عقیدے بجھ رہے ہیں شم جاں گل ہوتی جاتی ہے م گر ذوق جنوں کی شعلہ سامانی نہیں جاتی خدا معلوم ک سے ک سے کے لہو کی لالا کاری ہے زمین کو جاناں آج بےبسی نہیں جاتی ا گر یوں ہے تو کیوں ہے یوں نہیں تو کیوں نہیں آخر یقین محکم ہے لیکن دل کی حیرانی نہیں جاتی لہو جتنا تھا سارا صرف مقتل ہوں گیا تو لیکن شہیدان وفا کے رکھ کی تابانی نہیں جاتی پریشاں روزگار آشفتہ حالاں کا مقدر ہے کہ ا سے زلف پریشاں کی پریشانی نہیں جاتی ہر اک اجازت اور مہنگی اور مہنگی ہوتی جاتی ہے ب سے اک خون بشر ہے ج سے کی ارزانی نہیں جاتی نئے خوابوں کے دل ہے وہ ہے وہ شعلہ خورشید محشر ہے ضمیر حضرت انسان کی سلطانی نہیں جاتی لگاتے ہیں لبوں پر مہر ارباب زبان بن گرا علی سردار کی شان غزل خوانی نہیں جاتی
Related Ghazal
بیٹھے ہیں چین سے کہی جانا تو ہے نہیں ہم بے گھروں کا کوئی ہری تو ہے نہیں جاناں بھی ہوں بیتے سمے کے مانند ہوں بہو جاناں نے بھی یاد آنا ہے آنا تو ہے نہیں عہد وفا سے ک سے لیے خائف ہوں مری جان کر لو کہ جاناں نے عہد نبھانا تو ہے نہیں حقیقت جو ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ عزیز ہے کیسا ہے کون ہے کیوں پوچھتے ہوں ہم نے بتانا تو ہے نہیں دنیا ہم اہل عشق پہ کیوں پھینکتی ہے جال ہم نے تری فریب ہے وہ ہے وہ آنا تو ہے نہیں حقیقت عشق تو کرےگا م گر دیکھ بھال کے فار سے حقیقت تری جیسا دیوا لگ تو ہے نہیں
Rehman Faris
196 likes
ستم ڈھاتے ہوئے سوچا کروگے ہمارے ساتھ جاناں ایسا کروگے انگوٹھی تو مجھے لوٹا رہے ہوں انگوٹھی کے نشان کا کیا کروگے ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے اب تمنائیں بھی نہیں ہوں تو کیا ا سے بات پر جھگڑا کروگے میرا دامن تمہیں تھامے ہوئے ہوں میرا دامن تمہیں میلا کروگے بتاؤ وعدہ کر کے آوگے نا کے پچھلی بار کے جیسا کروگے حقیقت دلہن بن کے رخصت ہوں گئی ہے ک ہاں تک کار کا پیچھا کروگے مجھے ب سے یوں ہی جاناں سے پوچھنا تھا ا گر ہے وہ ہے وہ مر گیا تو تو کیا کروگے
Zubair Ali Tabish
140 likes
کسی لبا سے کی خوشبو جب اڑ کے آتی ہے تری بدن کی جدائی بے حد ستاتی ہے تری گلاب ترستے ہیں تیری خوشبو کو تیری سفید چمیلی تجھے بلاتی ہے تری بغیر مجھے چین کیسے پڑتا ہیں مری بغیر تجھے نیند کیسے آتی ہے
Jaun Elia
113 likes
تھوڑا لکھا اور زیادہ چھوڑ دیا آنے والوں کے لیے رستہ چھوڑ دیا جاناں کیا جانو ا سے دریا پر کیا گزری جاناں نے تو ب سے پانی بھرنا چھوڑ دیا لڑکیاں عشق ہے وہ ہے وہ کتنی پاگل ہوتی ہیں فون بجا اور چولہا جلتا چھوڑ دیا روز اک پتہ مجھ ہے وہ ہے وہ آ گرتا ہے جب سے ہے وہ ہے وہ نے جنگل جانا چھوڑ دیا ب سے کانوں پر ہاتھ رکھے تھے تھوڑی دیر اور پھروں ا سے آواز نے پیچھا چھوڑ دیے
Tehzeeb Hafi
262 likes
ہاتھ خالی ہیں تری شہر سے جاتے جاتے جان ہوتی تو مری جان لٹاتے جاتے اب تو ہر ہاتھ کا پتھر ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ پہچانتا ہے عمر گزری ہے تری شہر ہے وہ ہے وہ آتے جاتے اب کے مایو سے ہوا یاروں کو رخصت کر کے جا رہے تھے تو کوئی زخم لگاتے جاتے رینگنے کی بھی اجازت نہیں ہم کو ور لگ ہم جدھر جاتے نئے پھول کھلاتے جاتے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو جلتے ہوئے صحراؤں کا اک پتھر تھا جاناں تو دریا تھے مری پیا سے بجھاتے جاتے مجھ کو رونے کا سلیقہ بھی نہیں ہے شاید لوگ ہنستے ہیں مجھے دیکھ کے آتے جاتے ہم سے پہلے بھی مسافر کئی گزرے ہوں گے کم سے کم راہ کے پتھر تو ہٹاتے جاتے
Rahat Indori
102 likes
More from Ali Sardar Jafri
اب آ گیا تو ہے ج ہاں ہے وہ ہے وہ تو مسکراتا جا چمن کے پھول دلوں کے کنول کھلاتا جا عدم حیات سے پہلے عدم حیات کے بعد یہ ایک پل ہے اسے جاویداں بناتا جا بھٹک رہی ہے اندھیرے ہے وہ ہے وہ زندگی کی بارات کوئی چراغ سر رہگزر جلاتا جا گزر چمن سے مثال نسیم صبح بہار گلوں کو چھیڑ کے کانٹوں کو گدگداتا جا رہ دراز ہے اور دور شوق کی منزل گراں ہے مرحلہ عمر گیت گاتا جا بلا سے بزم ہے وہ ہے وہ گر ذوق نغمگی کم ہے نوا تلخ کو کچھ تلخ تر بناتا جا جو ہوں سکے تو بدل زندگی کو خود ور لگ نزاد نو کو طریق جنوں سکھاتا جا دکھا کے جلوہ فردا بنا دے دیوا لگ نئے زمانے کے رکھ سے نقاب اٹھاتا جا بے حد دنوں سے دل و جاں کی محفلیں ہیں ادا سے کوئی ترا لگ کوئی داستان سناتا جا
Ali Sardar Jafri
0 likes
اک صبح ہے جو ہوئی نہیں ہے اک رات ہے جو کٹی نہیں ہے مقتولوں کا قحط پڑ لگ جائے قاتل کی کہی کمی نہیں ہے ویرانوں سے آ رہی ہے آواز تخلیق جنوں رکی نہیں ہے ہے اور ہی کاروبار مستی جی لینا تو زندگی نہیں ہے ساقی سے جو جام لے لگ بڑھ کر حقیقت تشنہ لبی تشنہ لبی نہیں ہے عاشق کشی و فریب کاری یہ شیوا دل بری نہیں ہے بھوکوں کی نگاہ ہے وہ ہے وہ ہے بجلی یہ برق ابھی گری نہیں ہے دل ہے وہ ہے وہ جو جلائی تھی کسی نے حقیقت شم طرب بجھی نہیں ہے اک دھوپ سی ہے جو زیر مژگاں حقیقت آنکھ ابھی اٹھی نہیں ہے ہیں کام بے حد ابھی کہ دنیا شائستہ آدمی نہیں ہے ہر رنگ کے آ چکے ہیں فرعون لیکن یہ جبیں جھکی نہیں ہے
Ali Sardar Jafri
0 likes
عقیدے بجھ رہے ہیں شم جاں غل ہوتی جاتی ہے م گر ذوق جنوں کی شعلہ سامانی نہیں جاتی خدا معلوم ک سے ک سے کے لہو کی لالا کاری ہے زمین کو جاناں آج بےبسی نہیں جاتی ا گر یوں ہے تو کیوں ہے یوں نہیں تو کیوں نہیں آخر یقین محکم ہے لیکن ضد کی حیرانی نہیں جاتی لہو جتنا تھا سارا صرف مقتل ہوں گیا تو لیکن شہیدان وفا کے رکھ کی تابانی نہیں جاتی پریشاں روزگار آشفتہ حالاں کا مقدر ہے کہ ا سے زلف پریشاں کی پریشانی نہیں جاتی ہر اک اجازت اور مہنگی اور مہنگی ہوتی جاتی ہے ب سے اک خون بشر ہے ج سے کی ارزانی نہیں جاتی یہ نغمہ نغمہ بیداری جمہور عالم ہے حقیقت شمشیر نوا ج سے کی درخشانی نہیں جاتی نئے خوابوں کے دل ہے وہ ہے وہ شعلہ خورشید محشر ہے ضمیر حضرت انسان کی سلطانی نہیں جاتی لگاتے ہیں لبوں پر مہر ارباب زبان بن گرا علی سردار کی شان غزل خوانی نہیں جاتی
Ali Sardar Jafri
0 likes
ظلم کی کچھ میعاد نہیں ہے داد نہیں پڑنا نہیں ہے قتل ہوئے ہیں اب تک کتنے کوئے ستم کو یاد نہیں ہے آخر روئیں ک سے کو ک سے کو کون ہے جو برباد نہیں ہے قید چمن بھی بن جاتا ہے مرغ چمن آزاد نہیں ہے لطف ہی کیا گر اپنے مقابل سطوت برق و باد نہیں ہے سب ہوں شاداں سب ہوں خنداں تنہا کوئی شاد نہیں ہے دعوت رنگ و نکہت ہے یہ خندہ گل برباد نہیں ہے
Ali Sardar Jafri
0 likes
ہے وہ ہے وہ ج ہاں جاناں کو بلاتا ہوں و ہاں تک آؤ مری دی سے گزر کر چار پائی تک آؤ پھروں یہ دیکھو کہ زمانے کی ہوا ہے کیسی ساتھ مری مری دل و جاں تک آؤ حوصلہ ہوں تو فردو سے جوان مری تصور کی طرح مری اڑو کے تخیل تک آؤ پھول کے گرد گلزار جناں باغ ہے وہ ہے وہ فیرو مانند نسیم کسی مثل پروا لگ تک آؤ لو حقیقت صدیوں کے جہنم کی حدیں ختم ہوئیں اب ہے تعلق ہی تعلق ج ہاں تک آؤ چھوڑ کر فردو سے حسن یقین تک وہم و گماں پر یقین سے بھی کبھی فردو سے تک آؤ اسی دنیا ہے وہ ہے وہ دکھا دیں تمہیں جنت کی بہار شیخ جی جاناں بھی ذرا شیخ جی تک آؤ
Ali Sardar Jafri
4 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Ali Sardar Jafri.
Similar Moods
More moods that pair well with Ali Sardar Jafri's ghazal.







