تر دامنی پہ شیخ ہماری نہ جائیو دامن نچوڑ دیں تو فرشتے وضو کریں
Poetry Collection
Tasawwuf
Tasavvuf, or mysticism, has been one of the most popular subjects of study, especially in the philosophy and literatures of the Orient. It relates with the divine whom one reaches through multiple routes. While Sufi poets and writers have pondered closely over these, others too have developed their own perspectives on tasavvuf. The following verses would bring you close to their understanding of these aspects.
Total
83
Sher
42
Ghazal
41
Featured Picks
Is collection se writer-diverse top picks for quick reading.
بس جان گیا میں تری پہچان یہی ہے تو دل میں تو آتا ہے سمجھ میں نہیں آتا
زحال مسکیں مکن تغافل دوراے نیناں بنائے بتیاں کہ تاب ہجراں ندارم اے جاں نہ لیہو کاہے لگائے چھتیاں
خبر تحیر عشق سن نہ جنوں رہا نہ پری رہی نہ تو تو رہا نہ تو میں رہا جو رہی سو بے خبری رہی
ہر تمنا دل سے رخصت ہو گئی اب تو آ جا اب تو خلوت ہو گئی
دل ہر قطرہ ہے ساز انا البحر ہم اس کے ہیں ہمارا پوچھنا کیا
دریا سے موج موج سے دریا جدا نہیں ہم سے جدا نہیں ہے خدا اور خدا سے ہم
تو ہی ظاہر ہے تو ہی باطن ہے تو ہی تو ہے تو میں کہاں تک ہوں
کریں ہم کس کی پوجا اور چڑھائیں کس کو چندن ہم صنم ہم دیر ہم بت خانہ ہم بت ہم برہمن ہم
ہیں وہ صوفی جو کبھی نالۂ ناقوس سنا وجد کرنے لگے ہم دل کا عجب حال ہوا
دونوں عالم سے وہ بیگانہ نظر آتا ہے جو ترے عشق میں دیوانہ نظر آتا ہے
کارخانہ ہے اسی حسن کا عالم سارا بس جدھر اس نے لگایا ہے ادھر لگ گئے ہیں
مرا سر کٹ کے مقتل میں گرے قاتل کے قدموں پر دم آخر ادا یوں سجدۂ شکرانہ ہو جائے
ہے غلط گر گمان میں کچھ ہے تجھ سوا بھی جہان میں کچھ ہے
ارض و سما کہاں تری وسعت کو پا سکے میرا ہی دل ہے وہ کہ جہاں تو سما سکے
شبان ہجراں دراز چوں زلف روز وصلت چو عمر کوتاہ سکھی پیا کو جو میں نہ دیکھوں تو کیسے کاٹوں اندھیری رتیاں
کہہ سکے کون کہ یہ جلوہ گری کس کی ہے پردہ چھوڑا ہے وہ اس نے کہ اٹھائے نہ بنے
تھا مستعار حسن سے اس کے جو نور تھا خورشید میں بھی اس ہی کا ذرہ ظہور تھا
اتنا تو جانتے ہیں کہ عاشق فنا ہوا اور اس سے آگے بڑھ کے خدا جانے کیا ہوا
بجلی ترے جلووں کی گر جائے کبھی مجھ پر اے جان مری ہستی اس آگ میں جل جائے
تر دامنی پہ شیخ ہماری نہ جائیو دامن نچوڑ دیں تو فرشتے وضو کریں
بس جان گیا میں تری پہچان یہی ہے تو دل میں تو آتا ہے سمجھ میں نہیں آتا
ظاہر کی آنکھ سے نہ تماشا کرے کوئی ہو دیکھنا تو دیدۂ دل وا کرے کوئی
زحال مسکیں مکن تغافل دوراے نیناں بنائے بتیاں کہ تاب ہجراں ندارم اے جاں نہ لیہو کاہے لگائے چھتیاں
خبر تحیر عشق سن نہ جنوں رہا نہ پری رہی نہ تو تو رہا نہ تو میں رہا جو رہی سو بے خبری رہی
ارض و سما کہاں تری وسعت کو پا سکے میرا ہی دل ہے وہ کہ جہاں تو سما سکے
جان سے ہو گئے بدن خالی جس طرف تو نے آنکھ بھر دیکھا
تماشائے دیر و حرم دیکھتے ہیں تجھے ہر بہانے سے ہم دیکھتے ہیں
دل ہر قطرہ ہے ساز انا البحر ہم اس کے ہیں ہمارا پوچھنا کیا
کہہ سکے کون کہ یہ جلوہ گری کس کی ہے پردہ چھوڑا ہے وہ اس نے کہ اٹھائے نہ بنے
تھا مستعار حسن سے اس کے جو نور تھا خورشید میں بھی اس ہی کا ذرہ ظہور تھا
دریا سے موج موج سے دریا جدا نہیں ہم سے جدا نہیں ہے خدا اور خدا سے ہم
فریب جلوہ کہاں تک بروئے کار رہے نقاب اٹھاؤ کہ کچھ دن ذرا بہار رہے
کریں ہم کس کی پوجا اور چڑھائیں کس کو چندن ہم صنم ہم دیر ہم بت خانہ ہم بت ہم برہمن ہم
ان آنکھوں کو جب سے بصارت ملی ہے سوا تیرے کچھ میں نے دیکھا نہیں ہے
دونوں عالم سے وہ بیگانہ نظر آتا ہے جو ترے عشق میں دیوانہ نظر آتا ہے
تمام ہوش کی دنیا نثار ہے اس پر تری گلی میں جسے نیند آ گئی ہوگی
نہ دیر میں نہ حرم میں جبیں جھکی ہوگی تمہارے در پہ ادا میری بندگی ہوگی
اتنا تو جانتے ہیں کہ عاشق فنا ہوا اور اس سے آگے بڑھ کے خدا جانے کیا ہوا
بجلی ترے جلووں کی گر جائے کبھی مجھ پر اے جان مری ہستی اس آگ میں جل جائے
Explore Similar Collections
Tasawwuf FAQs
Tasawwuf collection me kya milega?
Tasawwuf se related curated sher, selected ghazal excerpts aur context-friendly reading flow milega.
Kya is page ki links internal hain?
Haan, collection links, writer links aur detail links sab Kuch Alfaaz ke internal routes par map kiye gaye hain.
Collection ko kaise explore karein?
Type filter (Sher/Ghazal/Nazm), featured picks aur similar collections rail use karke fast discovery kar sakte hain.