اور بھی دکھ ہیں زمانے میں محبت کے سوا راحتیں اور بھی ہیں وصل کی راحت کے سوا
Poetry Collection
Sukoon
Human beings naturally crave for a moment of peace and tranquility. It is, however, a moment that slips out quite often and we remain in a constant state of craving. This selection opens up various shades of this condition that evades us and brings us close to pining, disappointment, and dejection. You may like to have a look at the selection of verses on this subject.
Total
20
Sher
20
Featured Picks
Is collection se writer-diverse top picks for quick reading.
ہم کو نہ مل سکا تو فقط اک سکون دل اے زندگی وگرنہ زمانے میں کیا نہ تھا
نہ جانے روٹھ کے بیٹھا ہے دل کا چین کہاں ملے تو اس کو ہمارا کوئی سلام کہے
نام ہونٹوں پہ ترا آئے تو راحت سی ملے تو تسلی ہے دلاسہ ہے دعا ہے کیا ہے
سکون دل کے لیے عشق تو بہانہ تھا وگرنہ تھک کے کہیں تو ٹھہر ہی جانا تھا
مے کدہ ہے یہاں سکوں سے بیٹھ کوئی آفت ادھر نہیں آتی
کس نے پایا سکون دنیا میں زندگانی کا سامنا کر کے
یہ کس عذاب میں چھوڑا ہے تو نے اس دل کو سکون یاد میں تیری نہ بھولنے میں قرار
بڑے سکون سے افسردگی میں رہتا ہوں میں اپنے سامنے والی گلی میں رہتا ہوں
سکون دل جہان بیش و کم میں ڈھونڈنے والے یہاں ہر چیز ملتی ہے سکون دل نہیں ملتا
کسے خبر کہ اہل غم سکون کی تلاش میں شراب کی طرف گئے شراب کے لیے نہیں
موت کی گود میں جب تک نہیں تو سو جاتا تو صداؔ چین سے ہرگز نہیں سونے والا
خواب سارے تکیے پہ چین کی ہوں سوتے نیند میرؔ جی کے جیسا ہی روگ ہم نے پالا ہو
غم ہے تو کوئی لطف نہیں بستر گل پر جی خوش ہے تو کانٹوں پہ بھی آرام بہت ہے
اور بھی دکھ ہیں زمانے میں محبت کے سوا راحتیں اور بھی ہیں وصل کی راحت کے سوا
ہم کو نہ مل سکا تو فقط اک سکون دل اے زندگی وگرنہ زمانے میں کیا نہ تھا
نہ جانے روٹھ کے بیٹھا ہے دل کا چین کہاں ملے تو اس کو ہمارا کوئی سلام کہے
نام ہونٹوں پہ ترا آئے تو راحت سی ملے تو تسلی ہے دلاسہ ہے دعا ہے کیا ہے
سکون دل کے لیے عشق تو بہانہ تھا وگرنہ تھک کے کہیں تو ٹھہر ہی جانا تھا
مے کدہ ہے یہاں سکوں سے بیٹھ کوئی آفت ادھر نہیں آتی
منزل پہ بھی پہنچ کے میسر نہیں سکوں مجبور اس قدر ہیں شعور سفر سے ہم
کس نے پایا سکون دنیا میں زندگانی کا سامنا کر کے
دل کی ضد اس لئے رکھ لی تھی کہ آ جائے قرار کل یہ کچھ اور کہے گا مجھے معلوم نہ تھا
بڑے سکون سے افسردگی میں رہتا ہوں میں اپنے سامنے والی گلی میں رہتا ہوں
ملا نہ گھر سے نکل کر بھی چین اے زاہدؔ کھلی فضا میں وہی زہر تھا جو گھر میں تھا
کسے خبر کہ اہل غم سکون کی تلاش میں شراب کی طرف گئے شراب کے لیے نہیں
اک پل کو بھی سکون نہ حاصل ہوا وہاں شہروں سے اچھا گاؤں کا چھپر لگا مجھے
خواب سارے تکیے پہ چین کی ہوں سوتے نیند میرؔ جی کے جیسا ہی روگ ہم نے پالا ہو
You have reached the end.
Explore Similar Collections
Sukoon FAQs
Sukoon collection me kya milega?
Sukoon se related curated sher, selected ghazal excerpts aur context-friendly reading flow milega.
Kya is page ki links internal hain?
Haan, collection links, writer links aur detail links sab Kuch Alfaaz ke internal routes par map kiye gaye hain.
Collection ko kaise explore karein?
Type filter (Sher/Ghazal/Nazm), featured picks aur similar collections rail use karke fast discovery kar sakte hain.