ab to mazhab koi aisa bhi chalaya jaae jis men insan ko insan banaya jaae jis ki khushbu se mahak jaae padosi ka bhi ghar phuul is qism ka har samt khilaya jaae aag bahti hai yahan ganga men jhelam men bhi koi batlae kahan ja ke nahaya jaae pyaar ka khuun hua kyuun ye samajhne ke liye har andhere ko ujale men bulaya jaae mere dukh-dard ka tujh par ho asar kuchh aisa main rahun bhuka to tujh se bhi na khaya jaae jism do ho ke bhi dil ek hon apne aise mera aansu teri palkon se uthaya jaae giit anman hai ghhazal chup hai rubai hai dukhi aise mahaul men 'niraj' ko bulaya jaae ab to mazhab koi aisa bhi chalaya jae jis mein insan ko insan banaya jae jis ki khushbu se mahak jae padosi ka bhi ghar phul is qism ka har samt khilaya jae aag bahti hai yahan ganga mein jhelam mein bhi koi batlae kahan ja ke nahaya jae pyar ka khun hua kyun ye samajhne ke liye har andhere ko ujale mein bulaya jae mere dukh-dard ka tujh par ho asar kuchh aisa main rahun bhuka to tujh se bhi na khaya jae jism do ho ke bhi dil ek hon apne aise mera aansu teri palkon se uthaya jae git anman hai ghazal chup hai rubai hai dukhi aise mahaul mein 'niraj' ko bulaya jae
Related Ghazal
تمہیں ب سے یہ بتانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے کیا چھپانا چاہتا ہوں کبھی مجھ سے بھی کوئی جھوٹ بولو ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہاں ہے وہ ہے وہ ہاں ملانا چاہتا ہوں یہ جو کھڑکی ہے نقشے ہے وہ ہے وہ تمہارے ی ہاں ہے وہ ہے وہ در بنانا چاہتا ہوں اداکاری بے حد دکھ دے رہی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ سچ مچ مسکرانا چاہتا ہوں پروں ہے وہ ہے وہ تیر ہے پنجوں ہے وہ ہے وہ تنکے ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ چڑیا اڑانا چاہتا ہوں لیے بیٹھا ہوں گھنگرو پھول اندھیرا ترا ہنسنا بنانا چاہتا ہوں بیگا لگ غم عشق کی جاناں کو مبارک ہے وہ ہے وہ ہے وہ ب سے خا لگ کمانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سارے شہر کی بیساخیوں کو تری در پر نرم گوئی چاہتا ہوں مجھے جاناں سے اندھیرا ہی پڑےگا ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں کو یاد آنا چاہتا ہوں
Fahmi Badayuni
249 likes
بیٹھے ہیں چین سے کہی جانا تو ہے نہیں ہم بے گھروں کا کوئی ہری تو ہے نہیں جاناں بھی ہوں بیتے سمے کے مانند ہوں بہو جاناں نے بھی یاد آنا ہے آنا تو ہے نہیں عہد وفا سے ک سے لیے خائف ہوں مری جان کر لو کہ جاناں نے عہد نبھانا تو ہے نہیں حقیقت جو ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ عزیز ہے کیسا ہے کون ہے کیوں پوچھتے ہوں ہم نے بتانا تو ہے نہیں دنیا ہم اہل عشق پہ کیوں پھینکتی ہے جال ہم نے تری فریب ہے وہ ہے وہ آنا تو ہے نہیں حقیقت عشق تو کرےگا م گر دیکھ بھال کے فار سے حقیقت تری جیسا دیوا لگ تو ہے نہیں
Rehman Faris
196 likes
ستم ڈھاتے ہوئے سوچا کروگے ہمارے ساتھ جاناں ایسا کروگے انگوٹھی تو مجھے لوٹا رہے ہوں انگوٹھی کے نشان کا کیا کروگے ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے اب تمنائیں بھی نہیں ہوں تو کیا ا سے بات پر جھگڑا کروگے میرا دامن تمہیں تھامے ہوئے ہوں میرا دامن تمہیں میلا کروگے بتاؤ وعدہ کر کے آوگے نا کے پچھلی بار کے جیسا کروگے حقیقت دلہن بن کے رخصت ہوں گئی ہے ک ہاں تک کار کا پیچھا کروگے مجھے ب سے یوں ہی جاناں سے پوچھنا تھا ا گر ہے وہ ہے وہ مر گیا تو تو کیا کروگے
Zubair Ali Tabish
140 likes
کیا بادلوں ہے وہ ہے وہ سفر زندگی بھر ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ پر بنایا لگ گھر زندگی بھر سبھی زندگی کے مزے لوٹتے ہیں لگ آیا ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ ہنر زندگی بھر محبت رہی چار دن زندگی ہے وہ ہے وہ ہے وہ رہا چار دن کا اثر زندگی بھر
Anwar Shaoor
95 likes
چادر کی عزت کرتا ہوں اور پردے کو مانتا ہوں ہر پردہ پردہ نہیں ہوتا اتنا ہے وہ ہے وہ بھی جانتا ہوں سارے مرد ایک چنو ہیں جاناں نے کیسے کہ ڈالا ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی تو ایک مرد ہوں جاناں کو خود سے بہتر مانتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے ا سے سے پیار کیا ہے ملکیت کا دعویٰ نہیں حقیقت ج سے کے بھی ساتھ ہے ہے وہ ہے وہ اس کا کو بھی اپنا مانتا ہوں چادر کی عزت کرتا ہوں اور پردے کو مانتا ہوں ہر پردہ پردہ نہیں ہوتا اتنا ہے وہ ہے وہ بھی جانتا ہوں
Ali Zaryoun
105 likes
More from Gopaldas Neeraj
بدن پہ ج سے کے شرافت کا پیرہن دیکھا حقیقت آدمی بھی ی ہاں ہم نے بد چلن دیکھا خریدنے کو جسے کم تھی شب فراق کسی کبیر کی مٹھی ہے وہ ہے وہ حقیقت اندھیرا دیکھا مجھے ملا ہے و ہاں اپنا ہی بدن اڑھائی کہی جو تیر سے غائل کوئی ہرن دیکھا بڑا لگ چھوٹا کوئی فرق ب سے نظر کا ہے سبھی پہ چلتے سمے ایک سا کفن دیکھا زبان ہے اور بیاں اور ا سے کا زار اور عجیب آج کی دنیا کا ویاکرن دیکھا لٹیرے ڈاکو بھی اپنے پہ ناز کرنے لگے ان ہوں نے آج جو سنتوں کا آچرن دیکھا جو سادگی ہے کوہن ہے وہ ہے وہ ہمارے اے نہیرج کسی پہ اور بھی کیا ایسا بانکپن دیکھا
Gopaldas Neeraj
8 likes
جب چلے جائیں گے ہم لوٹ کے ساون کی طرح یاد آئیں گے پرتھم پیار کے چمبن کی طرح ذکر ج سے دم بھی چھڑا ان کی گلی ہے وہ ہے وہ میرا جانے شرمائے حقیقت کیوں گاؤں کی دلہن کی طرح مری گھر کوئی خوشی آتی تو کیسے آتی عمر بھر ساتھ رہا درد مہاجن کی طرح کوئی کنگھی لگ ملی ج سے سے گتھی پاتی حقیقت زندگی الجھي رہی برمہا کے درشن کی طرح داغ مجھ ہے وہ ہے وہ ہے کہ تجھ ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ پتا تب ہوگا موت جب آوےگی عشق دل کپڑے لیے دھوبن کی طرح ہر کسی بے وجہ کی قسمت کا یہی ہے قصہ آئی راجا کی طرح جائے حقیقت نردھن کی طرح ج سے ہے وہ ہے وہ انسان کے دل کی لگ ہوں دھڑکن نہیرج شاعری تو ہے حقیقت ذائقہ کے کترن کی طرح
Gopaldas Neeraj
3 likes
اب کے ساون ہے وہ ہے وہ شرارت یہ مری ساتھ ہوئی میرا گھر چھوڑ کے کل شہر ہے وہ ہے وہ برسات ہوئی آپ مت پوچھیے کیا ہم پہ سفر ہے وہ ہے وہ گزری تھا لٹیروں کا ج ہاں گاؤں وہیں رات ہوئی زندگی بھر تو ہوئی گفتگو غیروں سے م گر آج تک ہم سے ہماری لگ ملاقات ہوئی ہر غلط موڑ پہ ٹوکا ہے کسی نے مجھ کو ایک آواز تری جب سے مری ساتھ ہوئی ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے سوچا کہ مری دیش کی حالت کیا ہے ایک قاتل سے تبھی مری ملاقات ہوئی
Gopaldas Neeraj
7 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Gopaldas Neeraj.
Similar Moods
More moods that pair well with Gopaldas Neeraj's ghazal.







