ghazalKuch Alfaaz

ظلم کی کچھ میعاد نہیں ہے داد نہیں پڑنا نہیں ہے قتل ہوئے ہیں اب تک کتنے کوئے ستم کو یاد نہیں ہے آخر روئیں ک سے کو ک سے کو کون ہے جو برباد نہیں ہے قید چمن بھی بن جاتا ہے مرغ چمن آزاد نہیں ہے لطف ہی کیا گر اپنے مقابل سطوت برق و باد نہیں ہے سب ہوں شاداں سب ہوں خنداں تنہا کوئی شاد نہیں ہے دعوت رنگ و نکہت ہے یہ خندہ گل برباد نہیں ہے

Related Ghazal

کیسے ا سے نے یہ سب کچھ مجھ سے چھپ کر بدلا چہرہ بدلا رستہ بدلا بعد ہے وہ ہے وہ گھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے بارے ہے وہ ہے وہ یہ کہتا تھا لوگوں سے میرا نام بدل دینا حقیقت بے وجہ ا گر بدلا حقیقت بھی خوش تھا ا سے نے دل دے کر دل مانگا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی خوش ہوں ہے وہ ہے وہ نے پتھر سے پتھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے کہا کیا مری خاطر خود کو بدلوگے اور پھروں ا سے نے نظریں بدلیں اور نمبر بدلا

Tehzeeb Hafi

435 likes

اصولوں پر ج ہاں آنچ آئی ٹکرانا ضروری ہے جو زندہ ہوں تو پھروں زندہ نظر آنا ضروری ہے نئی عمروں کی خودمختاریوں کو کون سمجھائے ک ہاں سے بچ کے چلنا ہے ک ہاں جانا ضروری ہے تھکے ہارے پرندے جب بسیرے کے لیے لوٹیں سلیقہ مند شاخوں کا لچک جانا ضروری ہے بے حد بےباک آنکھوں ہے وہ ہے وہ تعلق ٹک نہیں پاتا محبت ہے وہ ہے وہ کشش رکھنے کو شرمانا ضروری ہے سلیقہ ہی نہیں شاید اسے محسو سے کرنے کا جو کہتا ہے خدا ہے تو نظر آنا ضروری ہے مری ہونٹوں پہ اپنی پیا سے رکھ دو اور پھروں سوچو کہ ا سے کے بعد بھی دنیا ہے وہ ہے وہ کچھ پانا ضروری ہے

Waseem Barelvi

107 likes

یہ ہے وہ ہے وہ نے کب کہا کہ مری حق ہے وہ ہے وہ فیصلہ کرے ا گر حقیقت مجھ سے خوش نہیں ہے تو مجھے جدا کرے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے ساتھ ج سے طرح گزارتا ہوں زندگی اسے تو چاہیے کہ میرا شکریہ ادا کرے مری دعا ہے اور اک طرح سے بد دعا بھی ہے خدا تمہیں تمہارے جیسی بیٹیاں عطا کرے بنا چکا ہوں ہے وہ ہے وہ محبتوں کے درد کی دوا ا گر کسی کو چاہیے تو مجھ سے رابطہ کرے

Tehzeeb Hafi

292 likes

کبھی ملیںگے تو یہ قرض بھی اتاریںگے تمہارے چہرے کو پہروں تلک نہہاریںگے یہ کیا ستم کہ کھلاڑی بدل دیا ا سے نے ہم ا سے امید پہ بیٹھے تھے ہم ہی ہاریںگے ہمارے بعد تری عشق ہے وہ ہے وہ نئے لڑکے بدن تو چو ہے وہ ہے وہ ہے وہ گے زلفیں نہیں سنواریں گے

Vikram Gaur Vairagi

70 likes

याद तब करते हो करने को न हो जब कुछ भी और कहते हो तुम्हें इश्क़ है मतलब कुछ भी अब जो आ आ के बताते हो वो शख़्स ऐसा था जब मेरे साथ था वो क्यूँँ न कहा तब कुछ भी वक्फ़े-वक्फ़े से मुझे देखने आते रहना हिज्र की शब है सो हो सकता है इस शब कुछ भी

Umair Najmi

68 likes

More from Ali Sardar Jafri

اک صبح ہے جو ہوئی نہیں ہے اک رات ہے جو کٹی نہیں ہے مقتولوں کا قحط پڑ لگ جائے قاتل کی کہی کمی نہیں ہے ویرانوں سے آ رہی ہے آواز تخلیق جنوں رکی نہیں ہے ہے اور ہی کاروبار مستی جی لینا تو زندگی نہیں ہے ساقی سے جو جام لے لگ بڑھ کر حقیقت تشنہ لبی تشنہ لبی نہیں ہے عاشق کشی و فریب کاری یہ شیوا دل بری نہیں ہے بھوکوں کی نگاہ ہے وہ ہے وہ ہے بجلی یہ برق ابھی گری نہیں ہے دل ہے وہ ہے وہ جو جلائی تھی کسی نے حقیقت شم طرب بجھی نہیں ہے اک دھوپ سی ہے جو زیر مژگاں حقیقت آنکھ ابھی اٹھی نہیں ہے ہیں کام بے حد ابھی کہ دنیا شائستہ آدمی نہیں ہے ہر رنگ کے آ چکے ہیں فرعون لیکن یہ جبیں جھکی نہیں ہے

Ali Sardar Jafri

0 likes

اب آ گیا تو ہے ج ہاں ہے وہ ہے وہ تو مسکراتا جا چمن کے پھول دلوں کے کنول کھلاتا جا عدم حیات سے پہلے عدم حیات کے بعد یہ ایک پل ہے اسے جاویداں بناتا جا بھٹک رہی ہے اندھیرے ہے وہ ہے وہ زندگی کی بارات کوئی چراغ سر رہگزر جلاتا جا گزر چمن سے مثال نسیم صبح بہار گلوں کو چھیڑ کے کانٹوں کو گدگداتا جا رہ دراز ہے اور دور شوق کی منزل گراں ہے مرحلہ عمر گیت گاتا جا بلا سے بزم ہے وہ ہے وہ گر ذوق نغمگی کم ہے نوا تلخ کو کچھ تلخ تر بناتا جا جو ہوں سکے تو بدل زندگی کو خود ور لگ نزاد نو کو طریق جنوں سکھاتا جا دکھا کے جلوہ فردا بنا دے دیوا لگ نئے زمانے کے رکھ سے نقاب اٹھاتا جا بے حد دنوں سے دل و جاں کی محفلیں ہیں ادا سے کوئی ترا لگ کوئی داستان سناتا جا

Ali Sardar Jafri

0 likes

عقیدے بجھ رہے ہیں شم جاں گل ہوتی جاتی ہے م گر ذوق جنوں کی شعلہ سامانی نہیں جاتی خدا معلوم ک سے ک سے کے لہو کی لالا کاری ہے زمین کو جاناں آج بےبسی نہیں جاتی ا گر یوں ہے تو کیوں ہے یوں نہیں تو کیوں نہیں آخر یقین محکم ہے لیکن دل کی حیرانی نہیں جاتی لہو جتنا تھا سارا صرف مقتل ہوں گیا تو لیکن شہیدان وفا کے رکھ کی تابانی نہیں جاتی پریشاں روزگار آشفتہ حالاں کا مقدر ہے کہ ا سے زلف پریشاں کی پریشانی نہیں جاتی ہر اک اجازت اور مہنگی اور مہنگی ہوتی جاتی ہے ب سے اک خون بشر ہے ج سے کی ارزانی نہیں جاتی نئے خوابوں کے دل ہے وہ ہے وہ شعلہ خورشید محشر ہے ضمیر حضرت انسان کی سلطانی نہیں جاتی لگاتے ہیں لبوں پر مہر ارباب زبان بن گرا علی سردار کی شان غزل خوانی نہیں جاتی

Ali Sardar Jafri

0 likes

ساقی و مینا لیے لغزش مستا لگ لیے آئی ہم بزم ہے وہ ہے وہ پھروں جرأت رندا لگ لیے عشق پہلو ہے وہ ہے وہ ہے پھروں حصار دل خود سر لیے زلف اک ہاتھ ہے وہ ہے وہ اک ہاتھ ہے وہ ہے وہ پیما لگ لیے یاد کرتا تھا ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ رونق مے خا لگ کا ہجوم اٹھ گئے تھے جو کبھی آفتاب رکھ محبوب لیے وصل کی صبح شب ہجر کے بعد آئی ہے دور عوام کا نذرا لگ لیے عصر حاضر کو مبارک ہوں نیا سر شوکت شاہا لگ اپنی ٹھوکر ہے وہ ہے وہ رقصا لیے

Ali Sardar Jafri

1 likes

عقیدے بجھ رہے ہیں شم جاں غل ہوتی جاتی ہے م گر ذوق جنوں کی شعلہ سامانی نہیں جاتی خدا معلوم ک سے ک سے کے لہو کی لالا کاری ہے زمین کو جاناں آج بےبسی نہیں جاتی ا گر یوں ہے تو کیوں ہے یوں نہیں تو کیوں نہیں آخر یقین محکم ہے لیکن ضد کی حیرانی نہیں جاتی لہو جتنا تھا سارا صرف مقتل ہوں گیا تو لیکن شہیدان وفا کے رکھ کی تابانی نہیں جاتی پریشاں روزگار آشفتہ حالاں کا مقدر ہے کہ ا سے زلف پریشاں کی پریشانی نہیں جاتی ہر اک اجازت اور مہنگی اور مہنگی ہوتی جاتی ہے ب سے اک خون بشر ہے ج سے کی ارزانی نہیں جاتی یہ نغمہ نغمہ بیداری جمہور عالم ہے حقیقت شمشیر نوا ج سے کی درخشانی نہیں جاتی نئے خوابوں کے دل ہے وہ ہے وہ شعلہ خورشید محشر ہے ضمیر حضرت انسان کی سلطانی نہیں جاتی لگاتے ہیں لبوں پر مہر ارباب زبان بن گرا علی سردار کی شان غزل خوانی نہیں جاتی

Ali Sardar Jafri

0 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Ali Sardar Jafri.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Ali Sardar Jafri's ghazal.