Poetry Collection

Zindagi

Life is simply indefinable; it presents itself in many more ways than human beings can comprehend. Similarly, the representations of life in poetry are as varied as are our perceptions with regard to life. This small selection of verses on life is only a few of those approaches to human existence which distinguish life for all its splendor and beauty.

Total

86

Sher

50

Ghazal

36

Featured Picks

Is collection se writer-diverse top picks for quick reading.

جو گزاری نہ جا سکی ہم سے ہم نے وہ زندگی گزاری ہے

عمر دراز مانگ کے لائی تھی چار دن دو آرزو میں کٹ گئے دو انتظار میں

سیر کر دنیا کی غافل زندگانی پھر کہاں زندگی گر کچھ رہی تو یہ جوانی پھر کہاں

لے دے کے اپنے پاس فقط اک نظر تو ہے کیوں دیکھیں زندگی کو کسی کی نظر سے ہم

قید حیات و بند غم اصل میں دونوں ایک ہیں موت سے پہلے آدمی غم سے نجات پاے کیوں

زندگی کیا کسی مفلس کی قبا ہے جس میں ہر گھڑی درد کے پیوند لگے جاتے ہیں

اب تو خوشی کا غم ہے نہ غم کی خوشی مجھے بے حس بنا چکی ہے بہت زندگی مجھے

کچھ اس طرح سے گزاری ہے زندگی جیسے تمام عمر کسی دوسرے کے گھر میں رہا

اک معمہ ہے سمجھنے کا نہ سمجھانے کا زندگی کاہے کو ہے خواب ہے دیوانے کا

کس طرح جمع کیجئے اب اپنے آپ کو کاغذ بکھر رہے ہیں پرانی کتاب کے

دیکھا ہے زندگی کو کچھ اتنے قریب سے چہرے تمام لگنے لگے ہیں عجیب سے

دھوپ میں نکلو گھٹاؤں میں نہا کر دیکھو زندگی کیا ہے کتابوں کو ہٹا کر دیکھو

زندگی ایک فن ہے لمحوں کو اپنے انداز سے گنوانے کا

میں زندگی کا ساتھ نبھاتا چلا گیا ہر فکر کو دھوئیں میں اڑاتا چلا گیا

ہر نفس عمر گزشتہ کی ہے میت فانیؔ زندگی نام ہے مر مر کے جئے جانے کا

جو گزاری نہ جا سکی ہم سے ہم نے وہ زندگی گزاری ہے

عمر دراز مانگ کے لائی تھی چار دن دو آرزو میں کٹ گئے دو انتظار میں

سیر کر دنیا کی غافل زندگانی پھر کہاں زندگی گر کچھ رہی تو یہ جوانی پھر کہاں

زندگی کس طرح بسر ہوگی دل نہیں لگ رہا محبت میں

زندگی تو نے مجھے قبر سے کم دی ہے زمیں پاؤں پھیلاؤں تو دیوار میں سر لگتا ہے

زندگی کیا ہے عناصر میں ظہور ترتیب موت کیا ہے انہیں اجزا کا پریشاں ہونا

چکبست کا یہ شعر بہت مشہور ہے۔ غالب نے کیا خوب کہا تھا: ہو گئے مضمحل قویٰ غالبؔ اب عناصر میں اعتدال کہاں انسانی جسم کچھ عناصر کی ترتیب سے تشکیل پاتا ہے۔ حکماء کی نظر میں وہ عناصر آگ، ہوا، مٹی اور پانی ہے۔ ان عناصر میں جب انتشار پیدا ہوتا ہے تو انسانی جسم اپنا توازن کھو بیٹھتا ہے۔یعنی غالب کی زبان میں جب عناصر میں اعتدال نہیں رہتا تو قویٰ یعنی مختلف قوتیں کمزور ہوجاتی ہیں۔ چکبست اسی حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ جب تک انسانی جسم میں عناصر ترتیب کے ساتھ رہتے ہیں آدمی زندہ رہتا ہے۔ اور جب یہ عناصر پریشان ہوجاتے ہیں یعنی ان میں توزن اور اعتدال نہیں رہتا تو موت واقع ہو جاتی ہے۔ شفق سوپوری

اب مری کوئی زندگی ہی نہیں اب بھی تم میری زندگی ہو کیا

دھوپ میں نکلو گھٹاؤں میں نہا کر دیکھو زندگی کیا ہے کتابوں کو ہٹا کر دیکھو

زندگی ایک فن ہے لمحوں کو اپنے انداز سے گنوانے کا

غرض کہ کاٹ دیے زندگی کے دن اے دوست وہ تیری یاد میں ہوں یا تجھے بھلانے میں

اب تو خوشی کا غم ہے نہ غم کی خوشی مجھے بے حس بنا چکی ہے بہت زندگی مجھے

یوں تو مرنے کے لیے زہر سبھی پیتے ہیں زندگی تیرے لیے زہر پیا ہے میں نے

یہی ہے زندگی کچھ خواب چند امیدیں انہیں کھلونوں سے تم بھی بہل سکو تو چلو

اک معمہ ہے سمجھنے کا نہ سمجھانے کا زندگی کاہے کو ہے خواب ہے دیوانے کا

ہر نفس عمر گزشتہ کی ہے میت فانیؔ زندگی نام ہے مر مر کے جئے جانے کا

اس طرح زندگی نے دیا ہے ہمارا ساتھ جیسے کوئی نباہ رہا ہو رقیب سے

Explore Similar Collections

Zindagi FAQs

Zindagi collection me kya milega?

Zindagi se related curated sher, selected ghazal excerpts aur context-friendly reading flow milega.

Kya is page ki links internal hain?

Haan, collection links, writer links aur detail links sab Kuch Alfaaz ke internal routes par map kiye gaye hain.

Collection ko kaise explore karein?

Type filter (Sher/Ghazal/Nazm), featured picks aur similar collections rail use karke fast discovery kar sakte hain.