آسان حقیقی ہے لگ کچھ سہل مجازی معلوم ہوئی راہ محبت کی درازی کچھ لطف و نظر لازم و ملزوم نہیں ہیں اک یہ بھی تمنا کی لگ ہوں شوبدہ بازی دل خوب سمجھتا ہے تری حرف کرم کو ہر چند حقیقت اردو ہے لگ ترکی ہے لگ تازی قائم ہے لگ حقیقت حسن رکھ یار کا عالم باقی ہے لگ حقیقت شوق کی ہنگامہ نوازی اے عشق تری جرح بہر حال ہے ثابت مر کر بھی شہیدان محبت ہوئے غازی کر جلد ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ختم کہی اے غم جاناں کام آوےگی عشق دل ک سے روز تری سی لگ گدازی معلوم ہے دنیا کو یہ حسرت کی حقیقت خلوت ہے وہ ہے وہ حقیقت مے خوار ہے جلوت ہے وہ ہے وہ نمازی
Related Ghazal
چاند ستارے تم پھول پرندے شام سویرہ ایک طرف ساری دنیا ا سے کا چربہ ا سے کا چہرہ ایک طرف حقیقت لڑکر بھی سو جائے تو ا سے کا ماتھا چوموں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے سے محبت ایک طرف ہے ا سے سے جھگڑا ایک طرف ج سے اجازت پر حقیقت انگلی رکھ دے اس کا کو حقیقت دلوانی ہے ا سے کی خوشیاں سب سے اول سستا مہنگا ایک طرف زخموں پر مرہم لگواو لیکن ا سے کے ہاتھوں سے چارسازی ایک طرف ہے ا سے کا چھونا ایک طرف ساری دنیا جو بھی بولے سب کچھ شور شرابا ہے سب کا کہنا ایک طرف ہے ا سے کا کہنا ایک طرف ا سے نے ساری دنیا مانگی ہے وہ ہے وہ نے اس کا کو مانگا ہے ا سے کے سپنے ایک طرف ہے میرا سپنا ایک طرف
Varun Anand
406 likes
یہ غم کیا دل کی عادت ہے نہیں تو کسی سے کچھ شکایت ہے نہیں تو ہے حقیقت اک خواب بے تعبیر ا سے کو بھلا دینے کی نیت ہے نہیں تو کسی کے بن کسی کی یاد کے بن جیے جانے کی ہمت ہے نہیں تو کسی صورت بھی دل لگتا نہیں ہاں تو کچھ دن سے یہ حالت ہے نہیں تو تری ا سے حال پر ہے سب کو حیرت تجھے بھی ا سے پہ حیرت ہے نہیں تو ہم آہنگی نہیں دنیا سے تیری تجھے ا سے پر ندامت ہے نہیں تو ہوا جو کچھ یہی مقسوم تھا کیا یہی ساری مقسوم ہے نہیں تو اذیت ناک اذیت ناک سے تجھ کو اماں پانے کی حسرت ہے نہیں تو تو رہتا ہے خیال و خواب ہے وہ ہے وہ گم تو ا سے کی وجہ فرصت ہے نہیں تو سبب جو ا سے جدائی کا بنا ہے حقیقت مجھ سے خوبصورت ہے نہیں تو
Jaun Elia
355 likes
تری پیچھے ہوں گی دنیا پاگل بن کیا بولا ہے وہ ہے وہ نے کچھ سمجھا پاگل بن صحرا ہے وہ ہے وہ بھی ڈھونڈ لے دریا پاگل بن ورنا مر جائےگا پیاسا پاگل بن آدھا دا لگ آدھا پاگل نہیں نہیں نہیں اس کا کا کو پانا ہے تو پورا پاگل بن دانائی دکھلانے سے کچھ حاصل نہیں پاگل خا لگ ہے یہ دنیا پاگل بن دیکھیں تجھ کو لوگ تو پاگل ہوں جائیں اتنا عمدہ اتنا اعلیٰ پاگل بن لوگوں سے ڈر لگتا ہے تو گھر ہے وہ ہے وہ بیٹھ ج ہنستے ہے تو مری جیسا پاگل بن
Varun Anand
81 likes
याद तब करते हो करने को न हो जब कुछ भी और कहते हो तुम्हें इश्क़ है मतलब कुछ भी अब जो आ आ के बताते हो वो शख़्स ऐसा था जब मेरे साथ था वो क्यूँँ न कहा तब कुछ भी वक्फ़े-वक्फ़े से मुझे देखने आते रहना हिज्र की शब है सो हो सकता है इस शब कुछ भी
Umair Najmi
68 likes
مجھے ادا سے کر گئے ہوں خوش رہو مری مزاج پر گئے ہوں خوش رہو مری لیے لگ رک سکے تو کیا ہوا ج ہاں کہی ٹھہر گئے ہوں خوش رہو خوشی ہوئی ہے آج جاناں کو دیکھ کر بے حد نکھر سنور گئے ہوں خوش رہو ادا سے ہوں کسی کی بے وفائی پر وفا کہی تو کر گئے ہوں خوش رہو گلی ہے وہ ہے وہ اور لوگ بھی تھے آشنا ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ سلام بخیر کر گئے ہوں خوش رہو تمہیں تو مری دوستی پہ ناز تھا اسی سے اب مکر گئے ہوں خوش رہو کسی کی زندگی بنو کہ بندگی مری لیے تو مر گئے ہوں خوش رہو
Fazil Jamili
73 likes
More from Hasrat Mohani
کیا حقیقت اب نہادم ہیں اپنے جور کی روداد سے لائے ہیں میرٹھ جو آخر مجھ کو فیض آباد سے سیر گل کو آئی تھی ج سے دم سواری آپ کی پھول دل گیر تھا چمن فخر مبارکباد سے ہر ک سے و نا ک سے ہوں کیونکر کامگار بے خو گرا یہ ہنر سیکھا ہے دل نے اک بڑے استاد سے اک ج ہاں مست محبت ہے کہ ہر سو ب ان سے چھائی ہے ان گیسوؤں کی نکہت برباد سے اب تلک موجود ہے کچھ کچھ لگا لائے تھے ہم حقیقت جو اک لپکا کبھی لگ خاک ج ہاں آباد سے دعوی تقوی کا حسرت ک سے کو آتا ہے یقین آپ اور جاتے رہیں پیر مغاں کی یاد سے
Hasrat Mohani
2 likes
حقیقت چپ ہوں گئے مجھ سے کیا کہتے کہتے کہ دل رہ گیا تو مدعا کہتے کہتے میرا عشق بھی خود غرض ہوں چلا ہے تری حسن کو بےوفا کہتے کہتے شب غم ک سے آرام سے سو گئے ہیں فسا لگ تری یاد کا کہتے کہتے یہ کیا پڑ گئی خو دشنام جاناں کو مجھے نا سزا برملا کہتے کہتے خبر ان کو اب تک نہیں مر مٹے ہم دل زار کا ماجرا کہتے کہتے غضب کیا جو ہے بد گماں سب سے واعظ برا سنتے سنتے برا کہتے کہتے حقیقت آئی م گر آئی ک سے سمے حسرت کہ ہم چل بسے مرحبا کہتے کہتے
Hasrat Mohani
1 likes
دیکھنا بھی تو ا نہیں دور سے دیکھا کرنا شیوا عشق نہیں حسن کو رسوا کرنا اک نظر بھی تری کافی تھی پ راحت جاں کچھ بھی دشوار لگ تھا مجھ کو شکیبا کرنا ان کو یاں وعدے پہ آ لینے دے اے ابر بہار ج سے دودمان چاہنا پھروں بعد ہے وہ ہے وہ برسا کرنا شام ہوں یا کہ سحر یاد انہی کی رکھنی دن ہوں یا رات ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ذکر انہی کا کرنا صوم زاہد کو مبارک رہے عابد کو صلات آسیوں کو تری رحمت پہ بھروسا کرنا عاشقو حسن کہوں کار کا شکوہ ہے گناہ جاناں خبردار خبردار لگ ایسا کرنا کچھ سمجھ ہے وہ ہے وہ نہیں آتا کہ یہ کیا ہے حسرت ان سے مل کر بھی لگ اظہار تمنا کرنا
Hasrat Mohani
2 likes
یاد کر حقیقت دن کہ تیرا کوئی سودائی لگ تھا باوجود حسن تو آگاہ رعنائی لگ تھا عشق روز افزوں پہ اپنے مجھ کو حیرانی لگ تھی جلوہ رنگیں پہ تجھ کو ناز یکتائی لگ تھا دید کے قابل تھی مری عشق کی بھی سادگی جبکہ تیرا حسن سرگرم خود آرائی لگ تھا کیا ہوئے حقیقت دن کہ محوہ آرزو تھے حسن و عشقربط تھا دونوں ہے وہ ہے وہ گو ربط شناسائی لگ تھا تو نے حسرت کی عیاں تہذیب رسم کرنے والے ا سے سے پہلے اعتبار شان رسوائی لگ تھا
Hasrat Mohani
0 likes
اور بھی ہوں گئے بیگا لگ حقیقت غفلت کر کے آزمایا جو ا نہیں درد فراق کر کے دل نے چھوڑا ہے لگ چھوڑے تری ملنے کا خیال بارہا دیکھ لیا ہم نے ملامت کر کے دیکھنے آئی تھے حقیقت اپنی محبت کا اثر کہنے کو یہ ہے کہ آئی ہیں عیادت کر کے پستی حوصلہ شوق کی اب ہے یہ صلاح بیٹھ رہیے غم ہجراں پہ قناعت کر کے دل نے پایا ہے محبت کا یہ عالی رتبہ آپ کے درد دواکار کی خدمت کر کے روح نے پائی ہے تکلیف جدائی سے نجات آپ کی یاد کو سرمایہ راحت کر کے چھیڑ سے اب حقیقت یہ کہتے ہیں کہ سنبھلوں حسرت دل پامال و تاب دل بیمار کو غارت کر کے
Hasrat Mohani
0 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Hasrat Mohani.
Similar Moods
More moods that pair well with Hasrat Mohani's ghazal.







