کیا حقیقت اب نہادم ہیں اپنے جور کی روداد سے لائے ہیں میرٹھ جو آخر مجھ کو فیض آباد سے سیر گل کو آئی تھی ج سے دم سواری آپ کی پھول دل گیر تھا چمن فخر مبارکباد سے ہر ک سے و نا ک سے ہوں کیونکر کامگار بے خو گرا یہ ہنر سیکھا ہے دل نے اک بڑے استاد سے اک ج ہاں مست محبت ہے کہ ہر سو ب ان سے چھائی ہے ان گیسوؤں کی نکہت برباد سے اب تلک موجود ہے کچھ کچھ لگا لائے تھے ہم حقیقت جو اک لپکا کبھی لگ خاک ج ہاں آباد سے دعوی تقوی کا حسرت ک سے کو آتا ہے یقین آپ اور جاتے رہیں پیر مغاں کی یاد سے
Related Ghazal
حقیقت بےوفا ہے تو کیا مت کہو برا اس کا کو کہ جو ہوا سو ہوا خوش رکھے خدا اس کا کو نظر لگ آئی تو ا سے کی تلاش ہے وہ ہے وہ رہنا کہی ملے تو پلٹ کر لگ دیکھنا اس کا کو حقیقت سادہ خوں تھا زمانے کے خم سمجھتا کیا ہوا کے ساتھ چلا لے اڑی ہوا اس کا کو حقیقت اپنے بارے ہے وہ ہے وہ کتنا ہے خوش گماں دیکھو جب اس کا کو ہے وہ ہے وہ بھی لگ دیکھوں تو دیکھنا اس کا کو
Naseer Turabi
244 likes
خاموش لب ہیں جھکی ہیں پلکیں دلوں ہے وہ ہے وہ الفت نئی نئی ہے ابھی تکلف ہے گفتگو ہے وہ ہے وہ ابھی محبت نئی نئی ہے ابھی لگ آئیںگی نیند جاناں کو ابھی لگ ہم کو سکون ملےگا ابھی تو دھڑکے گا دل زیادہ ابھی محبت نئی نئی ہے بہار کا آج پہلا دن ہے چلو چمن ہے وہ ہے وہ ٹہل کے آئیں فضا ہے وہ ہے وہ خوشبو نئی نئی ہے گلوں ہے وہ ہے وہ رنگت نئی نئی ہے جو خاندانی رئی سے ہیں حقیقت مزاج رکھتے ہیں نرم اپنا تمہارا لہجہ بتا رہا ہے تمہاری دولت نئی نئی ہے ذرا سا قدرت نے کیا نوازا کے آکے بیٹھے ہوں پہلی صف ہے وہ ہے وہ ہے وہ ابھی کیوں اڑنے لگے ہوا ہے وہ ہے وہ ابھی تو شہرت نئی نئی ہے بموں کی برسات ہوں رہی ہے پرانی جانباز سو رہے ہیں غلام دنیا کو کر رہا ہے حقیقت ج سے کی طاقت نئی نئی ہے
Shabeena Adeeb
232 likes
تمہیں ب سے یہ بتانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے کیا چھپانا چاہتا ہوں کبھی مجھ سے بھی کوئی جھوٹ بولو ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہاں ہے وہ ہے وہ ہاں ملانا چاہتا ہوں یہ جو کھڑکی ہے نقشے ہے وہ ہے وہ تمہارے ی ہاں ہے وہ ہے وہ در بنانا چاہتا ہوں اداکاری بے حد دکھ دے رہی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ سچ مچ مسکرانا چاہتا ہوں پروں ہے وہ ہے وہ تیر ہے پنجوں ہے وہ ہے وہ تنکے ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ چڑیا اڑانا چاہتا ہوں لیے بیٹھا ہوں گھنگرو پھول اندھیرا ترا ہنسنا بنانا چاہتا ہوں بیگا لگ غم عشق کی جاناں کو مبارک ہے وہ ہے وہ ہے وہ ب سے خا لگ کمانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سارے شہر کی بیساخیوں کو تری در پر نرم گوئی چاہتا ہوں مجھے جاناں سے اندھیرا ہی پڑےگا ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں کو یاد آنا چاہتا ہوں
Fahmi Badayuni
249 likes
کیسے ا سے نے یہ سب کچھ مجھ سے چھپ کر بدلا چہرہ بدلا رستہ بدلا بعد ہے وہ ہے وہ گھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے بارے ہے وہ ہے وہ یہ کہتا تھا لوگوں سے میرا نام بدل دینا حقیقت بے وجہ ا گر بدلا حقیقت بھی خوش تھا ا سے نے دل دے کر دل مانگا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی خوش ہوں ہے وہ ہے وہ نے پتھر سے پتھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے کہا کیا مری خاطر خود کو بدلوگے اور پھروں ا سے نے نظریں بدلیں اور نمبر بدلا
Tehzeeb Hafi
435 likes
زبان تو کھول نظر تو ملا جواب تو دے ہے وہ ہے وہ ہے وہ کتنی بار لٹا ہوں مجھے حساب تو دے تری بدن کی ودھی ہے وہ ہے وہ ہے اتار لکھاوت ہے وہ ہے وہ ہے وہ تجھے کیسے چڑھاو مجھے کتاب تو دے تیرا سوال ہے ساقی کہ زندگی کیا ہے جواب دیتا ہوں پہلے مجھے شراب تو دے
Rahat Indori
190 likes
More from Hasrat Mohani
اور بھی ہوں گئے بیگا لگ حقیقت غفلت کر کے آزمایا جو ا نہیں درد فراق کر کے دل نے چھوڑا ہے لگ چھوڑے تری ملنے کا خیال بارہا دیکھ لیا ہم نے ملامت کر کے دیکھنے آئی تھے حقیقت اپنی محبت کا اثر کہنے کو یہ ہے کہ آئی ہیں عیادت کر کے پستی حوصلہ شوق کی اب ہے یہ صلاح بیٹھ رہیے غم ہجراں پہ قناعت کر کے دل نے پایا ہے محبت کا یہ عالی رتبہ آپ کے درد دواکار کی خدمت کر کے روح نے پائی ہے تکلیف جدائی سے نجات آپ کی یاد کو سرمایہ راحت کر کے چھیڑ سے اب حقیقت یہ کہتے ہیں کہ سنبھلوں حسرت دل پامال و تاب دل بیمار کو غارت کر کے
Hasrat Mohani
0 likes
آسان حقیقی ہے لگ کچھ سہل مجازی معلوم ہوئی راہ محبت کی درازی کچھ لطف و نظر لازم و ملزوم نہیں ہیں اک یہ بھی تمنا کی لگ ہوں شوبدہ بازی دل خوب سمجھتا ہے تری حرف کرم کو ہر چند حقیقت اردو ہے لگ ترکی ہے لگ تازی قائم ہے لگ حقیقت حسن رکھ یار کا عالم باقی ہے لگ حقیقت شوق کی ہنگامہ نوازی اے عشق تری جرح بہر حال ہے ثابت مر کر بھی شہیدان محبت ہوئے غازی کر جلد ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ختم کہی اے غم جاناں کام آوےگی عشق دل ک سے روز تری سی لگ گدازی معلوم ہے دنیا کو یہ حسرت کی حقیقت خلوت ہے وہ ہے وہ حقیقت مے خوار ہے جلوت ہے وہ ہے وہ نمازی
Hasrat Mohani
0 likes
دل کو خیال یار نے مخمور کر دیا میک اپ کو رنگ بادہ نے پر نور کر دیا مانو سے ہوں چلا تھا تسلی سے حال دل پھروں تو نے یاد آ کے بدستور کر دیا گستاخ دستیوں کا لگ تھا مجھ ہے وہ ہے وہ حوصلہ لیکن ہجوم شوق نے مجبور کر دیا کچھ ایسی ہوں گئی ہے تری غم ہے وہ ہے وہ مبتلا گویا کسی نے جان کو مسحور کر دیا بیتابیوں سے چھپ لگ سکا ماجرا دل آخر مجال بیاں بھی مذکور کر دیا اہل نظر کو بھی نظر آیا لگ رو یار یاں تک حجاب نور نے مستور کر دیا حسرت بے حد ہے مرتبہ کرنے والے بلند تجھ کو تو مفت لوگوں نے مشہور کر دیا
Hasrat Mohani
0 likes
हर हाल में रहा जो तिरा आसरा मुझे मायूस कर सका न हुजूम-ए-बला मुझे हर नग़्में ने उन्हीं की तलब का दिया पयाम हर साज़ ने उन्हीं की सुनाई सदा मुझे हर बात में उन्हीं की ख़ुशी का रहा ख़याल हर काम से ग़रज़ है उन्हीं की रज़ा मुझे रहता हूँ ग़र्क़ उन के तसव्वुर में रोज़ ओ शब मस्ती का पड़ गया है कुछ ऐसा मज़ा मुझे रखिए न मुझ पे तर्क-ए-मोहब्बत की तोहमतें जिस का ख़याल तक भी नहीं है रवा मुझे क्या कहते हो कि और लगा लो किसी से दिल तुम सा नज़र भी आए कोई दूसरा मुझे बेगाना-ए-अदब किए देती है क्या करूँं उस महव-ए-नाज़ की निगह-ए-आशना मुझे उस बे-निशां के मिलने की 'हसरत' हुई उम्मीद आब-ए-बक़ा से बढ़ के है ज़हर-ए-फ़ना मुझे
Hasrat Mohani
0 likes
اپنا سا شوق اوروں ہے وہ ہے وہ لائیں ک ہاں سے ہم نزدیک تر گئے ہیں بے دلی ہمر ہاں سے ہم کچھ ایسی دور بھی تو نہیں منزل مراد لیکن یہ جب کہ چھوٹ چلیں کارواں سے ہم اے یاد یار دیکھ کہ با وصف رنج ہجر مسرو ہیں تری خلش نا توانا سے ہم معلوم سب ہے پوچھتے ہوں پھروں بھی مدعا اب جاناں سے دل کی بات کہی کیا زبان سے ہم اے زہد خشک تیری ہدایت کے واسطے سوغات عشق لائے ہیں کوئے بتاں سے ہم بیتابیوں سے چھپ لگ سکا حال آرزو آخر بچے لگ ا سے نگہ بد گما سے ہم پیرانا سر بھی شوق کی ہمت بلند ہے خواہان کام جاں ہیں جو ا سے نوجوان سے ہم مایو سے بھی تو کرتے نہیں جاناں ز راہ ناز تنگ آ گئے ہیں کش مکش امتحاں سے ہم خلوت بنےگی تری غم جاں نواز کی لیںگے یہ کام اپنے دل شادماں سے ہم ہے انتہا یا سے بھی اک ابتدا شوق پھروں آ گئے وہیں پہ چلے تھے ج ہاں سے ہم حسرت پھروں اور جا کے کریں ک سے کی بندگی اچھا جو سر اٹھائیں بھی ا سے آستاں سے ہم
Hasrat Mohani
1 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Hasrat Mohani.
Similar Moods
More moods that pair well with Hasrat Mohani's ghazal.







