کوئی ویرانی سی ویرانی ہے دشت کو دیکھ کے گھر یاد آیا
Poetry Collection
Virani
Verses selected under this title represent various facets of human existence at personal, social, and universal levels. Existence in itself is a philosophical subject of inquiry. However, the poets too have reflected upon the meaning of existence in larger contexts. You may like to reflect on these verses that are themselves the keen results of poets’ reflections on the world and the human existence.
Total
24
Sher
24
Featured Picks
Is collection se writer-diverse top picks for quick reading.
دل کی ویرانی کا کیا مذکور ہے یہ نگر سو مرتبہ لوٹا گیا
دل پر دستک دینے کون آ نکلا ہے کس کی آہٹ سنتا ہوں ویرانے میں
صحرا کو بہت ناز ہے ویرانی پہ اپنی واقف نہیں شاید مرے اجڑے ہوئے گھر سے
ہم سے کہتے ہیں چمن والے غریبان چمن تم کوئی اچھا سا رکھ لو اپنے ویرانے کا نام
بستیاں کچھ ہوئیں ویران تو ماتم کیسا کچھ خرابے بھی تو آباد ہوا کرتے ہیں
وہ کام رہ کے کرنا پڑا شہر میں ہمیں مجنوں کو جس کے واسطے ویرانہ چاہیے
میری بربادی میں حصہ ہے اپنوں کا ممکن ہے یہ بات غلط ہو پر لگتا ہے
کس نے آباد کیا ہے مری ویرانی کو عشق نے؟ عشق تو بیمار پڑا ہے مجھ میں
دور تک دل میں دکھائی نہیں دیتا کوئی ایسے ویرانے میں اب کس کو صدا دی جائے
تنہائی کی دلہن اپنی مانگ سجائے بیٹھی ہے ویرانی آباد ہوئی ہے اجڑے ہوئے درختوں میں
میں وہ بستی ہوں کہ یاد رفتگاں کے بھیس میں دیکھنے آتی ہے اب میری ہی ویرانی مجھے
فرق نہیں پڑتا ہم دیوانوں کے گھر میں ہونے سے ویرانی امڈی پڑتی ہے گھر کے کونے کونے سے
اندر سے میں ٹوٹا پھوٹا ایک کھنڈر ویرانہ تھا ظاہر جو تعمیر نہ ہوتی تو میں یارو کیا کرتا
گھر میں تھا کیا کہ ترا غم اسے غارت کرتا وہ جو رکھتے تھے ہم اک حسرت تعمیر سو ہے
بنا رکھی ہیں دیواروں پہ تصویریں پرندوں کی وگرنہ ہم تو اپنے گھر کی ویرانی سے مر جائیں
کوئی ویرانی سی ویرانی ہے دشت کو دیکھ کے گھر یاد آیا
دل کی ویرانی کا کیا مذکور ہے یہ نگر سو مرتبہ لوٹا گیا
دل پر دستک دینے کون آ نکلا ہے کس کی آہٹ سنتا ہوں ویرانے میں
صحرا کو بہت ناز ہے ویرانی پہ اپنی واقف نہیں شاید مرے اجڑے ہوئے گھر سے
اتنی ساری یادوں کے ہوتے بھی جب دل میں ویرانی ہوتی ہے تو حیرانی ہوتی ہے
ہم سے کہتے ہیں چمن والے غریبان چمن تم کوئی اچھا سا رکھ لو اپنے ویرانے کا نام
بستیاں کچھ ہوئیں ویران تو ماتم کیسا کچھ خرابے بھی تو آباد ہوا کرتے ہیں
تمہارے رنگ پھیکے پڑ گئے ناں؟ مری آنکھوں کی ویرانی کے آگے
میری بربادی میں حصہ ہے اپنوں کا ممکن ہے یہ بات غلط ہو پر لگتا ہے
ختم ہونے کو ہیں اشکوں کے ذخیرے بھی جمالؔ روئے کب تک کوئی اس شہر کی ویرانی پر
دور تک دل میں دکھائی نہیں دیتا کوئی ایسے ویرانے میں اب کس کو صدا دی جائے
بستی بستی پربت پربت وحشت کی ہے دھوپ ضیاؔ چاروں جانب ویرانی ہے دل کا اک ویرانہ کیا
میں وہ بستی ہوں کہ یاد رفتگاں کے بھیس میں دیکھنے آتی ہے اب میری ہی ویرانی مجھے
نہ ہم وحشت میں اپنے گھر سے نکلے نہ صحرا اپنی ویرانی سے نکلا
دو جیون تاراج ہوئے تب پوری ہوئی بات کیسا پھول کھلا ہے اور کیسی ویرانی میں
اندر سے میں ٹوٹا پھوٹا ایک کھنڈر ویرانہ تھا ظاہر جو تعمیر نہ ہوتی تو میں یارو کیا کرتا
You have reached the end.
Explore Similar Collections
Virani FAQs
Virani collection me kya milega?
Virani se related curated sher, selected ghazal excerpts aur context-friendly reading flow milega.
Kya is page ki links internal hain?
Haan, collection links, writer links aur detail links sab Kuch Alfaaz ke internal routes par map kiye gaye hain.
Collection ko kaise explore karein?
Type filter (Sher/Ghazal/Nazm), featured picks aur similar collections rail use karke fast discovery kar sakte hain.