arzuen hazar rakhte hain to bhi ham dil ko maar rakhte hain barq kam-hausla hai ham bhi to dilak-e-be-qarar rakhte hain ghhair hi maurid-e-inayat hai ham bhi to tum se pyaar rakhte hain na nigah ne payam ne vaada naam ko ham bhi yaar rakhte hain ham se khush-zamzama kahan yuun to lab o lahja hazar rakhte hain chotte dil ke hain butan mashhur bas yahi e'tibar rakhte hain phir bhi karte hain 'mir' sahab ishq hain javan ikhtiyar rakhte hain aarzuen hazar rakhte hain to bhi hum dil ko mar rakhte hain barq kam-hausla hai hum bhi to dilak-e-be-qarar rakhte hain ghair hi maurid-e-inayat hai hum bhi to tum se pyar rakhte hain na nigah ne payam ne wada nam ko hum bhi yar rakhte hain hum se khush-zamzama kahan yun to lab o lahja hazar rakhte hain chotte dil ke hain butan mashhur bas yahi e'tibar rakhte hain phir bhi karte hain 'mir' sahab ishq hain jawan ikhtiyar rakhte hain
Related Ghazal
پاگل کیسے ہوں جاتے ہیں دیکھو ایسے ہوں جاتے ہیں خوابوں کا دھندہ کرتی ہوں کتنے پیسے ہوں جاتے ہیں دنیا سا ہونا مشکل ہے تری چنو ہوں جاتے ہیں مری کام خدا کرتا ہے تری ویسے ہوں جاتے ہیں
Ali Zaryoun
158 likes
ستم ڈھاتے ہوئے سوچا کروگے ہمارے ساتھ جاناں ایسا کروگے انگوٹھی تو مجھے لوٹا رہے ہوں انگوٹھی کے نشان کا کیا کروگے ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے اب تمنائیں بھی نہیں ہوں تو کیا ا سے بات پر جھگڑا کروگے میرا دامن تمہیں تھامے ہوئے ہوں میرا دامن تمہیں میلا کروگے بتاؤ وعدہ کر کے آوگے نا کے پچھلی بار کے جیسا کروگے حقیقت دلہن بن کے رخصت ہوں گئی ہے ک ہاں تک کار کا پیچھا کروگے مجھے ب سے یوں ہی جاناں سے پوچھنا تھا ا گر ہے وہ ہے وہ مر گیا تو تو کیا کروگے
Zubair Ali Tabish
140 likes
ہاتھ خالی ہیں تری شہر سے جاتے جاتے جان ہوتی تو مری جان لٹاتے جاتے اب تو ہر ہاتھ کا پتھر ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ پہچانتا ہے عمر گزری ہے تری شہر ہے وہ ہے وہ آتے جاتے اب کے مایو سے ہوا یاروں کو رخصت کر کے جا رہے تھے تو کوئی زخم لگاتے جاتے رینگنے کی بھی اجازت نہیں ہم کو ور لگ ہم جدھر جاتے نئے پھول کھلاتے جاتے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو جلتے ہوئے صحراؤں کا اک پتھر تھا جاناں تو دریا تھے مری پیا سے بجھاتے جاتے مجھ کو رونے کا سلیقہ بھی نہیں ہے شاید لوگ ہنستے ہیں مجھے دیکھ کے آتے جاتے ہم سے پہلے بھی مسافر کئی گزرے ہوں گے کم سے کم راہ کے پتھر تو ہٹاتے جاتے
Rahat Indori
102 likes
اک پل ہے وہ ہے وہ اک ص گرا کا مزہ ہم سے پوچھیے دو دن کی زندگی کا مزہ ہم سے پوچھیے بھولے ہیں رفتہ رفتہ ا نہیں مدتوں ہے وہ ہے وہ ہم قسطوں ہے وہ ہے وہ خود کشی کا مزہ ہم سے پوچھیے آغاز کرنے والے کا مزہ آپ جانیے انجام کرنے والے کا مزہ ہم سے پوچھیے جلتے دیوں ہے وہ ہے وہ جلتے گھروں جیسی ذو ک ہاں سرکار روشنی کا مزہ ہم سے پوچھیے حقیقت جان ہی گئے کہ ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ان سے پیار ہے آنکھوں کی مخبری کا مزہ ہم سے پوچھیے ہنسنے کا شوق ہم کو بھی تھا آپ کی طرح ہنسیے م گر ہنسی کا مزہ ہم سے پوچھیے ہم توبہ کر کے مر گئے بے موت اے خمار توہین مے کشی کا مزہ ہم سے پوچھیے
Khumar Barabankvi
95 likes
ہم نے کب چاہا کہ حقیقت بے وجہ ہمارا ہوں جائے اتنا دکھ جائے کہ آنکھوں کا گزارا ہوں جائے ہم جسے پا سے بٹھا لیں حقیقت بچھڑ جاتا ہے جاناں جسے ہاتھ لگا دو حقیقت تمہارا ہوں جائے جاناں کو لگتا ہے کہ جاناں جیت گئے ہوں مجھ سے ہے یہی بات تو پھروں کھیل دوبارہ ہوں جائے ہے محبت بھی غضب طرز تجارت کہ ی ہاں ہر دکاں دار یہ چاہے کہ خسارہ ہوں جائے
Yasir Khan
92 likes
More from Meer Taqi Meer
سرگرم وفا ہوں ہر چند کہ جلتا ہوں پہ ہنر عشق ہوں آتے ہیں مجھے خوب سے دونوں گلشن دنیا رونے کے تئیں آندھی ہوں کڑھنے کو بلا ہوں ا سے غنچہ افسردہ ہے وہ ہے وہ شگفتہ لگ ہوا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہوں مردود صبا کہ خاک سر راہ ہوں فت لگ انگیزی ہے ہر آبلا پا کا میرا خوشی از ب سے کہ تری راہ ہے وہ ہے وہ آنکھوں سے چلا ہوں آیا کوئی بھی طرح مری چین کی ہوں گی آزردہ ہوں جینے سے ہے وہ ہے وہ مرنے سے خفا ہوں دامن لگ جھٹک ہاتھ سے مری کہ ستم گر ہوں منتظر روز جزا کوئی دم ہے وہ ہے وہ ہوا ہوں دل خواہ جلا اب تو مجھے اے شب ہجراں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سوختہ بھی طاقت و آرام و خور و خواب ہوں گو بحر چیز گئے سب بارے یہ غنیمت ہے کہ جیتا تو رہا ہوں اتنا ہی مجھے علم ہے کچھ ہے وہ ہے وہ ہوں سمے دعا معلوم نہیں خوب مجھے بھی کہ ہے وہ ہے وہ کیا ہوں بہتر ہے غرض خموشی ہی کہنے سے یاراں مت پوچھو کچھ احوال کہ مر مر کے زیا ہوں تب حال تہی دستی کہنے لگا ہوں ہے وہ ہے وہ کہ اک عمر جوں شمع سر شام سے تا صبح جلا ہوں سینا تو کیا فضل الہی سے
Meer Taqi Meer
0 likes
کب تلک یہ ستم اٹھائیےگا ایک دن یوںہی جی سے جائیےگا شکل تصویر بے خو گرا کب تک کسو دن آپ ہے وہ ہے وہ بھی آئیے گا سب سے مل چل کہ حادثے سے پھروں کہی ڈھونڈا بھی تو لگ پائیےگا لگ صید نا توان ہم اسیری ہے وہ ہے وہ تو نسیم گلزار ناز کوئی دن اور باو کھائیےگا کہیےگا ا سے سے قصہ مجنوں زبان پردے ہے وہ ہے وہ غم سنائیےگا ا سے کے پا بو سے کی توقع پر اپنے تیں خاک ہے وہ ہے وہ ملائیےگا ا سے کے پاؤں کو جا لگی ہے حنا خوب سے ہاتھ اسے لگائیےگا شرکت شیخ و برہمن سے میر جلوہ رعنائی سے بھی جائیےگا اپنی ڈیڑھ اینٹ کی ج گرا مسجد کسی ویرانے ہے وہ ہے وہ بنائیےگا
Meer Taqi Meer
1 likes
تنگ آئی ہیں دل ا سے جی سے اٹھا بیٹھیں گے بھوکوں مرتے ہیں کچھ اب یار بھی کھا بیٹھیں گے اب کے بگڑےگی ا گر ان سے تو ا سے شہر سے جا کسو ویرانے ہے وہ ہے وہ تکیہ ہی بنا بیٹھیں گے معرکہ گرم تو ٹک ہونے دو خوں ریزی کا پہلے تلوار کے نیچے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ جا بیٹھیں گے ہوگا ایسا بھی کوئی روز کہ مجل سے سے کبھو ہم تو ایک آدھ گھڑی اٹھ کے جدا بیٹھیں گے جا لگ اظہار محبت پہ ہوسناکو کی سمے کے سمے یہ سب منا کو چھپا بیٹھیں گے دیکھیں حقیقت غیرت خورشید ک ہاں جاتا ہے اب سر راہ دم صبح سے آ بیٹھیں گے بھیڑ ٹلتی ہی نہیں آگے سے ا سے ظالم کے گردنیں یار کسی روز کٹا بیٹھیں گے کب تلک گلیوں ہے وہ ہے وہ سودائی سے پھرتے رہیے دل کو ا سے زلف مسلسل سے لگا بیٹھیں گے شعلہ افشاں ا گر ایسی ہی رہی آہ تو میر گھر کو ہم اپنے کسو رات جلا بیٹھیں گے
Meer Taqi Meer
1 likes
دیکھےگا جو تجھ رو کو سو حیران رہے گا وابستہ تری مو کا پریشان رہے گا وعدہ تو کیا ا سے سے دم صبح کا لیکن ا سے دم تئیں مجھ ہے وہ ہے وہ بھی ا گر جان رہے گا منعم نے بنا ظلم کی رکھ گھر تو بنایا پر آپ کوئی رات ہی مہمان رہے گا چھوٹوں کہی ایزا سے لگا ایک ہی جلاد تا حشر مری سر پہ یہ احسان رہے گا چمٹے رہیں گے لان ہے وہ ہے وہ سر و تیغ محشر تئیں خالی لگ یہ میدان رہے گا جانے کا نہیں شور سخن کا مری ہرگز تا حشر ج ہاں ہے وہ ہے وہ میرا دیوان رہے گا دل دینے کی ایسی حرکت ان نے نہیں کی جب تک جیے گا میر پشیمان رہے گا
Meer Taqi Meer
0 likes
ک سے حسن سے ک ہوں ہے وہ ہے وہ ا سے کی خوش اختری کی ا سے ماہ رو کے آگے کیا تاب مشتری کی رکھنا لگ تھا قدم یاں جوں بعد بے تامل سیر ا سے ج ہاں کی رہرو پر تو نے بچھڑنا کی شبہ بحال سگ ہے وہ ہے وہ اک عمر صرف کی ہے مت پوچھ ان نے مجھ سے جو آدمی گری کی پائے گل ا سے چمن ہے وہ ہے وہ چھوڑا گیا تو لگ ہم سے سر پر ہمارے اب کے بد دعا ہے ب پری کی پیشہ تو ایک ہی تھا ا سے کا ہمارا لیکن مجنوں کے تالوں نے شہرت ہے وہ ہے وہ یاوری کی گریے سے حرف زن تازہ ہوئے ہیں سارے یہ کشت خشک تو نے اے چشم پھروں خا لگ وحدت پسند کی یہ دور تو موافق ہوتا نہیں م گر اب رکھیے بنا تازہ ا سے چرخ چنبری کی خوباں تمہاری خوبی تا چند نقل کریے ہم رنجا خاطروں کی کیا خوب دل بری کی ہم سے جو میر اڑ کر افلاک چرخ ہے وہ ہے وہ ہیں ان خاک ہے وہ ہے وہ ملوں کی کاہے کو ہمسری کی
Meer Taqi Meer
0 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Meer Taqi Meer.
Similar Moods
More moods that pair well with Meer Taqi Meer's ghazal.







