افلاک سے آتا ہے نالوں کا جواب آخر کرتے ہیں خطاب آخر اٹھتے ہیں حجاب آخر احوال محبت ہے وہ ہے وہ کچھ فرق نہیں ایسا سوز و تب و تاب اول سوز و تب و تاب آخر ہے وہ ہے وہ ہے وہ تجھ کو بتاتا ہوں تقدیر امم کیا ہے شمشیر و سناں اول طاؤس و رباب آخر مے خانہ یورپ کے جھمکے نرالے ہیں لاتے ہیں سرور اول دیتے ہیں شراب آخر کیا دبدبہ نادر کیا شوکت تیموری ہوں جاتے ہیں سب دفتر غرق مے ناب آخر خلوت کی گھڑی گزری جلوت کی گھڑی آئی چھوٹنے کو ہے بجلی سے آغوش سحاب آخر تھا ضبط بہت مشکل ای سے سیل معانی کا کہ ڈالے قلندر نے اسرار کتاب آخر
Related Ghazal
ا سے کے ہاتھوں ہے وہ ہے وہ جو خنجر ہے زیادہ تیز ہے اور پھروں بچپن سے ہی ا سے کا نشا لگ تیز ہے جب کبھی ا سے پار جانے کا خیال آتا مجھے کوئی آہستہ سے کہتا تھا کی دریا تیز ہے آج ملنا تھا بچھڑ جانے کی نیت سے ہمیں آج بھی حقیقت دیر سے پہنچا ہے کتنا تیز ہے اپنا سب کچھ ہار کے لوٹ آئی ہوں لگ مری پا سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تمہیں کہتا بھی رہتا کی دنیا تیز ہے آج ا سے کے گال چومے ہیں تو اندازہ ہوا چائے اچھی ہے م گر تھوڑا سا میٹھا تیز ہے
Tehzeeb Hafi
220 likes
زبان تو کھول نظر تو ملا جواب تو دے ہے وہ ہے وہ ہے وہ کتنی بار لٹا ہوں مجھے حساب تو دے تری بدن کی ودھی ہے وہ ہے وہ ہے اتار لکھاوت ہے وہ ہے وہ ہے وہ تجھے کیسے چڑھاو مجھے کتاب تو دے تیرا سوال ہے ساقی کہ زندگی کیا ہے جواب دیتا ہوں پہلے مجھے شراب تو دے
Rahat Indori
190 likes
جاناں حقیقت نہیں ہوں حسرت ہوں جو ملے خواب ہے وہ ہے وہ حقیقت دولت ہوں جاناں ہوں خوشبو کے خواب کی خوشبو اور اتنے ہی بے مروت ہوں ک سے طرح چھوڑ دوں تمہیں جاناں جاناں مری زندگی کی عادت ہوں ک سے لیے دیکھتے ہوں آئی لگ جاناں تو خود سے بھی خوبصورت ہوں داستان ختم ہونے والی ہے جاناں مری آخری محبت ہوں
Jaun Elia
315 likes
تو کیا یہ آخری خواہش ہے اچھا بھول جاؤں جہاں بھی جو بھی ہے تیرے علاوہ بھول جاؤں تو کیا یہ دوسرا ہی عشق اصلی عشق سمجھوں تو پہلا تجربے کی دین ہے وہ ہے وہ تھا بھول جاؤں تو کیا اتنا ہی آساں ہے کسی کو بھول جانا کہ ب سے باتوں ہی باتوں ہے وہ ہے وہ بھلاتا بھول جاؤں کبھی کہتا ہوں اس کا کو یاد رکھنا ٹھیک ہوگا مگر پھروں سوچتا ہوں فائدہ کیا بھول جاؤں یہ کوئی قتل تھوڑی ہے کہ بات آئی گئی ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ اور اپنا نظر انداز ہونا بھول جاؤں ہے اتنی جزئیات ا سے سانحے کی پوچھیے مت ہے وہ ہے وہ ہے وہ کیا کیا یاد رکھوں اور کیا کیا بھول جاؤں کوئی کب تک کسی کی بے وفائی یاد رکھے بہت ممکن ہے ہے وہ ہے وہ بھی رفتہ رفتہ بھول جاؤں تو کیا یہ کہ کے خود کو مطمئن کر لوگے جواد کہ حقیقت ہے بھی اسی جائیں گے لہذا بھول جاؤں
Jawwad Sheikh
42 likes
याद तब करते हो करने को न हो जब कुछ भी और कहते हो तुम्हें इश्क़ है मतलब कुछ भी अब जो आ आ के बताते हो वो शख़्स ऐसा था जब मेरे साथ था वो क्यूँँ न कहा तब कुछ भी वक्फ़े-वक्फ़े से मुझे देखने आते रहना हिज्र की शब है सो हो सकता है इस शब कुछ भी
Umair Najmi
68 likes
More from Allama Iqbal
لگ تو ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ کے لیے ہے لگ آ سماں کے لیے ج ہاں ہے تری لیے تو نہیں ج ہاں کے لیے یہ عقل و دل ہیں شرر شعلہ محبت کے حقیقت خار و خ سے کے لیے ہے یہ نیستاں کے لیے مقام پرورش آہ و لالہ ہے یہ چمن لگ سیر گل کے لیے ہے لگ آشیاں کے لیے رہے گا راوی و نیل و فرات ہے وہ ہے وہ کب تک ترا سفی لگ کہ ہے بہر بے کراں کے لیے نشان راہ دکھاتے تھے جو ستاروں کو تر سے گئے ہیں کسی مرد راہ داں کے لیے نگہ بلند سخن دل نواز جاں پر سوز یہی ہے رخت سفر برق کے لیے ذرا سی بات تھی اندیشہ عزم نے اسے بڑھا دیا ہے فقط زیب داستان کے لیے مری گلو ہے وہ ہے وہ ہے اک نغمہ جبرائیل آشوب سنبھال کر جسے رکھا ہے لا مکان کے لیے
Allama Iqbal
1 likes
نہ آتے ہمیں ای سے ہے وہ ہے وہ تکرار کیا تھی مگر وعدہ کرتے ہوئے آر کیا تھی تمہارے پیامی نے سب راز کھولا غلطیاں ای سے ہے وہ ہے وہ بندے کی سرکار کیا تھی بھری بزم ہے وہ ہے وہ اپنے عاشق کو تڑا تری آنکھ مستی ہے وہ ہے وہ ہوشیار کیا تھی تامل تو تھا ان کو آنے ہے وہ ہے وہ شکایت مگر یہ بتا طرز انکار کیا تھی کھنچے خود بخود جانب طور موسی کشش تیری اے شوق دیدار کیا تھی کہیں ذکر رہتا ہے حفیظ تیرا فسوں تھا کوئی تیری گفتار کیا تھی
Allama Iqbal
2 likes
ہر اجازت مسافر ہر چیز راہی کیا چاند تارے کیا مرغ و ماہی تو مرد میدان تو میر لشکر نوری حضوری تری سپاہی کچھ دودمان اپنی تو نے لگ جانی یہ بے سوا گرا یہ کم نگاہی دنیا دوں کی کب تک غلامی یا راہبی کر یا پادشاہی پیر حرم کو دیکھا ہے ہے وہ ہے وہ نے کردار بے سوز گفتار واہی
Allama Iqbal
4 likes
یہ پیام دے گئی ہے مجھے باد صبح گاہی کہ خو گرا کے عارفوں کا ہے مقام پادشاہی تری زندگی اسی سے تری رکھ اسی سے جو رہی خو گرا تو شاہی لگ رہی تو روسیاہی لگ دیا نشان منزل مجھے اے حکیم تو نے مجھے کیا گلہ ہوں تجھ سے تو لگ رہ نشیں لگ راہی مری حلقہ سخن ہے وہ ہے وہ ابھی زیر تربیت ہیں حقیقت تکلیفوں کہ جانتے ہیں رہ و رسم کج کلاہی یہ معاملے ہیں چھوؤں گا جو تری رضا ہوں تو کر کہ مجھے تو خوش لگ آیا یہ طریق خانقاہی تو ہما کا ہے شکاری ابھی ابتدا ہے تیری نہیں مصلحت سے خالی یہ جہان مرغ و ماہی تو عرب ہوں یا عجم ہوں ترا لا الہ آرا لغت غریب جب تک ترا دل لگ دے گواہی
Allama Iqbal
3 likes
حقیقت نف سے جبرئیل کہ مجھ کو سکھا گیا تو ہے جنوں خدا مجھے اندھیرا دے تو ک ہوں ستارہ کیا مری تقدیر کی خبر دےگا حقیقت خود فراخی افلاک ہے وہ ہے وہ ہے خوار و زبو حیات کیا ہے خیال و نظر کی مجزوبی خو گرا کی موت ہے اندیشہ ہا گونا گوں غضب مزہ ہے مجھے لذت خو گرا دے کر حقیقت چاہتے ہیں کہ ہے وہ ہے وہ اپنے آپ ہے وہ ہے وہ لگ ر ہوں ضمیر پاک و نگاہ بلند و مستی شوق لگ مال و دولت قاروں لگ فکر افلاطون سبق ملا ہے یہ معراج مصطفی سے مجھے کہ عالم بشریت کی زد ہے وہ ہے وہ ہے گردوں یہ کائنات ابھی نا تمام ہے شاید کہ آ رہی ہے دمادم صدا کن فیکون علاج آتش رومی کے سوز ہے وہ ہے وہ ہے ترا تری خرد پہ ہے تاکتے فرنگیوں کا فسوں اسی کے فیض سے مری نگاہ ہے روشن اسی کے فیض سے مری سبو ہے وہ ہے وہ ہے جہو
Allama Iqbal
0 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Allama Iqbal.
Similar Moods
More moods that pair well with Allama Iqbal's ghazal.







