اور بھی دکھ ہیں زمانے میں محبت کے سوا راحتیں اور بھی ہیں وصل کی راحت کے سوا
Poetry Collection
Visaal
We all nurse a desire for union but desires would not to be desires if they were fulfilled. In poetry, a lover lives with the burning desire for union which remains unfulfilled at large. Here, we have collected some verses that narrate the told and untold stories of separation and union. There are certain turns here that will take you by surprise.
Total
58
Sher
50
Ghazal
8
Featured Picks
Is collection se writer-diverse top picks for quick reading.
یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصال یار ہوتا اگر اور جیتے رہتے یہی انتظار ہوتا
چند کلیاں نشاط کی چن کر مدتوں محو یاس رہتا ہوں تیرا ملنا خوشی کی بات سہی تجھ سے مل کر اداس رہتا ہوں
جان لیوا تھیں خواہشیں ورنہ وصل سے انتظار اچھا تھا
شب وصال ہے گل کر دو ان چراغوں کو خوشی کی بزم میں کیا کام جلنے والوں کا
شبِ وصال یعنی محبوب سے ملاقات کی رات۔ گل کرنا یعنی بجھا دینا۔ اس شعر میں شبِ وصال کی مناسبت سے چراغ اور چراغ کی مناسبت سے گل کرنا۔ اور ’خوشی کی بزم میں‘ کی رعایت سے جلنے والے داغ دہلوی کی مضمون آفرینی کی عمدہ مثال ہے۔ شعر میں کئی کردار ہیں۔ ایک شعری کردار، دوسرا وہ( ایک یا بہت سے) جن سے شعری کردار مخاطب ہے۔ شعر میں جو طنز یہ لہجہ ہے اس نے مجموعی صورت حال کو مزید دلچسپ بنا دیا ہے۔اور جب ’ان چراغوں کو‘ کہا تو گویا کچھ مخصوص چراغوں کی طرف اشارہ کیا۔ شعر کے قریب کے معنی تو یہ ہیں کہ عاشق و معشوق کے ملن کی رات ہے، اس لئے چراغوں کو بجھا دو کیونکہ ایسی راتوں میں جلنے والوں کا کام نہیں۔ چراغ بجھانے کی ایک وجہ یہ بھی ہوسکتی تھی کہ ملن کی رات میں جو بھی ہو وہ پردے میں رہے مگر جب یہ کہا کہ جلنے والوں کا کیا کام ہے تو شعر کا مفہوم ہی بدل دیا۔ دراصل جلنے والے استعارہ ہیں ان لوگوں کا جو شعری کردار اور اس کے محبوب کے ملن پر جلتے ہیں اور حسد کرتے ہیں۔ اسی لئے کہا ہے کہ ان حسد کرنے والوں کو اس بزم سے اٹھا دو۔
سو چاند بھی چمکیں گے تو کیا بات بنے گی تم آئے تو اس رات کی اوقات بنے گی
ذرا وصال کے بعد آئنہ تو دیکھ اے دوست ترے جمال کی دوشیزگی نکھر آئی
وصل میں رنگ اڑ گیا میرا کیا جدائی کو منہ دکھاؤں گا
اوس سے پیاس کہاں بجھتی ہے موسلا دھار برس میری جان
فرازؔ عشق کی دنیا تو خوبصورت تھی یہ کس نے فتنۂ ہجر و وصال رکھا ہے
گزرنے ہی نہ دی وہ رات میں نے گھڑی پر رکھ دیا تھا ہاتھ میں نے
وہ گلے سے لپٹ کے سوتے ہیں آج کل گرمیاں ہیں جاڑوں میں
آرزو وصل کی رکھتی ہے پریشاں کیا کیا کیا بتاؤں کہ میرے دل میں ہے ارماں کیا کیا
میں سمجھتا ہوں کہ ہے جنت و دوزخ کیا چیز ایک ہے وصل ترا ایک ہے فرقت تیری
ارمان وصل کا مری نظروں سے تاڑ کے پہلے ہی سے وہ بیٹھ گئے منہ بگاڑ کے
کہاں ہم کہاں وصل جاناں کی حسرتؔ بہت ہے انہیں اک نظر دیکھ لینا
دھڑکتی قربتوں کے خواب سے جاگے تو جانا ذرا سے وصل نے کتنا اکیلا کر دیا ہے
وصال یار کی خواہش میں اکثر چراغ شام سے پہلے جلا ہوں
یہ آرزو بھی بڑی چیز ہے مگر ہم دم وصال یار فقط آرزو کی بات نہیں
پھر بیٹھے بیٹھے وعدۂ وصل اس نے کر لیا پھر اٹھ کھڑا ہوا وہی روگ انتظار کا
اور بھی دکھ ہیں زمانے میں محبت کے سوا راحتیں اور بھی ہیں وصل کی راحت کے سوا
یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصال یار ہوتا اگر اور جیتے رہتے یہی انتظار ہوتا
نہیں نگاہ میں منزل تو جستجو ہی سہی نہیں وصال میسر تو آرزو ہی سہی
چند کلیاں نشاط کی چن کر مدتوں محو یاس رہتا ہوں تیرا ملنا خوشی کی بات سہی تجھ سے مل کر اداس رہتا ہوں
وصل کا دن اور اتنا مختصر دن گنے جاتے تھے اس دن کے لیے
شب وصال ہے گل کر دو ان چراغوں کو خوشی کی بزم میں کیا کام جلنے والوں کا
شبِ وصال یعنی محبوب سے ملاقات کی رات۔ گل کرنا یعنی بجھا دینا۔ اس شعر میں شبِ وصال کی مناسبت سے چراغ اور چراغ کی مناسبت سے گل کرنا۔ اور ’خوشی کی بزم میں‘ کی رعایت سے جلنے والے داغ دہلوی کی مضمون آفرینی کی عمدہ مثال ہے۔ شعر میں کئی کردار ہیں۔ ایک شعری کردار، دوسرا وہ( ایک یا بہت سے) جن سے شعری کردار مخاطب ہے۔ شعر میں جو طنز یہ لہجہ ہے اس نے مجموعی صورت حال کو مزید دلچسپ بنا دیا ہے۔اور جب ’ان چراغوں کو‘ کہا تو گویا کچھ مخصوص چراغوں کی طرف اشارہ کیا۔ شعر کے قریب کے معنی تو یہ ہیں کہ عاشق و معشوق کے ملن کی رات ہے، اس لئے چراغوں کو بجھا دو کیونکہ ایسی راتوں میں جلنے والوں کا کام نہیں۔ چراغ بجھانے کی ایک وجہ یہ بھی ہوسکتی تھی کہ ملن کی رات میں جو بھی ہو وہ پردے میں رہے مگر جب یہ کہا کہ جلنے والوں کا کیا کام ہے تو شعر کا مفہوم ہی بدل دیا۔ دراصل جلنے والے استعارہ ہیں ان لوگوں کا جو شعری کردار اور اس کے محبوب کے ملن پر جلتے ہیں اور حسد کرتے ہیں۔ اسی لئے کہا ہے کہ ان حسد کرنے والوں کو اس بزم سے اٹھا دو۔
سو چاند بھی چمکیں گے تو کیا بات بنے گی تم آئے تو اس رات کی اوقات بنے گی
بھلا ہم ملے بھی تو کیا ملے وہی دوریاں وہی فاصلے نہ کبھی ہمارے قدم بڑھے نہ کبھی تمہاری جھجک گئی
وصل میں رنگ اڑ گیا میرا کیا جدائی کو منہ دکھاؤں گا
وصل ہو یا فراق ہو اکبرؔ جاگنا رات بھر مصیبت ہے
فرازؔ عشق کی دنیا تو خوبصورت تھی یہ کس نے فتنۂ ہجر و وصال رکھا ہے
اس سے ملنے کی خوشی بعد میں دکھ دیتی ہے جشن کے بعد کا سناٹا بہت کھلتا ہے
وہ گلے سے لپٹ کے سوتے ہیں آج کل گرمیاں ہیں جاڑوں میں
تم کہاں وصل کہاں وصل کی امید کہاں دل کے بہکانے کو اک بات بنا رکھی ہے
پھر بیٹھے بیٹھے وعدۂ وصل اس نے کر لیا پھر اٹھ کھڑا ہوا وہی روگ انتظار کا
میں سمجھتا ہوں کہ ہے جنت و دوزخ کیا چیز ایک ہے وصل ترا ایک ہے فرقت تیری
ارمان وصل کا مری نظروں سے تاڑ کے پہلے ہی سے وہ بیٹھ گئے منہ بگاڑ کے
کہاں ہم کہاں وصل جاناں کی حسرتؔ بہت ہے انہیں اک نظر دیکھ لینا
دوست دل رکھنے کو کرتے ہیں بہانے کیا کیا روز جھوٹی خبر وصل سنا جاتے ہیں
دھڑکتی قربتوں کے خواب سے جاگے تو جانا ذرا سے وصل نے کتنا اکیلا کر دیا ہے
Explore Similar Collections
Visaal FAQs
Visaal collection me kya milega?
Visaal se related curated sher, selected ghazal excerpts aur context-friendly reading flow milega.
Kya is page ki links internal hain?
Haan, collection links, writer links aur detail links sab Kuch Alfaaz ke internal routes par map kiye gaye hain.
Collection ko kaise explore karein?
Type filter (Sher/Ghazal/Nazm), featured picks aur similar collections rail use karke fast discovery kar sakte hain.