ghazalKuch Alfaaz

اکیلے ہیں حقیقت اور جھنجھلا رہے ہیں مری یاد سے جنگ فرما رہے ہیں الہی مری دوست ہوں خیریت سے یہ کیوں گھر ہے وہ ہے وہ پتھر نہیں آ رہے ہیں بے حد خوش ہیں گستاخیوں پر ہماری بظاہر جو برہم نظر آ رہے ہیں یہ کیسی ہوا ترقی چلی ہے دیے تو دیے دل بجھے جا رہے ہیں بہشت تصور کے جلوے ہیں ہے وہ ہے وہ ہوں جدائی سلامت مزے آ رہے ہیں بہاروں ہے وہ ہے وہ بھی مے سے پرہیز توبہ خمار آپ کافر ہوئے جا رہے ہیں

Related Ghazal

تمہیں ب سے یہ بتانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے کیا چھپانا چاہتا ہوں کبھی مجھ سے بھی کوئی جھوٹ بولو ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہاں ہے وہ ہے وہ ہاں ملانا چاہتا ہوں یہ جو کھڑکی ہے نقشے ہے وہ ہے وہ تمہارے ی ہاں ہے وہ ہے وہ در بنانا چاہتا ہوں اداکاری بے حد دکھ دے رہی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ سچ مچ مسکرانا چاہتا ہوں پروں ہے وہ ہے وہ تیر ہے پنجوں ہے وہ ہے وہ تنکے ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ چڑیا اڑانا چاہتا ہوں لیے بیٹھا ہوں گھنگرو پھول اندھیرا ترا ہنسنا بنانا چاہتا ہوں بیگا لگ غم عشق کی جاناں کو مبارک ہے وہ ہے وہ ہے وہ ب سے خا لگ کمانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سارے شہر کی بیساخیوں کو تری در پر نرم گوئی چاہتا ہوں مجھے جاناں سے اندھیرا ہی پڑےگا ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں کو یاد آنا چاہتا ہوں

Fahmi Badayuni

249 likes

بیٹھے ہیں چین سے کہی جانا تو ہے نہیں ہم بے گھروں کا کوئی ہری تو ہے نہیں جاناں بھی ہوں بیتے سمے کے مانند ہوں بہو جاناں نے بھی یاد آنا ہے آنا تو ہے نہیں عہد وفا سے ک سے لیے خائف ہوں مری جان کر لو کہ جاناں نے عہد نبھانا تو ہے نہیں حقیقت جو ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ عزیز ہے کیسا ہے کون ہے کیوں پوچھتے ہوں ہم نے بتانا تو ہے نہیں دنیا ہم اہل عشق پہ کیوں پھینکتی ہے جال ہم نے تری فریب ہے وہ ہے وہ آنا تو ہے نہیں حقیقت عشق تو کرےگا م گر دیکھ بھال کے فار سے حقیقت تری جیسا دیوا لگ تو ہے نہیں

Rehman Faris

196 likes

پاگل کیسے ہوں جاتے ہیں دیکھو ایسے ہوں جاتے ہیں خوابوں کا دھندہ کرتی ہوں کتنے پیسے ہوں جاتے ہیں دنیا سا ہونا مشکل ہے تری چنو ہوں جاتے ہیں مری کام خدا کرتا ہے تری ویسے ہوں جاتے ہیں

Ali Zaryoun

158 likes

ستم ڈھاتے ہوئے سوچا کروگے ہمارے ساتھ جاناں ایسا کروگے انگوٹھی تو مجھے لوٹا رہے ہوں انگوٹھی کے نشان کا کیا کروگے ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے اب تمنائیں بھی نہیں ہوں تو کیا ا سے بات پر جھگڑا کروگے میرا دامن تمہیں تھامے ہوئے ہوں میرا دامن تمہیں میلا کروگے بتاؤ وعدہ کر کے آوگے نا کے پچھلی بار کے جیسا کروگے حقیقت دلہن بن کے رخصت ہوں گئی ہے ک ہاں تک کار کا پیچھا کروگے مجھے ب سے یوں ہی جاناں سے پوچھنا تھا ا گر ہے وہ ہے وہ مر گیا تو تو کیا کروگے

Zubair Ali Tabish

140 likes

اک پل ہے وہ ہے وہ اک ص گرا کا مزہ ہم سے پوچھیے دو دن کی زندگی کا مزہ ہم سے پوچھیے بھولے ہیں رفتہ رفتہ ا نہیں مدتوں ہے وہ ہے وہ ہم قسطوں ہے وہ ہے وہ خود کشی کا مزہ ہم سے پوچھیے آغاز کرنے والے کا مزہ آپ جانیے انجام کرنے والے کا مزہ ہم سے پوچھیے جلتے دیوں ہے وہ ہے وہ جلتے گھروں جیسی ذو ک ہاں سرکار روشنی کا مزہ ہم سے پوچھیے حقیقت جان ہی گئے کہ ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ان سے پیار ہے آنکھوں کی مخبری کا مزہ ہم سے پوچھیے ہنسنے کا شوق ہم کو بھی تھا آپ کی طرح ہنسیے م گر ہنسی کا مزہ ہم سے پوچھیے ہم توبہ کر کے مر گئے بے موت اے خمار توہین مے کشی کا مزہ ہم سے پوچھیے

Khumar Barabankvi

95 likes

More from Khumar Barabankvi

حسن جب مہرباں ہوں تو کیا کیجیے عشق کے مغفرت کی دعا کیجیے ا سے سلیقے سے ان سے گلہ کیجیے جب گلہ کیجیے ہن سے دیا کیجیے دوسروں پر اگر تبصرہ کیجیے سامنے آئینہ رکھ لیا کیجیے آپ سکھ سے ہیں ترک تعلق کے بعد اتنی جلدی نہ یہ فیصلہ کیجیے زندگی کٹ رہی ہے بڑے چین سے اور غم ہوں تو حقیقت بھی عطا کیجیے کوئی دھوکہ نہ کھا جائے میری طرح ایسے کھل کے نہ سب سے ملا کیجیے عقل و دل اپنی اپنی کہیں جب خمار عقل کی سنیے دل کا کہا کیجیے

Khumar Barabankvi

1 likes

وہ سوا یاد آئے بھلانے کے بعد زندگی بڑھ گئی زہر خانے کے بعد دل سلگتا رہا آشیانے کے بعد آگ ٹھنڈی ہوئی اک زمانے کے بعد روشنی کے لیے دل جلانا پڑا ایسی میسج جھکائیں تیرے جانے کے بعد جب نہ کچھ بن پڑا عرض غم کا جواب وہ خفا ہو گئے مسکرانے کے بعد دشمنوں سے پشیمان ہونا پڑا دوستوں کا خلوص آزمانے کے بعد رنج حد سے گزر کے خوشی بن گیا ہو گئے پار ہم ڈوب جانے کے بعد بخش دے یا رب اہل ہوس کو مکیں مجھ کو کیا چاہیے تجھ کو پانے کے بعد کیسے کیسے گلے یاد آئے خمار ان کے آنے سے قبل ان کے جانے کے بعد

Khumar Barabankvi

2 likes

हम उन्हें वो हमें भुला बैठे दो गुनहगार ज़हर खा बैठे हाल-ए-ग़म कह के ग़म बढ़ा बैठे तीर मारे थे तीर खा बैठे आँधियो जाओ अब करो आराम हम ख़ुद अपना दिया बुझा बैठे जी तो हल्का हुआ मगर यारो रो के हम लुत्फ़-ए-ग़म गँवा बैठे बे-सहारों का हौसला ही क्या घर में घबराए दर पे आ बैठे जब से बिछड़े वो मुस्कुराए न हम सब ने छेड़ा तो लब हिला बैठे हम रहे मुब्तला-ए-दैर-ओ-हरम वो दबे पाँव दिल में आ बैठे उठ के इक बे-वफ़ा ने दे दी जान रह गए सारे बा-वफ़ा बैठे हश्र का दिन अभी है दूर 'ख़ुमार' आप क्यूँँ ज़ाहिदों में जा बैठे

Khumar Barabankvi

8 likes

کیا ہوا حسن ہے ہم سفر یا نہیں عشق منزل ہی منزل ہے رستہ نہیں دو پرندے اڑے آنکھ نمہ ہوں گئی آج سمجھا کہ ہے وہ ہے وہ تجھ کو بھولا نہیں ترک مے کو ابھی دن ہی کتنے ہوئے کچھ کہا مے کو زاہد تو اچھا لگ ہر نظر مری بن جاتی زنجیر پا ا سے نے جاتے ہوئے مڑ کے دیکھا نہیں چھوڑ بھی دے میرا ساتھ اے زندگی مجھ کو تجھ سے ندامت ہے شکوہ نہیں تو نے توبہ تو کر لی م گر اے خمار تجھ کو رحمت پہ شاید بھروسا نہیں

Khumar Barabankvi

6 likes

تو چاہیے لگ تیری وفا چاہیے مجھے کچھ بھی لگ تری غم کے سوا چاہیے مجھے مرنے سے پہلے شکل ہی اک بار دیکھ لوں اے موت زندگی کا پتا چاہیے مجھے یا رب معاف کر کے لگ دے کرب انفعل ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے خطائیں کی ہیں سزا چاہیے مجھے خموشی حیات سے اکتا گیا تو ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ اب چاہے دل ہی ٹوٹے صدا چاہیے مجھے ان مست مست آنکھوں ہے وہ ہے وہ آنسو انتقامن غضب یہ عشق ہے تو قہر خدا چاہیے مجھے ناصح نصیحتوں کا زما لگ گزر گیا تو اب پیاری صرف تیری دعا چاہیے مجھے ہر درد کو دوا کی ضرورت ہے اے خمار جو درد خود ہوں اپنی دوا چاہیے مجھے

Khumar Barabankvi

2 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Khumar Barabankvi.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Khumar Barabankvi's ghazal.