی وہ بات اپنی جگہ ہے یہ بات اپنی جگہ

زندگی سے یہی گلہ ہے مجھے تو بہت دیر سے ملا ہے مجھے

دل کی تکلیف کم نہیں کرتے اب کوئی شکوہ ہم نہیں کرتے

بڑا مزہ ہو جو محشر میں ہم کریں شکوہ وہ منتوں سے کہیں چپ رہو خدا کے لیے

شکوہ کوئی دریا کی روانی سے نہیں ہے رشتہ ہی مری پیاس کا پانی سے نہیں ہے

آرزو حسرت اور امید شکایت آنسو اک ترا ذکر تھا اور بیچ میں کیا کیا نکلا

سر اگر سر ہے تو نیزوں سے شکایت کیسی دل اگر دل ہے تو دریا سے بڑا ہونا ہے

کیوں ہجر کے شکوے کرتا ہے کیوں درد کے رونے روتا ہے اب عشق کیا تو صبر بھی کر اس میں تو یہی کچھ ہوتا ہے

کہنے دیتی نہیں کچھ منہ سے محبت میری لب پہ رہ جاتی ہے آ آ کے شکایت میری

سنے گا کون میری چاک دامانی کا افسانہ یہاں سب اپنے اپنے پیرہن کی بات کرتے ہیں

ہاں انہیں لوگوں سے دنیا میں شکایت ہے ہمیں ہاں وہی لوگ جو اکثر ہمیں یاد آئے ہیں

~ Rahi Masoom Raza

ان کا غم ان کا تصور ان کے شکوے اب کہاں اب تو یہ باتیں بھی اے دل ہو گئیں آئی گئی

ہمارے عشق میں رسوا ہوئے تم مگر ہم تو تماشا ہو گئے ہیں

وہ کریں بھی تو کن الفاظ میں تیرا شکوہ جن کو تیری نگہ لطف نے برباد کیا

کس منہ سے کریں ان کے تغافل کی شکایت خود ہم کو محبت کا سبق یاد نہیں ہے

ہم کو آپس میں محبت نہیں کرنے دیتے اک یہی عیب ہے اس شہر کے داناؤں میں

صرف شکوے دکھ رہے ہیں یہ نہیں دکھتا تجھے تجھ سے شکوے رکھنے والا تیرا دیوانہ بھی ہے

سر محشر یہی پوچھوں گا خدا سے پہلے تو نے روکا بھی تھا بندے کو خطا سے پہلے

Explore Similar Collections

Shikwa FAQs

Shikwa collection me kya milega?

Shikwa se related curated sher, selected ghazal excerpts aur context-friendly reading flow milega.

Kya is page ki links internal hain?

Haan, collection links, writer links aur detail links sab Kuch Alfaaz ke internal routes par map kiye gaye hain.

Collection ko kaise explore karein?

Type filter (Sher/Ghazal/Nazm), featured picks aur similar collections rail use karke fast discovery kar sakte hain.