ghazalKuch Alfaaz

''آپ کی یاد آتی رہی رات بھر'' چاندنی دل دکھاتی رہی رات بھر گاہ جلتی ہوئی گاہ بجھتی ہوئی شمع غم جھلملاتی رہی رات بھر کوئی خوشبو بدلتی رہی پیرہن کوئی تصویر گاتی رہی رات بھر پھر صبا سایۂ شاخ گل کے تلے کوئی قصہ سناتی رہی رات بھر جو نہ آیا اسے کوئی زنجیر در ہر صدا پر بلاتی رہی رات بھر ایک امید سے دل بہلتا رہا اک تمنا ستاتی رہی رات بھر

Related Ghazal

کسی لبا سے کی خوشبو جب اڑ کے آتی ہے تری بدن کی جدائی بے حد ستاتی ہے تری گلاب ترستے ہیں تیری خوشبو کو تیری سفید چمیلی تجھے بلاتی ہے تری بغیر مجھے چین کیسے پڑتا ہیں مری بغیر تجھے نیند کیسے آتی ہے

Jaun Elia

113 likes

ی ہاں جاناں دیکھنا رتبہ ہمارا ہماری ریت ہے دریا ہمارا کسی سے کل پتا جی کہ رہے تھے محبت کھا گئی لڑکا ہمارا تعلق ختم کرنے جا رہی ہے کہی گروہ لگ دے بچہ ہمارا

Kushal Dauneria

67 likes

کتنے عیش سے رہتے ہوں گے کتنے اتراتے ہوں گے جانے کیسے لوگ حقیقت ہوں گے جو ا سے کو بھاتے ہوں گے شام ہوئے خوش باش ی ہاں کے مری پا سے آ جاتے ہیں مری بجھنے کا نہظارہ کرنے آ جاتے ہوں گے حقیقت جو لگ آنے والا ہے نا ا سے سے مجھ کو زار تھا آنے والوں سے کیا زار آتے ہیں آتے ہوں گے ا سے کی یاد کی باد صبا ہے وہ ہے وہ اور تو کیا ہوتا ہوگا یوںہی مری بال ہیں بکھرے اور بکھر جاتے ہوں گے یاروں کچھ تو ذکر کروں جاناں ا سے کی خوشگوار بان ہوں کا حقیقت جو سمٹتے ہوں گے ان ہے وہ ہے وہ حقیقت تو مر جاتے ہوں گے میرا سان سے اکھڑتے ہی سب بین کریںگے روئیںگے زبان مری بعد بھی زبان سان سے لیے جاتے ہوں گے

Jaun Elia

88 likes

تیرا چپ رہنا مری ذہن ہے وہ ہے وہ کیا بیٹھ گیا تو اتنی آوازیں تجھے دیں کہ گلہ بیٹھ گیا تو یوں نہیں ہے کہ فقط ہے وہ ہے وہ ہی اسے چاہتا ہوں جو بھی ا سے پیڑ کی چھاؤں ہے وہ ہے وہ گیا تو بیٹھ گیا تو اتنا میٹھا تھا حقیقت نبھائیے بھرا لہجہ مت پوچھ ا سے نے ج سے کو بھی جانے کا کہا بیٹھ گیا تو اپنا لڑنا بھی محبت ہے تمہیں علم نہیں چیختی جاناں رہی اور میرا گلہ بیٹھ گیا تو ا سے کی مرضی حقیقت جسے پا سے بٹھا لے اپنے ا سے پہ کیا لڑنا شہر خاموشاں مری جگہ بیٹھ گیا تو بات دریاؤں کی سورج کی لگ تیری ہے ی ہاں دو قدم جو بھی مری ساتھ چلا بیٹھ گیا تو بزم جاناں ہے وہ ہے وہ نشستیں نہیں ہوتیں مخصوص جو بھی اک بار ج ہاں بیٹھ گیا تو بیٹھ گیا تو

Tehzeeb Hafi

203 likes

اسی جگہ پر ج ہاں کئی راستے ملیںگے پلٹ کے آئی تو سب سے پہلے تجھے ملیںگے ا گر کبھی تری نام پر جنگ ہوں گئی تو ہم ایسے بزدل بھی پہلی صف ہے وہ ہے وہ کھڑے ملیںگے تجھے یہ سڑکیں مری توسط سے جانتی ہیں تجھے ہمیشہ یہ سب اشارے کھلے ملیںگے

Tehzeeb Hafi

465 likes

More from Faiz Ahmad Faiz

اب کے بر سے دستور ستم ہے وہ ہے وہ کیا کیا باب ایزاد ہوئے جو قاتل تھے مقتول ہوئے جو دام نا رسائی تھے اب صیاد ہوئے پہلے بھی اڑائے ہے وہ ہے وہ باغ اجڑے پر یوں نہیں چنو اب کے بر سے سارے بوٹے پتہ پتہ رویش رویش برباد ہوئے پہلے بھی طواف شم وفا تھی رسم محبت والوں کی ہم جاناں سے پہلے بھی ی ہاں منصور ہوئے فرہاد ہوئے اک گل کے مرجھانے پر کیا گلشن ہے وہ ہے وہ کوہرام مچا اک چہرہ کمھلا جانے سے کتنے دل ناشاد ہوئے فیض لگ ہم یوسف لگ کوئی یعقوب جو ہم کو یاد کرے اپنی کیا کنعان ہے وہ ہے وہ رہے یا مصر ہے وہ ہے وہ جا آباد ہوئے

Faiz Ahmad Faiz

0 likes

گرمی شوق نظارہ کا اثر تو دیکھو گل کھلے جاتے ہیں حقیقت سایہ تر تو دیکھو ایسے نادان بھی لگ تھے جاں سے گزرنے والے ناصحوں پند گرو گھبرائیے تو دیکھو حقیقت تو حقیقت ہے تمہیں ہوں جائے گی الفت مجھ سے اک نظر جاناں میرا محبوب نظر تو دیکھو حقیقت جو اب چاک گریباں بھی نہیں کرتے ہیں دیکھنے والو کبھی ان کا ج گر تو دیکھو دامن درد کو دل ناشاد بنا رکھا ہے آؤ اک دن دل پر خوں کا ہنر تو دیکھو صبح کی طرح جھمکتا ہے شب غم کا پیام عشقفیض تابندگی دیدہ تر تو دیکھو

Faiz Ahmad Faiz

1 likes

قرض نگاہ یار ادا کر چکے ہیں ہم سب کچھ نثار راہ وفا کر چکے ہیں ہم کچھ امتحاں دست کہوں کر چکے ہیں ہم کچھ ان کی دسترسی کا پتا کر چکے ہیں ہم اب احتیاط کی کوئی صورت نہیں رہی قاتل سے رسم و راہ سوا کر چکے ہیں ہم دیکھیں ہے کون کون ضرورت نہیں رہی کوئے ستم ہے وہ ہے وہ سب کو خفا کر چکے ہیں ہم اب اپنا اختیار ہے چاہے ج ہاں چلیں رہبر سے اپنی راہ جدا کر چکے ہیں ہم ان کی نظر ہے وہ ہے وہ کیا کریں فیکا ہے اب بھی رنگ جتنا لہو تھا صرف قبا کر چکے ہیں ہم کچھ اپنے دل کی پربھاکر کا بھی شکرا لگ چاہیے سو بار ان کی پربھاکر کا گلہ کر چکے ہیں ہم

Faiz Ahmad Faiz

0 likes

سبھی کچھ ہے تیرا دیا ہوا سبھی راحتیں سبھی کلفتیں کبھی صحبتیں کبھی فرقتیں کبھی دوریاں کبھی رنگیں یہ سخن جو ہم نے رقم کیے یہ ہیں سب ورق تری یاد کے کوئی لمحہ حساب آرز کا کوئی شام ہجر کی مدتیں جو تمہاری مان لیں ناصحا تو رہے گا دامن دل ہے وہ ہے وہ کیا لگ کسی عدو کی عداوتیں لگ کسی صنم کی مروتیں چلو آؤ جاناں کو دکھائیں ہم جو بچا ہے مقتل شہر ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ مزار اہل صفا کے ہیں یہ ہیں اہل صدق کی تربتیں مری جان آج کا غم لگ کر کہ لگ جانے کاتب سمے نے کسی اپنے کل ہے وہ ہے وہ بھی بھول کر کہی لکھ رکھی ہوں مسرتیں

Faiz Ahmad Faiz

1 likes

بات ب سے سے نکل چلی ہے دل کی حالت سنبھل چلی ہے اب جنوں حد سے بڑھ چلا ہے اب طبیعت بہل چلی ہے خوشی خوناب ہوں چلے ہیں غم کی رنگت بدل چلی ہے یا یوںہی بجھ رہی ہیں شمعیں یا شب ہجر ٹل چلی ہے لاکھ پیغام ہوں گئے ہیں جب صبا ایک پل چلی ہے جاؤ اب سو رہو ستارو درد کی رات ڈھل چلی ہے

Faiz Ahmad Faiz

1 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Faiz Ahmad Faiz.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Faiz Ahmad Faiz's ghazal.