Poetry Collection

Zulf

Tresses have been a stock image of romantic poetry in Urdu. The classical poets have used it more liberally than the modern poets and it is with the tresses that they have configured the beloved in most fascinating terms. Here are some examples for you to read and marvel at the beauty of the beloved and her representation in poetry.

Total

52

Sher

50

Ghazal

2

Featured Picks

Is collection se writer-diverse top picks for quick reading.

پوچھا جو ان سے چاند نکلتا ہے کس طرح زلفوں کو رخ پہ ڈال کے جھٹکا دیا کہ یوں

آہ کو چاہیئے اک عمر اثر ہوتے تک کون جیتا ہے تری زلف کے سر ہوتے تک

یہ اڑی اڑی سی رنگت یہ کھلے کھلے سے گیسو تری صبح کہہ رہی ہے تری رات کا فسانہ

کئی چاند تھے سر آسماں کہ چمک چمک کے پلٹ گئے نہ لہو مرے ہی جگر میں تھا نہ تمہاری زلف سیاہ تھی

اس زلف پہ پھبتی شب دیجور کی سوجھی اندھے کو اندھیرے میں بڑی دور کی سوجھی

اپنے سر اک بلا تو لینی تھی میں نے وہ زلف اپنے سر لی ہے

کچھ بکھری ہوئی یادوں کے قصے بھی بہت تھے کچھ اس نے بھی بالوں کو کھلا چھوڑ دیا تھا

زاہد نے مرا حاصل ایماں نہیں دیکھا رخ پر تری زلفوں کو پریشاں نہیں دیکھا

اجازت ہو تو میں تصدیق کر لوں تیری زلفوں سے سنا ہے زندگی اک خوبصورت دام ہے ساقی

ہاتھ ٹوٹیں میں نے گر چھیڑی ہوں زلفیں آپ کی آپ کے سر کی قسم باد صبا تھی میں نہ تھا

سرک کر آ گئیں زلفیں جو ان مخمور آنکھوں تک میں یہ سمجھا کہ مے خانے پہ بدلی چھائی جاتی ہے

دیکھی تھی ایک رات تری زلف خواب میں پھر جب تلک جیا میں پریشان ہی رہا

نہ جھٹکو زلف سے پانی یہ موتی ٹوٹ جائیں گے تمہارا کچھ نہ بگڑے گا مگر دل ٹوٹ جائیں گے

سب کے جیسی نہ بنا زلف کہ ہم سادہ نگاہ تیرے دھوکے میں کسی اور کے شانے لگ جائیں

ابر میں چاند گر نہ دیکھا ہو رخ پہ زلفوں کو ڈال کر دیکھو

کس نے بھیگے ہوئے بالوں سے یہ جھٹکا پانی جھوم کے آئی گھٹا ٹوٹ کے برسا پانی

آپ کی نازک کمر پر بوجھ پڑتا ہے بہت بڑھ چلے ہیں حد سے گیسو کچھ انہیں کم کیجئے

پوچھا جو ان سے چاند نکلتا ہے کس طرح زلفوں کو رخ پہ ڈال کے جھٹکا دیا کہ یوں

آہ کو چاہیئے اک عمر اثر ہوتے تک کون جیتا ہے تری زلف کے سر ہوتے تک

یہ اڑی اڑی سی رنگت یہ کھلے کھلے سے گیسو تری صبح کہہ رہی ہے تری رات کا فسانہ

کئی چاند تھے سر آسماں کہ چمک چمک کے پلٹ گئے نہ لہو مرے ہی جگر میں تھا نہ تمہاری زلف سیاہ تھی

کس نے بھیگے ہوئے بالوں سے یہ جھٹکا پانی جھوم کے آئی گھٹا ٹوٹ کے برسا پانی

جب یار نے اٹھا کر زلفوں کے بال باندھے تب میں نے اپنے دل میں لاکھوں خیال باندھے

اپنے سر اک بلا تو لینی تھی میں نے وہ زلف اپنے سر لی ہے

بکھری ہوئی وہ زلف اشاروں میں کہہ گئی میں بھی شریک ہوں ترے حال تباہ میں

کچھ بکھری ہوئی یادوں کے قصے بھی بہت تھے کچھ اس نے بھی بالوں کو کھلا چھوڑ دیا تھا

یہ کھلے کھلے سے گیسو انہیں لاکھ تو سنوارے مرے ہاتھ سے سنورتے تو کچھ اور بات ہوتی

زاہد نے مرا حاصل ایماں نہیں دیکھا رخ پر تری زلفوں کو پریشاں نہیں دیکھا

اے جنوں پھر مرے سر پر وہی شامت آئی پھر پھنسا زلفوں میں دل پھر وہی آفت آئی

ہاتھ ٹوٹیں میں نے گر چھیڑی ہوں زلفیں آپ کی آپ کے سر کی قسم باد صبا تھی میں نہ تھا

الجھا ہے پانوں یار کا زلف دراز میں لو آپ اپنے دام میں صیاد آ گیا

دیکھی تھی ایک رات تری زلف خواب میں پھر جب تلک جیا میں پریشان ہی رہا

نہ جھٹکو زلف سے پانی یہ موتی ٹوٹ جائیں گے تمہارا کچھ نہ بگڑے گا مگر دل ٹوٹ جائیں گے

پھر یاد بہت آئے گی زلفوں کی گھنی شام جب دھوپ میں سایہ کوئی سر پر نہ ملے گا

دیکھ لیتے جو مرے دل کی پریشانی کو آپ بیٹھے ہوئے زلفیں نہ سنوارا کرتے

سب کے جیسی نہ بنا زلف کہ ہم سادہ نگاہ تیرے دھوکے میں کسی اور کے شانے لگ جائیں

Explore Similar Collections

Zulf FAQs

Zulf collection me kya milega?

Zulf se related curated sher, selected ghazal excerpts aur context-friendly reading flow milega.

Kya is page ki links internal hain?

Haan, collection links, writer links aur detail links sab Kuch Alfaaz ke internal routes par map kiye gaye hain.

Collection ko kaise explore karein?

Type filter (Sher/Ghazal/Nazm), featured picks aur similar collections rail use karke fast discovery kar sakte hain.