دل کو خیال یار نے مخمور کر دیا میک اپ کو رنگ بادہ نے پر نور کر دیا مانو سے ہوں چلا تھا تسلی سے حال دل پھروں تو نے یاد آ کے بدستور کر دیا گستاخ دستیوں کا لگ تھا مجھ ہے وہ ہے وہ حوصلہ لیکن ہجوم شوق نے مجبور کر دیا کچھ ایسی ہوں گئی ہے تری غم ہے وہ ہے وہ مبتلا گویا کسی نے جان کو مسحور کر دیا بیتابیوں سے چھپ لگ سکا ماجرا دل آخر مجال بیاں بھی مذکور کر دیا اہل نظر کو بھی نظر آیا لگ رو یار یاں تک حجاب نور نے مستور کر دیا حسرت بے حد ہے مرتبہ کرنے والے بلند تجھ کو تو مفت لوگوں نے مشہور کر دیا
Related Ghazal
اسی جگہ پر ج ہاں کئی راستے ملیںگے پلٹ کے آئی تو سب سے پہلے تجھے ملیںگے ا گر کبھی تری نام پر جنگ ہوں گئی تو ہم ایسے بزدل بھی پہلی صف ہے وہ ہے وہ کھڑے ملیںگے تجھے یہ سڑکیں مری توسط سے جانتی ہیں تجھے ہمیشہ یہ سب اشارے کھلے ملیںگے
Tehzeeb Hafi
465 likes
چاند ستارے تم پھول پرندے شام سویرہ ایک طرف ساری دنیا ا سے کا چربہ ا سے کا چہرہ ایک طرف حقیقت لڑکر بھی سو جائے تو ا سے کا ماتھا چوموں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے سے محبت ایک طرف ہے ا سے سے جھگڑا ایک طرف ج سے اجازت پر حقیقت انگلی رکھ دے اس کا کو حقیقت دلوانی ہے ا سے کی خوشیاں سب سے اول سستا مہنگا ایک طرف زخموں پر مرہم لگواو لیکن ا سے کے ہاتھوں سے چارسازی ایک طرف ہے ا سے کا چھونا ایک طرف ساری دنیا جو بھی بولے سب کچھ شور شرابا ہے سب کا کہنا ایک طرف ہے ا سے کا کہنا ایک طرف ا سے نے ساری دنیا مانگی ہے وہ ہے وہ نے اس کا کو مانگا ہے ا سے کے سپنے ایک طرف ہے میرا سپنا ایک طرف
Varun Anand
406 likes
یہ غم کیا دل کی عادت ہے نہیں تو کسی سے کچھ شکایت ہے نہیں تو ہے حقیقت اک خواب بے تعبیر ا سے کو بھلا دینے کی نیت ہے نہیں تو کسی کے بن کسی کی یاد کے بن جیے جانے کی ہمت ہے نہیں تو کسی صورت بھی دل لگتا نہیں ہاں تو کچھ دن سے یہ حالت ہے نہیں تو تری ا سے حال پر ہے سب کو حیرت تجھے بھی ا سے پہ حیرت ہے نہیں تو ہم آہنگی نہیں دنیا سے تیری تجھے ا سے پر ندامت ہے نہیں تو ہوا جو کچھ یہی مقسوم تھا کیا یہی ساری مقسوم ہے نہیں تو اذیت ناک اذیت ناک سے تجھ کو اماں پانے کی حسرت ہے نہیں تو تو رہتا ہے خیال و خواب ہے وہ ہے وہ گم تو ا سے کی وجہ فرصت ہے نہیں تو سبب جو ا سے جدائی کا بنا ہے حقیقت مجھ سے خوبصورت ہے نہیں تو
Jaun Elia
355 likes
اتنا مجبور لگ کر بات بنانے لگ جائے ہم تری سر کی قسم جھوٹ ہی خانے لگ جائے اتنے سناٹے پیے مری سماعت نے کہ اب صرف آواز پہ چا ہوں تو نشانے لگ جائے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا گر اپنی جوانی کے سنا دوں قصے یہ جو افلاطون ہیں مری پاؤں دبانے لگ جائے
Mehshar Afridi
173 likes
مری لیے تو عشق کا وعدہ ہے شاعری آدھا سرور جاناں ہوں تو آدھا ہے شاعری رودراکش ہاتھ ہے وہ ہے وہ ہے تو سینے ہے وہ ہے وہ اوم ہے اندھیرا ہے میرا دل مری رادھا ہے شاعری اپنا تو میل جول ہی ب سے عاشقوں سے ہے درویش کا ب سے ایک لبادہ ہے شاعری ہوں آشنا کوئی تو مہ لقا ہے اپنا رنگ بے رموزیوں کے واسطے سادہ ہے شاعری جاناں سامنے ہوں اور مری دسترسی ہے وہ ہے وہ ہوں ا سے سمے مری دل کا ارادہ ہے شاعری بھگوان ہوں خدا ہوں محبت ہوں یا بدن ج سے سمت بھی چلو یہی زادہ ہے شاعری ا سے لیے بھی عشق ہی لکھتا ہوں ہے وہ ہے وہ علی میرا کسی سے آخری وعدہ ہے شاعری
Ali Zaryoun
70 likes
More from Hasrat Mohani
آسان حقیقی ہے لگ کچھ سہل مجازی معلوم ہوئی راہ محبت کی درازی کچھ لطف و نظر لازم و ملزوم نہیں ہیں اک یہ بھی تمنا کی لگ ہوں شوبدہ بازی دل خوب سمجھتا ہے تری حرف کرم کو ہر چند حقیقت اردو ہے لگ ترکی ہے لگ تازی قائم ہے لگ حقیقت حسن رکھ یار کا عالم باقی ہے لگ حقیقت شوق کی ہنگامہ نوازی اے عشق تری جرح بہر حال ہے ثابت مر کر بھی شہیدان محبت ہوئے غازی کر جلد ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ختم کہی اے غم جاناں کام آوےگی عشق دل ک سے روز تری سی لگ گدازی معلوم ہے دنیا کو یہ حسرت کی حقیقت خلوت ہے وہ ہے وہ حقیقت مے خوار ہے جلوت ہے وہ ہے وہ نمازی
Hasrat Mohani
0 likes
اور بھی ہوں گئے بیگا لگ حقیقت غفلت کر کے آزمایا جو ا نہیں درد فراق کر کے دل نے چھوڑا ہے لگ چھوڑے تری ملنے کا خیال بارہا دیکھ لیا ہم نے ملامت کر کے دیکھنے آئی تھے حقیقت اپنی محبت کا اثر کہنے کو یہ ہے کہ آئی ہیں عیادت کر کے پستی حوصلہ شوق کی اب ہے یہ صلاح بیٹھ رہیے غم ہجراں پہ قناعت کر کے دل نے پایا ہے محبت کا یہ عالی رتبہ آپ کے درد دواکار کی خدمت کر کے روح نے پائی ہے تکلیف جدائی سے نجات آپ کی یاد کو سرمایہ راحت کر کے چھیڑ سے اب حقیقت یہ کہتے ہیں کہ سنبھلوں حسرت دل پامال و تاب دل بیمار کو غارت کر کے
Hasrat Mohani
0 likes
کیا حقیقت اب نہادم ہیں اپنے جور کی روداد سے لائے ہیں میرٹھ جو آخر مجھ کو فیض آباد سے سیر گل کو آئی تھی ج سے دم سواری آپ کی پھول دل گیر تھا چمن فخر مبارکباد سے ہر ک سے و نا ک سے ہوں کیونکر کامگار بے خو گرا یہ ہنر سیکھا ہے دل نے اک بڑے استاد سے اک ج ہاں مست محبت ہے کہ ہر سو ب ان سے چھائی ہے ان گیسوؤں کی نکہت برباد سے اب تلک موجود ہے کچھ کچھ لگا لائے تھے ہم حقیقت جو اک لپکا کبھی لگ خاک ج ہاں آباد سے دعوی تقوی کا حسرت ک سے کو آتا ہے یقین آپ اور جاتے رہیں پیر مغاں کی یاد سے
Hasrat Mohani
2 likes
نگاہ یار جسے آشنا راز کرے حقیقت اپنی خوبی قسمت پہ کیوں لگ ناز کرے دلوں کو فکر دو عالم سے کر دیا آزاد تری جنوں کا خدا سلسلہ دراز کرے خرد کا نام جنوں پڑ گیا تو جنوں کا خرد جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے تری ستم سے ہے وہ ہے وہ خوش ہوں کہ غالباً یوں بھی مجھے حقیقت شامل ارباب امتیاز کرے غم ج ہاں سے جسے ہوں فراغ کی خواہش حقیقت ان کے درد محبت سے ساز باز کرے امیدوار ہیں ہر سمت عاشقوں کے گروہ تری نگاہ کو اللہ دل نواز کرے تری کرم کا سزا وار تو نہیں حسرت اب آگے تیری خوشی ہے جو سرفراز کرے
Hasrat Mohani
2 likes
دیکھنا بھی تو ا نہیں دور سے دیکھا کرنا شیوا عشق نہیں حسن کو رسوا کرنا اک نظر بھی تری کافی تھی پ راحت جاں کچھ بھی دشوار لگ تھا مجھ کو شکیبا کرنا ان کو یاں وعدے پہ آ لینے دے اے ابر بہار ج سے دودمان چاہنا پھروں بعد ہے وہ ہے وہ برسا کرنا شام ہوں یا کہ سحر یاد انہی کی رکھنی دن ہوں یا رات ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ذکر انہی کا کرنا صوم زاہد کو مبارک رہے عابد کو صلات آسیوں کو تری رحمت پہ بھروسا کرنا عاشقو حسن کہوں کار کا شکوہ ہے گناہ جاناں خبردار خبردار لگ ایسا کرنا کچھ سمجھ ہے وہ ہے وہ نہیں آتا کہ یہ کیا ہے حسرت ان سے مل کر بھی لگ اظہار تمنا کرنا
Hasrat Mohani
2 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Hasrat Mohani.
Similar Moods
More moods that pair well with Hasrat Mohani's ghazal.







