ghazalKuch Alfaaz

اور بھی ہوں گئے بیگا لگ حقیقت غفلت کر کے آزمایا جو ا نہیں درد فراق کر کے دل نے چھوڑا ہے لگ چھوڑے تری ملنے کا خیال بارہا دیکھ لیا ہم نے ملامت کر کے دیکھنے آئی تھے حقیقت اپنی محبت کا اثر کہنے کو یہ ہے کہ آئی ہیں عیادت کر کے پستی حوصلہ شوق کی اب ہے یہ صلاح بیٹھ رہیے غم ہجراں پہ قناعت کر کے دل نے پایا ہے محبت کا یہ عالی رتبہ آپ کے درد دواکار کی خدمت کر کے روح نے پائی ہے تکلیف جدائی سے نجات آپ کی یاد کو سرمایہ راحت کر کے چھیڑ سے اب حقیقت یہ کہتے ہیں کہ سنبھلوں حسرت دل پامال و تاب دل بیمار کو غارت کر کے

Related Ghazal

مری لیے تو عشق کا وعدہ ہے شاعری آدھا سرور جاناں ہوں تو آدھا ہے شاعری رودراکش ہاتھ ہے وہ ہے وہ ہے تو سینے ہے وہ ہے وہ اوم ہے اندھیرا ہے میرا دل مری رادھا ہے شاعری اپنا تو میل جول ہی ب سے عاشقوں سے ہے درویش کا ب سے ایک لبادہ ہے شاعری ہوں آشنا کوئی تو مہ لقا ہے اپنا رنگ بے رموزیوں کے واسطے سادہ ہے شاعری جاناں سامنے ہوں اور مری دسترسی ہے وہ ہے وہ ہوں ا سے سمے مری دل کا ارادہ ہے شاعری بھگوان ہوں خدا ہوں محبت ہوں یا بدن ج سے سمت بھی چلو یہی زادہ ہے شاعری ا سے لیے بھی عشق ہی لکھتا ہوں ہے وہ ہے وہ علی میرا کسی سے آخری وعدہ ہے شاعری

Ali Zaryoun

70 likes

نہیں تھا اپنا م گر پھروں بھی اپنا اپنا لگا کسی سے مل کے بے حد دیر بعد اچھا لگا تمہیں لگا تھا ہے وہ ہے وہ مر جاؤں گا تمہارے بغیر بتاؤ پھروں تمہیں میرا مزاق کیسا لگا تجوریوں پہ نظر اور لوگ رکھتے ہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ آسمان چرا لوں گا جب بھی موقع لگا مہ لقا ہے بھری الماریاں بڑے دل سے بتاتی ہے کہ محبت ہے وہ ہے وہ کس کا کتنا لگا

Tehzeeb Hafi

94 likes

چل دیے پھیر کر نظر جاناں بھی غیر تو غیر تھے م گر جاناں بھی یہ گلی مری دلربا کی ہے دوستوں خیریت ادھر جاناں بھی مجھ پہ لوگوں کے ساتھ ہنستے ہوں لوگ روئیںگے خاص کر جاناں بھی مجھ کو ٹھکرا دیا ہے دنیا نے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو مر جاؤں گا ا گر جاناں بھی ا سے کی گاڑی تو جا چکی تابش اب اٹھو جاؤ اپنے گھر جاناں بھی

Zubair Ali Tabish

58 likes

اک پل ہے وہ ہے وہ اک ص گرا کا مزہ ہم سے پوچھیے دو دن کی زندگی کا مزہ ہم سے پوچھیے بھولے ہیں رفتہ رفتہ ا نہیں مدتوں ہے وہ ہے وہ ہم قسطوں ہے وہ ہے وہ خود کشی کا مزہ ہم سے پوچھیے آغاز کرنے والے کا مزہ آپ جانیے انجام کرنے والے کا مزہ ہم سے پوچھیے جلتے دیوں ہے وہ ہے وہ جلتے گھروں جیسی ذو ک ہاں سرکار روشنی کا مزہ ہم سے پوچھیے حقیقت جان ہی گئے کہ ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ان سے پیار ہے آنکھوں کی مخبری کا مزہ ہم سے پوچھیے ہنسنے کا شوق ہم کو بھی تھا آپ کی طرح ہنسیے م گر ہنسی کا مزہ ہم سے پوچھیے ہم توبہ کر کے مر گئے بے موت اے خمار توہین مے کشی کا مزہ ہم سے پوچھیے

Khumar Barabankvi

95 likes

مجھ سے ملتا ہے پر جسم کی سرحد پار نہیں کرتا ا سے زار تو بھی مجھ سے سچا پیار نہیں کرتا دشمن اچھا ہوں تو جنگ ہے وہ ہے وہ دل کو ٹھار سے رہتی ہے دشمن اچھا ہوں تو حقیقت پیچھے سے وار نہیں کرتا روز تجھے ٹوٹے دل کم قیمت پر لینا پڑتے ہیں ا سے سے اچھا تھا تو عشق کا کاروبار نہیں کرتا

Tehzeeb Hafi

62 likes

More from Hasrat Mohani

हर हाल में रहा जो तिरा आसरा मुझे मायूस कर सका न हुजूम-ए-बला मुझे हर नग़्में ने उन्हीं की तलब का दिया पयाम हर साज़ ने उन्हीं की सुनाई सदा मुझे हर बात में उन्हीं की ख़ुशी का रहा ख़याल हर काम से ग़रज़ है उन्हीं की रज़ा मुझे रहता हूँ ग़र्क़ उन के तसव्वुर में रोज़ ओ शब मस्ती का पड़ गया है कुछ ऐसा मज़ा मुझे रखिए न मुझ पे तर्क-ए-मोहब्बत की तोहमतें जिस का ख़याल तक भी नहीं है रवा मुझे क्या कहते हो कि और लगा लो किसी से दिल तुम सा नज़र भी आए कोई दूसरा मुझे बेगाना-ए-अदब किए देती है क्या करूँं उस महव-ए-नाज़ की निगह-ए-आशना मुझे उस बे-निशां के मिलने की 'हसरत' हुई उम्मीद आब-ए-बक़ा से बढ़ के है ज़हर-ए-फ़ना मुझे

Hasrat Mohani

0 likes

آسان حقیقی ہے لگ کچھ سہل مجازی معلوم ہوئی راہ محبت کی درازی کچھ لطف و نظر لازم و ملزوم نہیں ہیں اک یہ بھی تمنا کی لگ ہوں شوبدہ بازی دل خوب سمجھتا ہے تری حرف کرم کو ہر چند حقیقت اردو ہے لگ ترکی ہے لگ تازی قائم ہے لگ حقیقت حسن رکھ یار کا عالم باقی ہے لگ حقیقت شوق کی ہنگامہ نوازی اے عشق تری جرح بہر حال ہے ثابت مر کر بھی شہیدان محبت ہوئے غازی کر جلد ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ختم کہی اے غم جاناں کام آوےگی عشق دل ک سے روز تری سی لگ گدازی معلوم ہے دنیا کو یہ حسرت کی حقیقت خلوت ہے وہ ہے وہ حقیقت مے خوار ہے جلوت ہے وہ ہے وہ نمازی

Hasrat Mohani

0 likes

دل کو خیال یار نے مخمور کر دیا میک اپ کو رنگ بادہ نے پر نور کر دیا مانو سے ہوں چلا تھا تسلی سے حال دل پھروں تو نے یاد آ کے بدستور کر دیا گستاخ دستیوں کا لگ تھا مجھ ہے وہ ہے وہ حوصلہ لیکن ہجوم شوق نے مجبور کر دیا کچھ ایسی ہوں گئی ہے تری غم ہے وہ ہے وہ مبتلا گویا کسی نے جان کو مسحور کر دیا بیتابیوں سے چھپ لگ سکا ماجرا دل آخر مجال بیاں بھی مذکور کر دیا اہل نظر کو بھی نظر آیا لگ رو یار یاں تک حجاب نور نے مستور کر دیا حسرت بے حد ہے مرتبہ کرنے والے بلند تجھ کو تو مفت لوگوں نے مشہور کر دیا

Hasrat Mohani

0 likes

کیا حقیقت اب نہادم ہیں اپنے جور کی روداد سے لائے ہیں میرٹھ جو آخر مجھ کو فیض آباد سے سیر گل کو آئی تھی ج سے دم سواری آپ کی پھول دل گیر تھا چمن فخر مبارکباد سے ہر ک سے و نا ک سے ہوں کیونکر کامگار بے خو گرا یہ ہنر سیکھا ہے دل نے اک بڑے استاد سے اک ج ہاں مست محبت ہے کہ ہر سو ب ان سے چھائی ہے ان گیسوؤں کی نکہت برباد سے اب تلک موجود ہے کچھ کچھ لگا لائے تھے ہم حقیقت جو اک لپکا کبھی لگ خاک ج ہاں آباد سے دعوی تقوی کا حسرت ک سے کو آتا ہے یقین آپ اور جاتے رہیں پیر مغاں کی یاد سے

Hasrat Mohani

2 likes

تجھ سے گرویندہ یک زمانہ رہا کچھ فقط میں ہی مبتلا نہ رہا آپ کو اب ہوئی ہے قدر وفا جب کہ میں جائیں گے جفا نہ رہا راہ و رسم وفا وہ بھول گئے اب ہمیں بھی کوئی گلہ نہ رہا حسن خود ہو گیا غریب نواز عشق محتاج التجا نہ رہا بس کہ نظارہ سوز تھا وہ جمال ہوش نظارگی بجا نہ رہا میں کبھی تجھ سے بد گماں نہ ہوا تو کبھی مجھ سے آشنا نہ رہا آپ کا شوق بھی تو اب دل میں آپ کی یاد کے سوا نہ رہا اور بھی ہو گئے وہ غافل خواب نالہ صبح نا رسا نہ رہا حسن کا ناز کرنے والے کا نیاز اب تو کچھ بھی وہ ماجرا نہ رہا عشق جب شکوہ سنج حسن ہوا التجا ہو گئی گلہ نہ رہا ہم بھروسے پہ ان کے بیٹھ رہے جب کسی کا بھی آسرا نہ رہا میرے غم کی ہوئی انہیں بھی خبر اب تو یہ درد لا دوا نہ رہا آرزو تیری برقرار رہے دل کا کیا ہے رہا رہا نہ رہا ہو گئے ختم مجھ پہ جور فلک اب کوئی مورد بلا نہ رہا جب سے دیکھی ابوالکلام کی نثر نظم 'حسرت میں بھی مزہ نہ رہا

Hasrat Mohani

1 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Hasrat Mohani.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Hasrat Mohani's ghazal.