آج ہے کچھ سبب آج کی شب لگ جا جان ہے زیر لب آج کی شب لگ جا کیا پتا پھروں تری وصل کی ساعتیں ہوں ک ہاں کیسے کب آج کی شب لگ جا چاند کیا پھول کیا شمع کیا رنگ کیا ہیں پریشان سب آج کی شب لگ جا سمے کو کیسے ترتیب دیتے ہیں لوگ آ سکھا دے یہ اب آج کی شب لگ جا حقیقت سحر بھی تجھی سے سحر تھی سرسری شب بھی جاناں سے ہے شب آج کی شب لگ جا
Related Ghazal
چادر کی عزت کرتا ہوں اور پردے کو مانتا ہوں ہر پردہ پردہ نہیں ہوتا اتنا ہے وہ ہے وہ بھی جانتا ہوں سارے مرد ایک چنو ہیں جاناں نے کیسے کہ ڈالا ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی تو ایک مرد ہوں جاناں کو خود سے بہتر مانتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے ا سے سے پیار کیا ہے ملکیت کا دعویٰ نہیں حقیقت ج سے کے بھی ساتھ ہے ہے وہ ہے وہ اس کا کو بھی اپنا مانتا ہوں چادر کی عزت کرتا ہوں اور پردے کو مانتا ہوں ہر پردہ پردہ نہیں ہوتا اتنا ہے وہ ہے وہ بھی جانتا ہوں
Ali Zaryoun
105 likes
حقیقت بےوفا ہے تو کیا مت کہو برا اس کا کو کہ جو ہوا سو ہوا خوش رکھے خدا اس کا کو نظر لگ آئی تو ا سے کی تلاش ہے وہ ہے وہ رہنا کہی ملے تو پلٹ کر لگ دیکھنا اس کا کو حقیقت سادہ خوں تھا زمانے کے خم سمجھتا کیا ہوا کے ساتھ چلا لے اڑی ہوا اس کا کو حقیقت اپنے بارے ہے وہ ہے وہ کتنا ہے خوش گماں دیکھو جب اس کا کو ہے وہ ہے وہ بھی لگ دیکھوں تو دیکھنا اس کا کو
Naseer Turabi
244 likes
خاموش لب ہیں جھکی ہیں پلکیں دلوں ہے وہ ہے وہ الفت نئی نئی ہے ابھی تکلف ہے گفتگو ہے وہ ہے وہ ابھی محبت نئی نئی ہے ابھی لگ آئیںگی نیند جاناں کو ابھی لگ ہم کو سکون ملےگا ابھی تو دھڑکے گا دل زیادہ ابھی محبت نئی نئی ہے بہار کا آج پہلا دن ہے چلو چمن ہے وہ ہے وہ ٹہل کے آئیں فضا ہے وہ ہے وہ خوشبو نئی نئی ہے گلوں ہے وہ ہے وہ رنگت نئی نئی ہے جو خاندانی رئی سے ہیں حقیقت مزاج رکھتے ہیں نرم اپنا تمہارا لہجہ بتا رہا ہے تمہاری دولت نئی نئی ہے ذرا سا قدرت نے کیا نوازا کے آکے بیٹھے ہوں پہلی صف ہے وہ ہے وہ ہے وہ ابھی کیوں اڑنے لگے ہوا ہے وہ ہے وہ ابھی تو شہرت نئی نئی ہے بموں کی برسات ہوں رہی ہے پرانی جانباز سو رہے ہیں غلام دنیا کو کر رہا ہے حقیقت ج سے کی طاقت نئی نئی ہے
Shabeena Adeeb
232 likes
ستم ڈھاتے ہوئے سوچا کروگے ہمارے ساتھ جاناں ایسا کروگے انگوٹھی تو مجھے لوٹا رہے ہوں انگوٹھی کے نشان کا کیا کروگے ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے اب تمنائیں بھی نہیں ہوں تو کیا ا سے بات پر جھگڑا کروگے میرا دامن تمہیں تھامے ہوئے ہوں میرا دامن تمہیں میلا کروگے بتاؤ وعدہ کر کے آوگے نا کے پچھلی بار کے جیسا کروگے حقیقت دلہن بن کے رخصت ہوں گئی ہے ک ہاں تک کار کا پیچھا کروگے مجھے ب سے یوں ہی جاناں سے پوچھنا تھا ا گر ہے وہ ہے وہ مر گیا تو تو کیا کروگے
Zubair Ali Tabish
140 likes
کیسے ا سے نے یہ سب کچھ مجھ سے چھپ کر بدلا چہرہ بدلا رستہ بدلا بعد ہے وہ ہے وہ گھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے بارے ہے وہ ہے وہ یہ کہتا تھا لوگوں سے میرا نام بدل دینا حقیقت بے وجہ ا گر بدلا حقیقت بھی خوش تھا ا سے نے دل دے کر دل مانگا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی خوش ہوں ہے وہ ہے وہ نے پتھر سے پتھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے کہا کیا مری خاطر خود کو بدلوگے اور پھروں ا سے نے نظریں بدلیں اور نمبر بدلا
Tehzeeb Hafi
435 likes
More from Subhan Asad
ا سے طرح سے خواب گاہ کر گیا تو مری اشکوں کو حقیقت پانی کر گیا تو ا سے نے چہرے سے ہٹا ڈالا نقاب اور مری غزلیں پرانی کر گیا تو رکھ گیا تو حقیقت اپنے کپڑے سوکھنے دھوپ بھی کتنی سہانی کر گیا تو بھول جانے کی قسم دینا تیرا یاد آنے کی نشانی کر گیا تو دو گھڑی کو پا سے آیا تھا کوئی دل پہ برسوں حکمرانی کر گیا تو ج سے پہ ہے وہ ہے وہ ایمان لے آیا سرسری مجھ سے حقیقت ہی بے ایمانی کر گیا تو
Subhan Asad
1 likes
حقیقت جو صورت تھی ساتھ ساتھ کبھی سرخ مہکے گلاب کی صورت ا سے کی یادیں اترتی رہتی ہیں ذہن و دل پہ عذاب کی صورت یہ رویہ صحیح نہیں ہوتا یوں ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ کش مکش ہے وہ ہے وہ مت ڈالو یا ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ سچ کی طرح اپنا لو یا بھلا بھی دو خواب کی صورت ا سے نے ان دیکھا لگ سنا کر کے بے تعلق کیا ہے تو اب ہم ا سے کی تصویر سے نکالیں گے آنسوؤں کے حساب کی صورت اپنی جھوٹی انا کی باتوں ہے وہ ہے وہ آ کے ا سے کو سلا تو بیٹھے ہیں اب ہیں صحراؤں کے مسافر ہم اور حقیقت صورت سراب کی صورت
Subhan Asad
0 likes
ا سے کا غم ہے کہ مجھے وہم ہوا ہے شاید کوئی پہلو ہے وہ ہے وہ مری جاگ رہا ہے شاید جاگتے جاگتے پچھلی کئی راتیں گزری چاند ہونا مری قسمت ہے وہ ہے وہ لکھا ہے شاید دوڑ جاؤں ہر اک آہٹ پہ کواڑوں کی طرف اور پھروں خود کو ہی سمجھاؤں ہوا ہے شاید ا سے کی باتوں سے حقیقت اب پھول نہیں جھڑتے ہیں ا سے کے ہونٹوں پہ ابھی میرا گلہ ہے شاید ا سے کو کھولوں تو رگ دل کو کوئی دستا ہے یاد کی گٹھری ہے وہ ہے وہ اک سانپ چھپا ہے شاید مجھ کو ہر راہ اجالوں سے بھری ملتی ہے یہ ان آنکھوں کے چراغوں کی دعا ہے شاید
Subhan Asad
4 likes
درد کے دائمی رشتوں سے لپٹ جاتے ہیں عکس روتے ہیں تو شیشوں سے لپٹ جاتے ہیں ہاں یہ حقیقت لوگ جنہیں ہم نے بھلا رکھا ہے یاد آتے ہیں تو سانسوں سے لپٹ جاتے ہیں کس کے پیروں کے نشان ہیں کہ مسافر بھی اب منزلیں بھول کے رستوں سے لپٹ جاتے ہیں جب حقیقت روتا ہے تو یک لخت مری پیاس کے ہونٹ اس کا کا کی آنکھوں کے کناروں سے لپٹ جاتے ہیں جب انہیں نیند پناہیں نہیں دیتی ہیں سرسری خواب پھروں جاگتی آنکھوں سے لپٹ جاتے ہیں
Subhan Asad
1 likes
رگ جاں ہے وہ ہے وہ سما جاتی ہوں جاناں جاناں اتنا یاد کیوں آتی ہوں جاناں تمہارے سائے ہے پہلو ہے وہ ہے وہ اب تک کہ جا کر بھی ک ہاں جاتی ہوں جاناں مری نیندیں ق سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ رکھی ہیں جاناں نے یہ کیسے خواب دکھلاتی ہوں جاناں کسی دن دیکھنا مر جاؤں گا ہے وہ ہے وہ ہے وہ مری ق سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ بے حد کھاتی ہوں جاناں حقیقت سنتا ہوں ہے وہ ہے وہ اپنی دھڑکنوں سے جاناں آنکھوں سے جو کہ جاتی ہوں جاناں پرایا پن نہیں اپنائیت ہے جو یوں آنکھیں چرا جاتی ہوں جاناں
Subhan Asad
0 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Subhan Asad.
Similar Moods
More moods that pair well with Subhan Asad's ghazal.







