ghazalKuch Alfaaz

یاد کر حقیقت دن کہ تیرا کوئی سودائی لگ تھا باوجود حسن تو آگاہ رعنائی لگ تھا عشق روز افزوں پہ اپنے مجھ کو حیرانی لگ تھی جلوہ رنگیں پہ تجھ کو ناز یکتائی لگ تھا دید کے قابل تھی مری عشق کی بھی سادگی جبکہ تیرا حسن سرگرم خود آرائی لگ تھا کیا ہوئے حقیقت دن کہ محوہ آرزو تھے حسن و عشقربط تھا دونوں ہے وہ ہے وہ گو ربط شناسائی لگ تھا تو نے حسرت کی عیاں تہذیب رسم کرنے والے ا سے سے پہلے اعتبار شان رسوائی لگ تھا

Related Ghazal

زنے حسین تھی اور پھول چن کر لاتی تھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ شعر کہتا تھا حقیقت داستان سناتی تھی عرب لہو تھا رگوں ہے وہ ہے وہ بدن سنہرا تھا حقیقت مسکراتی نہیں تھی دیے جلاتی تھی علی سے دور رہو لوگ ا سے سے کہتے تھے حقیقت میرا سچ ہے بے حد چیک کر بتاتی تھی علی یہ لوگ تمہیں جانتے نہیں ہیں ابھی گلے دیکھیں گے میرا حوصلہ بڑھاتی تھی یہ پھول دیکھ رہے ہوں یہ ا سے کا لہجہ تھا یہ جھیل دیکھ رہے ہوں ی ہاں حقیقت آتی تھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے بعد کبھی ٹھیک سے نہیں جاگا حقیقت مجھ کو خواب نہیں نیند سے جگاتی تھی اسے کسی سے محبت تھی اور حقیقت ہے وہ ہے وہ نہیں تھا یہ بات مجھ سے زیادہ اسے رلاتی تھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ کچھ بتا نہیں سکتا حقیقت مری کیا تھی علی کہ اس کا کو دیکھ کر ب سے اپنی یاد آتی تھی

Ali Zaryoun

102 likes

حقیقت منہ لگاتا ہے جب کوئی کام ہوتا ہے جو اس کا کا ہوتا ہے سمجھو غلام ہوتا ہے کسی کا ہوں کے دوبارہ نہ آنا میری طرف محبتوں ہے وہ ہے وہ حلالہ حرام ہوتا ہے اسے بھی گنتے ہیں ہم لوگ اہل خانہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہمارے یاں تو شجر کا بھی نام ہوتا ہے تجھ ایسے بے وجہ کے ہوتے ہیں ضرب سے دوست بہت تجھ ایسا بے وجہ بہت جلد آم ہوتا ہے کبھی لگی ہے تمہیں کوئی شام آخری شام ہمارے ساتھ یہ ہر ایک شام ہوتا ہے

Umair Najmi

81 likes

اک پل ہے وہ ہے وہ اک ص گرا کا مزہ ہم سے پوچھیے دو دن کی زندگی کا مزہ ہم سے پوچھیے بھولے ہیں رفتہ رفتہ ا نہیں مدتوں ہے وہ ہے وہ ہم قسطوں ہے وہ ہے وہ خود کشی کا مزہ ہم سے پوچھیے آغاز کرنے والے کا مزہ آپ جانیے انجام کرنے والے کا مزہ ہم سے پوچھیے جلتے دیوں ہے وہ ہے وہ جلتے گھروں جیسی ذو ک ہاں سرکار روشنی کا مزہ ہم سے پوچھیے حقیقت جان ہی گئے کہ ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ان سے پیار ہے آنکھوں کی مخبری کا مزہ ہم سے پوچھیے ہنسنے کا شوق ہم کو بھی تھا آپ کی طرح ہنسیے م گر ہنسی کا مزہ ہم سے پوچھیے ہم توبہ کر کے مر گئے بے موت اے خمار توہین مے کشی کا مزہ ہم سے پوچھیے

Khumar Barabankvi

95 likes

غزل تو سب کو میٹھی لگ رہی تھی م گر نہاتک کو مرچی لگ رہی تھی تمہارے لب نہیں چومے تھے جب تک مجھے ہر چیز کڑوی لگ رہی تھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ ج سے دن چھوڑنے والا تھا اس کا کو حقیقت ا سے دن سب سے پیاری لگ رہی تھی

Zubair Ali Tabish

80 likes

خالی بیٹھے ہوں تو اک کام میرا کر دو نا مجھ کو اچھا سا کوئی زخم ادا کر دو نا دھیان سے پنچھیوں کو دیتے ہوں دا لگ پانی اتنے اچھے ہوں تو پنجرے سے رہا کر دو نا جب قریب آ ہی گئے ہوں تو اداسی کیسی جب دیا دے ہی رہے ہوں تو جلا کر دو نا

Zubair Ali Tabish

102 likes

More from Hasrat Mohani

اور بھی ہوں گئے بیگا لگ حقیقت غفلت کر کے آزمایا جو ا نہیں درد فراق کر کے دل نے چھوڑا ہے لگ چھوڑے تری ملنے کا خیال بارہا دیکھ لیا ہم نے ملامت کر کے دیکھنے آئی تھے حقیقت اپنی محبت کا اثر کہنے کو یہ ہے کہ آئی ہیں عیادت کر کے پستی حوصلہ شوق کی اب ہے یہ صلاح بیٹھ رہیے غم ہجراں پہ قناعت کر کے دل نے پایا ہے محبت کا یہ عالی رتبہ آپ کے درد دواکار کی خدمت کر کے روح نے پائی ہے تکلیف جدائی سے نجات آپ کی یاد کو سرمایہ راحت کر کے چھیڑ سے اب حقیقت یہ کہتے ہیں کہ سنبھلوں حسرت دل پامال و تاب دل بیمار کو غارت کر کے

Hasrat Mohani

0 likes

کیا حقیقت اب نہادم ہیں اپنے جور کی روداد سے لائے ہیں میرٹھ جو آخر مجھ کو فیض آباد سے سیر گل کو آئی تھی ج سے دم سواری آپ کی پھول دل گیر تھا چمن فخر مبارکباد سے ہر ک سے و نا ک سے ہوں کیونکر کامگار بے خو گرا یہ ہنر سیکھا ہے دل نے اک بڑے استاد سے اک ج ہاں مست محبت ہے کہ ہر سو ب ان سے چھائی ہے ان گیسوؤں کی نکہت برباد سے اب تلک موجود ہے کچھ کچھ لگا لائے تھے ہم حقیقت جو اک لپکا کبھی لگ خاک ج ہاں آباد سے دعوی تقوی کا حسرت ک سے کو آتا ہے یقین آپ اور جاتے رہیں پیر مغاں کی یاد سے

Hasrat Mohani

2 likes

آسان حقیقی ہے لگ کچھ سہل مجازی معلوم ہوئی راہ محبت کی درازی کچھ لطف و نظر لازم و ملزوم نہیں ہیں اک یہ بھی تمنا کی لگ ہوں شوبدہ بازی دل خوب سمجھتا ہے تری حرف کرم کو ہر چند حقیقت اردو ہے لگ ترکی ہے لگ تازی قائم ہے لگ حقیقت حسن رکھ یار کا عالم باقی ہے لگ حقیقت شوق کی ہنگامہ نوازی اے عشق تری جرح بہر حال ہے ثابت مر کر بھی شہیدان محبت ہوئے غازی کر جلد ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ختم کہی اے غم جاناں کام آوےگی عشق دل ک سے روز تری سی لگ گدازی معلوم ہے دنیا کو یہ حسرت کی حقیقت خلوت ہے وہ ہے وہ حقیقت مے خوار ہے جلوت ہے وہ ہے وہ نمازی

Hasrat Mohani

0 likes

हर हाल में रहा जो तिरा आसरा मुझे मायूस कर सका न हुजूम-ए-बला मुझे हर नग़्में ने उन्हीं की तलब का दिया पयाम हर साज़ ने उन्हीं की सुनाई सदा मुझे हर बात में उन्हीं की ख़ुशी का रहा ख़याल हर काम से ग़रज़ है उन्हीं की रज़ा मुझे रहता हूँ ग़र्क़ उन के तसव्वुर में रोज़ ओ शब मस्ती का पड़ गया है कुछ ऐसा मज़ा मुझे रखिए न मुझ पे तर्क-ए-मोहब्बत की तोहमतें जिस का ख़याल तक भी नहीं है रवा मुझे क्या कहते हो कि और लगा लो किसी से दिल तुम सा नज़र भी आए कोई दूसरा मुझे बेगाना-ए-अदब किए देती है क्या करूँं उस महव-ए-नाज़ की निगह-ए-आशना मुझे उस बे-निशां के मिलने की 'हसरत' हुई उम्मीद आब-ए-बक़ा से बढ़ के है ज़हर-ए-फ़ना मुझे

Hasrat Mohani

0 likes

نگاہ یار جسے آشنا راز کرے حقیقت اپنی خوبی قسمت پہ کیوں لگ ناز کرے دلوں کو فکر دو عالم سے کر دیا آزاد تری جنوں کا خدا سلسلہ دراز کرے خرد کا نام جنوں پڑ گیا تو جنوں کا خرد جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے تری ستم سے ہے وہ ہے وہ خوش ہوں کہ غالباً یوں بھی مجھے حقیقت شامل ارباب امتیاز کرے غم ج ہاں سے جسے ہوں فراغ کی خواہش حقیقت ان کے درد محبت سے ساز باز کرے امیدوار ہیں ہر سمت عاشقوں کے گروہ تری نگاہ کو اللہ دل نواز کرے تری کرم کا سزا وار تو نہیں حسرت اب آگے تیری خوشی ہے جو سرفراز کرے

Hasrat Mohani

2 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Hasrat Mohani.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Hasrat Mohani's ghazal.