ghazalKuch Alfaaz

اب آ گیا تو ہے ج ہاں ہے وہ ہے وہ تو مسکراتا جا چمن کے پھول دلوں کے کنول کھلاتا جا عدم حیات سے پہلے عدم حیات کے بعد یہ ایک پل ہے اسے جاویداں بناتا جا بھٹک رہی ہے اندھیرے ہے وہ ہے وہ زندگی کی بارات کوئی چراغ سر رہگزر جلاتا جا گزر چمن سے مثال نسیم صبح بہار گلوں کو چھیڑ کے کانٹوں کو گدگداتا جا رہ دراز ہے اور دور شوق کی منزل گراں ہے مرحلہ عمر گیت گاتا جا بلا سے بزم ہے وہ ہے وہ گر ذوق نغمگی کم ہے نوا تلخ کو کچھ تلخ تر بناتا جا جو ہوں سکے تو بدل زندگی کو خود ور لگ نزاد نو کو طریق جنوں سکھاتا جا دکھا کے جلوہ فردا بنا دے دیوا لگ نئے زمانے کے رکھ سے نقاب اٹھاتا جا بے حد دنوں سے دل و جاں کی محفلیں ہیں ادا سے کوئی ترا لگ کوئی داستان سناتا جا

Related Ghazal

حقیقت بےوفا ہے تو کیا مت کہو برا اس کا کو کہ جو ہوا سو ہوا خوش رکھے خدا اس کا کو نظر لگ آئی تو ا سے کی تلاش ہے وہ ہے وہ رہنا کہی ملے تو پلٹ کر لگ دیکھنا اس کا کو حقیقت سادہ خوں تھا زمانے کے خم سمجھتا کیا ہوا کے ساتھ چلا لے اڑی ہوا اس کا کو حقیقت اپنے بارے ہے وہ ہے وہ کتنا ہے خوش گماں دیکھو جب اس کا کو ہے وہ ہے وہ بھی لگ دیکھوں تو دیکھنا اس کا کو

Naseer Turabi

244 likes

خاموش لب ہیں جھکی ہیں پلکیں دلوں ہے وہ ہے وہ الفت نئی نئی ہے ابھی تکلف ہے گفتگو ہے وہ ہے وہ ابھی محبت نئی نئی ہے ابھی لگ آئیںگی نیند جاناں کو ابھی لگ ہم کو سکون ملےگا ابھی تو دھڑکے گا دل زیادہ ابھی محبت نئی نئی ہے بہار کا آج پہلا دن ہے چلو چمن ہے وہ ہے وہ ٹہل کے آئیں فضا ہے وہ ہے وہ خوشبو نئی نئی ہے گلوں ہے وہ ہے وہ رنگت نئی نئی ہے جو خاندانی رئی سے ہیں حقیقت مزاج رکھتے ہیں نرم اپنا تمہارا لہجہ بتا رہا ہے تمہاری دولت نئی نئی ہے ذرا سا قدرت نے کیا نوازا کے آکے بیٹھے ہوں پہلی صف ہے وہ ہے وہ ہے وہ ابھی کیوں اڑنے لگے ہوا ہے وہ ہے وہ ابھی تو شہرت نئی نئی ہے بموں کی برسات ہوں رہی ہے پرانی جانباز سو رہے ہیں غلام دنیا کو کر رہا ہے حقیقت ج سے کی طاقت نئی نئی ہے

Shabeena Adeeb

232 likes

کیسے ا سے نے یہ سب کچھ مجھ سے چھپ کر بدلا چہرہ بدلا رستہ بدلا بعد ہے وہ ہے وہ گھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے بارے ہے وہ ہے وہ یہ کہتا تھا لوگوں سے میرا نام بدل دینا حقیقت بے وجہ ا گر بدلا حقیقت بھی خوش تھا ا سے نے دل دے کر دل مانگا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی خوش ہوں ہے وہ ہے وہ نے پتھر سے پتھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے کہا کیا مری خاطر خود کو بدلوگے اور پھروں ا سے نے نظریں بدلیں اور نمبر بدلا

Tehzeeb Hafi

435 likes

अब के हम बिछड़े तो शायद कभी ख़्वाबों में मिलें जिस तरह सूखे हुए फूल किताबों में मिलें ढूँढ़ उजड़े हुए लोगों में वफ़ा के मोती ये ख़ज़ाने तुझे मुमकिन है ख़राबों में मिलें ग़म-ए-दुनिया भी ग़म-ए-यार में शामिल कर लो नशा बढ़ता है शराबें जो शराबों में मिलें तू ख़ुदा है न मिरा इश्क़ फ़रिश्तों जैसा दोनों इंसाँ हैं तो क्यूँँ इतने हिजाबों में मिलें आज हम दार पे खींचे गए जिन बातों पर क्या अजब कल वो ज़माने को निसाबों में मिलें अब न वो मैं न वो तू है न वो माज़ी है 'फ़राज़' जैसे दो शख़्स तमन्ना के सराबों में मिलें

Ahmad Faraz

130 likes

اصولوں پر ج ہاں آنچ آئی ٹکرانا ضروری ہے جو زندہ ہوں تو پھروں زندہ نظر آنا ضروری ہے نئی عمروں کی خودمختاریوں کو کون سمجھائے ک ہاں سے بچ کے چلنا ہے ک ہاں جانا ضروری ہے تھکے ہارے پرندے جب بسیرے کے لیے لوٹیں سلیقہ مند شاخوں کا لچک جانا ضروری ہے بے حد بےباک آنکھوں ہے وہ ہے وہ تعلق ٹک نہیں پاتا محبت ہے وہ ہے وہ کشش رکھنے کو شرمانا ضروری ہے سلیقہ ہی نہیں شاید اسے محسو سے کرنے کا جو کہتا ہے خدا ہے تو نظر آنا ضروری ہے مری ہونٹوں پہ اپنی پیا سے رکھ دو اور پھروں سوچو کہ ا سے کے بعد بھی دنیا ہے وہ ہے وہ کچھ پانا ضروری ہے

Waseem Barelvi

107 likes

More from Ali Sardar Jafri

اک صبح ہے جو ہوئی نہیں ہے اک رات ہے جو کٹی نہیں ہے مقتولوں کا قحط پڑ لگ جائے قاتل کی کہی کمی نہیں ہے ویرانوں سے آ رہی ہے آواز تخلیق جنوں رکی نہیں ہے ہے اور ہی کاروبار مستی جی لینا تو زندگی نہیں ہے ساقی سے جو جام لے لگ بڑھ کر حقیقت تشنہ لبی تشنہ لبی نہیں ہے عاشق کشی و فریب کاری یہ شیوا دل بری نہیں ہے بھوکوں کی نگاہ ہے وہ ہے وہ ہے بجلی یہ برق ابھی گری نہیں ہے دل ہے وہ ہے وہ جو جلائی تھی کسی نے حقیقت شم طرب بجھی نہیں ہے اک دھوپ سی ہے جو زیر مژگاں حقیقت آنکھ ابھی اٹھی نہیں ہے ہیں کام بے حد ابھی کہ دنیا شائستہ آدمی نہیں ہے ہر رنگ کے آ چکے ہیں فرعون لیکن یہ جبیں جھکی نہیں ہے

Ali Sardar Jafri

0 likes

عقیدے بجھ رہے ہیں شم جاں گل ہوتی جاتی ہے م گر ذوق جنوں کی شعلہ سامانی نہیں جاتی خدا معلوم ک سے ک سے کے لہو کی لالا کاری ہے زمین کو جاناں آج بےبسی نہیں جاتی ا گر یوں ہے تو کیوں ہے یوں نہیں تو کیوں نہیں آخر یقین محکم ہے لیکن دل کی حیرانی نہیں جاتی لہو جتنا تھا سارا صرف مقتل ہوں گیا تو لیکن شہیدان وفا کے رکھ کی تابانی نہیں جاتی پریشاں روزگار آشفتہ حالاں کا مقدر ہے کہ ا سے زلف پریشاں کی پریشانی نہیں جاتی ہر اک اجازت اور مہنگی اور مہنگی ہوتی جاتی ہے ب سے اک خون بشر ہے ج سے کی ارزانی نہیں جاتی نئے خوابوں کے دل ہے وہ ہے وہ شعلہ خورشید محشر ہے ضمیر حضرت انسان کی سلطانی نہیں جاتی لگاتے ہیں لبوں پر مہر ارباب زبان بن گرا علی سردار کی شان غزل خوانی نہیں جاتی

Ali Sardar Jafri

0 likes

عقیدے بجھ رہے ہیں شم جاں غل ہوتی جاتی ہے م گر ذوق جنوں کی شعلہ سامانی نہیں جاتی خدا معلوم ک سے ک سے کے لہو کی لالا کاری ہے زمین کو جاناں آج بےبسی نہیں جاتی ا گر یوں ہے تو کیوں ہے یوں نہیں تو کیوں نہیں آخر یقین محکم ہے لیکن ضد کی حیرانی نہیں جاتی لہو جتنا تھا سارا صرف مقتل ہوں گیا تو لیکن شہیدان وفا کے رکھ کی تابانی نہیں جاتی پریشاں روزگار آشفتہ حالاں کا مقدر ہے کہ ا سے زلف پریشاں کی پریشانی نہیں جاتی ہر اک اجازت اور مہنگی اور مہنگی ہوتی جاتی ہے ب سے اک خون بشر ہے ج سے کی ارزانی نہیں جاتی یہ نغمہ نغمہ بیداری جمہور عالم ہے حقیقت شمشیر نوا ج سے کی درخشانی نہیں جاتی نئے خوابوں کے دل ہے وہ ہے وہ شعلہ خورشید محشر ہے ضمیر حضرت انسان کی سلطانی نہیں جاتی لگاتے ہیں لبوں پر مہر ارباب زبان بن گرا علی سردار کی شان غزل خوانی نہیں جاتی

Ali Sardar Jafri

0 likes

ظلم کی کچھ میعاد نہیں ہے داد نہیں پڑنا نہیں ہے قتل ہوئے ہیں اب تک کتنے کوئے ستم کو یاد نہیں ہے آخر روئیں ک سے کو ک سے کو کون ہے جو برباد نہیں ہے قید چمن بھی بن جاتا ہے مرغ چمن آزاد نہیں ہے لطف ہی کیا گر اپنے مقابل سطوت برق و باد نہیں ہے سب ہوں شاداں سب ہوں خنداں تنہا کوئی شاد نہیں ہے دعوت رنگ و نکہت ہے یہ خندہ گل برباد نہیں ہے

Ali Sardar Jafri

0 likes

ساقی و مینا لیے لغزش مستا لگ لیے آئی ہم بزم ہے وہ ہے وہ پھروں جرأت رندا لگ لیے عشق پہلو ہے وہ ہے وہ ہے پھروں حصار دل خود سر لیے زلف اک ہاتھ ہے وہ ہے وہ اک ہاتھ ہے وہ ہے وہ پیما لگ لیے یاد کرتا تھا ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ رونق مے خا لگ کا ہجوم اٹھ گئے تھے جو کبھی آفتاب رکھ محبوب لیے وصل کی صبح شب ہجر کے بعد آئی ہے دور عوام کا نذرا لگ لیے عصر حاضر کو مبارک ہوں نیا سر شوکت شاہا لگ اپنی ٹھوکر ہے وہ ہے وہ رقصا لیے

Ali Sardar Jafri

1 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Ali Sardar Jafri.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Ali Sardar Jafri's ghazal.