ab tu ho kisi rang men zahir to mujhe kya thahre tire ghar koi musafir to mujhe kya virana-e-jan ki jo faza thi so rahegi chahke kisi gulshan men vo taair to mujhe kya vo shama mire ghar men to be-nur hi thahri bazar men vo jins ho nadir to mujhe kya vo rang-fishan aankh vo tasvir-numa haath dikhlaen nae roz manazir to mujhe kya main ne use chaha tha to chaha na gaya main chahe mujhe ab vo miri khatir to mujhe kya duniya ne to jaana ki numu us men hai meri ab ho vo miri zaat ka munkir to mujhe kya ik khvab tha aur bujh gaya ankhon hi men apni ab koi pukare mire shair to mujhe kya ab tu ho kisi rang mein zahir to mujhe kya thahre tere ghar koi musafir to mujhe kya virana-e-jaan ki jo faza thi so rahegi chahke kisi gulshan mein wo tair to mujhe kya wo shama mere ghar mein to be-nur hi thahri bazar mein wo jins ho nadir to mujhe kya wo rang-fishan aankh wo taswir-numa hath dikhlaen nae roz manazir to mujhe kya main ne use chaha tha to chaha na gaya main chahe mujhe ab wo meri khatir to mujhe kya duniya ne to jaana ki numu us mein hai meri ab ho wo meri zat ka munkir to mujhe kya ek khwab tha aur bujh gaya aankhon hi mein apni ab koi pukare mere shair to mujhe kya
Related Ghazal
اسی جگہ پر ج ہاں کئی راستے ملیںگے پلٹ کے آئی تو سب سے پہلے تجھے ملیںگے ا گر کبھی تری نام پر جنگ ہوں گئی تو ہم ایسے بزدل بھی پہلی صف ہے وہ ہے وہ کھڑے ملیںگے تجھے یہ سڑکیں مری توسط سے جانتی ہیں تجھے ہمیشہ یہ سب اشارے کھلے ملیںگے
Tehzeeb Hafi
465 likes
مری ب سے ہے وہ ہے وہ نہیں ورنا قدرت کا لکھا ہوا کاٹتا تری حصے ہے وہ ہے وہ آئی برے دن کوئی دوسرا کاٹتا لاریوں سے زیادہ بہاؤ تھا تری ہر اک لفظ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اشارہ نہیں کاٹ سکتا تیری بات کیا کاٹتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے بھی زندگی اور شب اے ہجر کاٹی ہے سب کی طرح ویسے بہتر تو یہ تھا کے ہے وہ ہے وہ کم سے کم کچھ نیا کاٹتا تری ہوتے ہوئے موم بتی بجھائی کسی اور نے کیا خوشی رہ گئی تھی جنم دن کی ہے وہ ہے وہ کیک کیا کاٹتا کوئی بھی تو نہیں جو مری بھوکے رہنے پہ ناراض ہوں جیل ہے وہ ہے وہ تیری تصویر ہوتی تو ہنسکر سزا کاٹتا
Tehzeeb Hafi
456 likes
اتنا مجبور لگ کر بات بنانے لگ جائے ہم تری سر کی قسم جھوٹ ہی خانے لگ جائے اتنے سناٹے پیے مری سماعت نے کہ اب صرف آواز پہ چا ہوں تو نشانے لگ جائے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا گر اپنی جوانی کے سنا دوں قصے یہ جو افلاطون ہیں مری پاؤں دبانے لگ جائے
Mehshar Afridi
173 likes
چلا ہے سلسلہ کیسا یہ راتوں کو منانے کا تمہیں حق دے دیا ک سے نے دیوں کے دل دکھانے کا ارادہ چھوڑیے اپنی حدوں سے دور جانے کا زما لگ ہے زمانے کی نگا ہوں ہے وہ ہے وہ لگ آنے کا ک ہاں کی دوستی کن دوستوں کی بات کرتے ہوں میاں دشمن نہیں ملتا کوئی اب تو ٹھکانے کا نگا ہوں ہے وہ ہے وہ کوئی بھی دوسرا چہرہ نہیں آیا بھروسا ہی کچھ ایسا تھا تمہارے لوٹ آنے کا یہ ہے وہ ہے وہ ہی تھا بچا کے خود کو لے آیا کنارے تک سمندر نے بے حد موقع دیا تھا ڈوب جانے کا
Waseem Barelvi
103 likes
پوچھ لیتے حقیقت ب سے مزاج میرا کتنا آسان تھا علاج میرا چارہ گر کی نظر بتاتی ہے حال اچھا نہیں ہے آج میرا ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو رہتا ہوں دشت ہے وہ ہے وہ مصروف قی سے کرتا ہے کام کاج میرا کوئی کاسا مدد کو بھیج اللہ مری ب سے ہے وہ ہے وہ نہیں ہے تاج میرا ہے وہ ہے وہ ہے وہ محبت کی بادشاہت ہوں مجھ پہ چلتا نہیں ہے راج میرا
Fahmi Badayuni
96 likes
More from Obaidullah Aleem
کوئی دھن ہوں ہے وہ ہے وہ تری گیت ہی گائے جاؤں درد سینے ہے وہ ہے وہ اٹھے شور مچائے جاؤں خواب بن کر تو برستا رہے شبنم شبنم اور بس ہے وہ ہے وہ اسی موسم ہے وہ ہے وہ نہائے جاؤں تیرے ہی رنگ اترتے چلے جائیں مجھ ہے وہ ہے وہ ہے وہ خود کو لکھوں تری تصویر بنائے جاؤں جس کو ملنا نہیں پھروں اس کا سے محبت کیسی سوچتا جاؤں مگر دل ہے وہ ہے وہ اتاریں جاؤں اب تو اس کا کی ہوئی جس پہ مجھے پیار آتا ہے زندگی آ تجھے سینے سے لگائے جاؤں یہی چہرے مری ہونے کی گواہی دیں گے ہر نئے حرف ہے وہ ہے وہ جاں اپنی سمائے جاؤں جان تو چیز ہے کیا رشتہ جاں سے آگے کوئی آواز دیے جائے ہے وہ ہے وہ آئی جاؤں شاید اس کا راہ پہ کچھ اور بھی راہی آئیں دھوپ ہے وہ ہے وہ چلتا رہوں سائے بچھائے جاؤں اہل دل ہوں گے تو بھلاکر سخن کو میرے بزم ہے وہ ہے وہ آ ہی گیا تو ہوں تو سنائے جاؤں
Obaidullah Aleem
1 likes
ہجر کرتے یا کوئی وصل گزارا کرتے ہم بہر حال بسر خواب تمہارا کرتے ایک ایسی بھی گھڑی عشق ہے وہ ہے وہ آئی تھی کہ ہم خاک کو ہاتھ لگاتے تو ستارہ کرتے اب تو مل جاؤ ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں کہ تمہاری خاطر اتنی دور آ گئے دنیا سے کنارہ کرتے محو آرائش رکھ ہے حقیقت خوشگوار سر بام آنکھ ا گر آئی لگ ہوتی تو نظارہ کرتے ایک چہرے ہے وہ ہے وہ تو ممکن نہیں اتنے چہرے ک سے سے کرتے جو کوئی عشق دوبارہ کرتے جب ہے یہ خا لگ دل آپ کی خلوت کے لیے پھروں کوئی آئی ی ہاں کیسے بے شرط کرتے کون رکھتا ہے اندھیرے ہے وہ ہے وہ دیا آنکھ ہے وہ ہے وہ خواب تیری جانب ہی تری لوگ اشارہ کرتے ظرف آئی لگ ک ہاں اور ترا حسن ک ہاں ہم تری چہرے سے آئی لگ سنوارا کرتے
Obaidullah Aleem
1 likes
عزیز اتنا ہی رکھو کہ جی سنبھل جائے اب ا سے دودمان بھی لگ چاہو کہ دم نکل جائے ملے ہیں یوں تو بے حد آؤ اب ملیں یوں بھی کہ روح گرمی انف سے سے پگھل جائے محبتوں ہے وہ ہے وہ غضب ہے دلوں کو دھڑکا سا کہ جانے کون ک ہاں راستہ بدل جائے زہے حقیقت دل جو تمنا تازہ تر ہے وہ ہے وہ رہے خوشا حقیقت عمر جو خوابوں ہی ہے وہ ہے وہ بہل جائے ہے وہ ہے وہ ہے وہ حقیقت چراغ سر رہ گزاری دنیا ہوں جو اپنی ذات کی تنہائیوں ہے وہ ہے وہ جل جائے ہر ایک لہجہ یہی آرزو یہی حسرت جو آگ دل ہے وہ ہے وہ ہے حقیقت شعر ہے وہ ہے وہ بھی ڈھل جائے
Obaidullah Aleem
1 likes
جو اس کا نے کیا اسے صلہ دے مولا مجھے دل پامال کی جزا دے یا میرے دیے کی لو بڑھا دے یا رات کو صبح سے ملا دے سچ ہوں تو مجھے فدا بنا دے جھوٹا ہوں تو نقش سب مٹا دے یہ قوم عجیب ہوں گئی ہے اس کا کا قوم کو خو انبیا دے اترےگا نہ کوئی آسماں سے اک آس ہے وہ ہے وہ دل مگر صدا دے بچوں کی طرح یہ لفظ میرے معبود نہ بولنا سکھا دے دکھ دہر کے اپنے نام لکھوں ہر دکھ مجھے ذات کا مزہ دے اک میرا وجود سن رہا ہے الہام جو رات کی ہوا دے مجھ سے میرا کوئی ملنے والا بچھڑا تو نہیں مگر ملا دے چہرہ مجھے اپنا دیکھنے کو اب دست ہوس ہے وہ ہے وہ آئینہ دے جس بے وجہ نے عمر ہجر کاٹی اس کا کا بے وجہ کو ایک رات کیا دے دکھتا ہے بدن کہ پھروں ملے حقیقت مل جائے تو روح کو دکھا دے کیا چیز ہے خواہش بدن بھی ہر بار نیا ہی ذائقہ دے چھونے ہے وہ ہے وہ یہ ڈر کہ مر نہ جاؤں چھو لوں تو حقیقت زندگی سوا دے
Obaidullah Aleem
1 likes
صاحب مہر و وفا عرض و سما کیوں چپ ہے ہم پہ تو سمے کے پہرے ہیں خدا کیوں چپ ہے بے سبب غم ہے وہ ہے وہ سلگنا مری عادت ہی صحیح ساز خاموش ہے کیوں شعلہ نوا کیوں چپ ہے پھول تو سہم گئے دست کرم سے دم صبح خارج ہوئی آوارہ صبا کیوں چپ ہے ختم ہوگا لگ کبھی سلسلہ اہل وفا سوچ اے داور مقتل یہ فضا کیوں چپ ہے مجھ پہ تاری ہے رہ عشق کی آسودہ تھکن تجھ پہ کیا گزری مری چاند بتا کیوں چپ ہے جاننے والے تو سب جان گئے ہوں گے علیم ایک مدت سے ترا ذہن رسا کیوں چپ ہے
Obaidullah Aleem
0 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Obaidullah Aleem.
Similar Moods
More moods that pair well with Obaidullah Aleem's ghazal.







