ghazalKuch Alfaaz

andaz hu-ba-hu tiri avaz-e-pa ka tha dekha nikal ke ghar se to jhonka hava ka tha is husn-e-ittifaq pe lut kar bhi shaad huun teri raza jo thi vo taqaza vafa ka tha dil raakh ho chuka to chamak aur badh gai ye teri yaad thi ki amal kimiya ka tha is rishta-e-latif ke asrar kya khulen tu samne tha aur tasavvur khuda ka tha chhup chhup ke rouun aur sar-e-anjuman hansun mujh ko ye mashvara mire dard-ashna ka tha uttha ajab tazad se insan ka khamir aadi fana ka tha to pujari baqa ka tha tuuta to kitne aina-khanon pe zad padi atka hua gale men jo patthar sada ka tha hairan huun ki vaar se kaise bacha 'nadim' vo shakhs to ghharib o ghhayur intiha ka tha andaz hu-ba-hu teri aawaz-e-pa ka tha dekha nikal ke ghar se to jhonka hawa ka tha is husn-e-ittifaq pe lut kar bhi shad hun teri raza jo thi wo taqaza wafa ka tha dil rakh ho chuka to chamak aur badh gai ye teri yaad thi ki amal kimiya ka tha is rishta-e-latif ke asrar kya khulen tu samne tha aur tasawwur khuda ka tha chhup chhup ke roun aur sar-e-anjuman hansun mujh ko ye mashwara mere dard-ashna ka tha uttha ajab tazad se insan ka khamir aadi fana ka tha to pujari baqa ka tha tuta to kitne aaina-khanon pe zad padi atka hua gale mein jo patthar sada ka tha hairan hun ki war se kaise bacha 'nadim' wo shakhs to gharib o ghayur intiha ka tha

Related Ghazal

چاند ستارے تم پھول پرندے شام سویرہ ایک طرف ساری دنیا ا سے کا چربہ ا سے کا چہرہ ایک طرف حقیقت لڑکر بھی سو جائے تو ا سے کا ماتھا چوموں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے سے محبت ایک طرف ہے ا سے سے جھگڑا ایک طرف ج سے اجازت پر حقیقت انگلی رکھ دے اس کا کو حقیقت دلوانی ہے ا سے کی خوشیاں سب سے اول سستا مہنگا ایک طرف زخموں پر مرہم لگواو لیکن ا سے کے ہاتھوں سے چارسازی ایک طرف ہے ا سے کا چھونا ایک طرف ساری دنیا جو بھی بولے سب کچھ شور شرابا ہے سب کا کہنا ایک طرف ہے ا سے کا کہنا ایک طرف ا سے نے ساری دنیا مانگی ہے وہ ہے وہ نے اس کا کو مانگا ہے ا سے کے سپنے ایک طرف ہے میرا سپنا ایک طرف

Varun Anand

406 likes

یہ غم کیا دل کی عادت ہے نہیں تو کسی سے کچھ شکایت ہے نہیں تو ہے حقیقت اک خواب بے تعبیر ا سے کو بھلا دینے کی نیت ہے نہیں تو کسی کے بن کسی کی یاد کے بن جیے جانے کی ہمت ہے نہیں تو کسی صورت بھی دل لگتا نہیں ہاں تو کچھ دن سے یہ حالت ہے نہیں تو تری ا سے حال پر ہے سب کو حیرت تجھے بھی ا سے پہ حیرت ہے نہیں تو ہم آہنگی نہیں دنیا سے تیری تجھے ا سے پر ندامت ہے نہیں تو ہوا جو کچھ یہی مقسوم تھا کیا یہی ساری مقسوم ہے نہیں تو اذیت ناک اذیت ناک سے تجھ کو اماں پانے کی حسرت ہے نہیں تو تو رہتا ہے خیال و خواب ہے وہ ہے وہ گم تو ا سے کی وجہ فرصت ہے نہیں تو سبب جو ا سے جدائی کا بنا ہے حقیقت مجھ سے خوبصورت ہے نہیں تو

Jaun Elia

355 likes

مری ب سے ہے وہ ہے وہ نہیں ورنا قدرت کا لکھا ہوا کاٹتا تری حصے ہے وہ ہے وہ آئی برے دن کوئی دوسرا کاٹتا لاریوں سے زیادہ بہاؤ تھا تری ہر اک لفظ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اشارہ نہیں کاٹ سکتا تیری بات کیا کاٹتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے بھی زندگی اور شب اے ہجر کاٹی ہے سب کی طرح ویسے بہتر تو یہ تھا کے ہے وہ ہے وہ کم سے کم کچھ نیا کاٹتا تری ہوتے ہوئے موم بتی بجھائی کسی اور نے کیا خوشی رہ گئی تھی جنم دن کی ہے وہ ہے وہ کیک کیا کاٹتا کوئی بھی تو نہیں جو مری بھوکے رہنے پہ ناراض ہوں جیل ہے وہ ہے وہ تیری تصویر ہوتی تو ہنسکر سزا کاٹتا

Tehzeeb Hafi

456 likes

ستم ڈھاتے ہوئے سوچا کروگے ہمارے ساتھ جاناں ایسا کروگے انگوٹھی تو مجھے لوٹا رہے ہوں انگوٹھی کے نشان کا کیا کروگے ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے اب تمنائیں بھی نہیں ہوں تو کیا ا سے بات پر جھگڑا کروگے میرا دامن تمہیں تھامے ہوئے ہوں میرا دامن تمہیں میلا کروگے بتاؤ وعدہ کر کے آوگے نا کے پچھلی بار کے جیسا کروگے حقیقت دلہن بن کے رخصت ہوں گئی ہے ک ہاں تک کار کا پیچھا کروگے مجھے ب سے یوں ہی جاناں سے پوچھنا تھا ا گر ہے وہ ہے وہ مر گیا تو تو کیا کروگے

Zubair Ali Tabish

140 likes

ہاتھ خالی ہیں تری شہر سے جاتے جاتے جان ہوتی تو مری جان لٹاتے جاتے اب تو ہر ہاتھ کا پتھر ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ پہچانتا ہے عمر گزری ہے تری شہر ہے وہ ہے وہ آتے جاتے اب کے مایو سے ہوا یاروں کو رخصت کر کے جا رہے تھے تو کوئی زخم لگاتے جاتے رینگنے کی بھی اجازت نہیں ہم کو ور لگ ہم جدھر جاتے نئے پھول کھلاتے جاتے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو جلتے ہوئے صحراؤں کا اک پتھر تھا جاناں تو دریا تھے مری پیا سے بجھاتے جاتے مجھ کو رونے کا سلیقہ بھی نہیں ہے شاید لوگ ہنستے ہیں مجھے دیکھ کے آتے جاتے ہم سے پہلے بھی مسافر کئی گزرے ہوں گے کم سے کم راہ کے پتھر تو ہٹاتے جاتے

Rahat Indori

102 likes

More from Ahmad Nadeem Qasmi

پھروں بھيانک تیرگی ہے وہ ہے وہ آ گئے ہم گجر بجنے سے دھوکہ کھا گئے ہاں یہ خوابوں کی خیاباں سازیاں آنکھ کیا کھولی چمن مرجھا گئے کون تھے آخر جو منزل کے قریب آئینے کی چادریں پھیلا گئے ک سے تجلی کا دیا ہم کو فریب ک سے دھندلکے ہے وہ ہے وہ ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ پہنچا گئے ان کا آنا حشر سے کچھ کم لگ تھا اور جب پلٹے خوشگوار ڈھا گئے اک پہیلی کا ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ دے کر جواب اک پہیلی بن کے ہر سو چھا گئے پھروں وہی اختر شماری کا نصرت ہم تو ا سے تکرار سے اکتا گئے رہنماؤ رات ابھی باقی صحیح آج سیارے ا گر ٹکرا گئے کیا رسا نکلی دعا اجتہاد حقیقت چھپاتے ہی رہے ہم پا گئے ب سے وہی معمار فردا ہیں ندیم جن کو مری ولولے را سے آ گئے

Ahmad Nadeem Qasmi

0 likes

جی چاہتا ہے فلک پہ جاؤں سورج کو غروب سے بچاؤں ب سے میرا چلے جو گردشوں پر دن کو بھی لگ چاند کو بجھاؤں ہے وہ ہے وہ ہے وہ چھوڑ کے سیدھے راستوں کو بھٹکی ہوئی نیکیاں کماؤں امکان پہ ا سے دودمان یقین ہے صحراؤں ہے وہ ہے وہ بیج ڈال آؤں ہے وہ ہے وہ ہے وہ شب کے مسافروں کی خاطر مشعل لگ ملے تو گھر جلاؤں اشعار ہیں مری استعارے آؤ تمہیں آئینے دکھاؤں یوں بٹ کے بکھر کے رہ گیا تو ہوں ہر بے وجہ ہے وہ ہے وہ اپنا عک سے پاؤں آواز جو دوں کسی کے در پر اندر سے بھی خود نکل کے آؤں اے چارگران عصر حاضر فولاد کا دل ک ہاں سے لاؤں ہر رات دعا کروں سحر کی ہر صبح نیا فریب کھاؤں ہر جبر پہ دل پامال کر رہا ہوں ا سے طرح کہی اجڑ لگ جاؤں رونا بھی تو طرز گفتگو ہے آنکھیں جو رکیں تو لب ہلاؤں خود کو تو ندیم آزمایا اب مر کے خدا کو آزماؤں

Ahmad Nadeem Qasmi

0 likes

کہی حقیقت مری محبت ہے وہ ہے وہ گھل رہا ہی لگ ہوں خدا کرے اسے یہ غضب ہوا ہی لگ ہوں سپردگی میرا گاہے تو نہیں لیکن ہے وہ ہے وہ ہے وہ سوچتا ہوں تری روپ ہے وہ ہے وہ خدا ہی لگ ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ تجھ کو پا کے بھی ک سے بے وجہ کی تلاش ہے وہ ہے وہ ہوں مری خیال ہے وہ ہے وہ کوئی تری سوا ہی لگ ہوں حقیقت عذر کر کہ مری دل کو بھی یقین آئی حقیقت گیت گا کہ جو ہے وہ ہے وہ نے کبھی سنا ہی لگ ہوں حقیقت بات کر جسے پھیلا کے ہے وہ ہے وہ غزل کہ لوں سناؤں شعر جو ہے وہ ہے وہ نے ابھی لکھا ہی لگ ہوں سحر کو دل کی طرف یہ دھواں سا کیسا ہے کہی یہ میرا دیا رات بھر جلا ہی لگ ہوں ہوں کیسے جبر مشیت کو ا سے دعا کا لحاظ جو ایک بار ملے پھروں کبھی جدا ہی لگ ہوں یہ ابر و کشت کی دنیا ہے وہ ہے وہ کیسے ممکن ہے کہ عمر بھر کی وفا کا کوئی صلہ ہی لگ ہوں مری نگاہ ہے وہ ہے وہ حقیقت پیڑ بھی ہے بد کردار لدا ہوا ہوں جو پھل سے م گر جھکا ہی لگ ہوں جو دشت دشت سے پھولوں کی بھیک مانگتا تھا کہی حقیقت توڑ کے کشکول مر گیا تو ہی لگ ہوں طلوع صبح نے

Ahmad Nadeem Qasmi

0 likes

تو بگڑتا بھی ہے خاص اپنے ہی انداز کے ساتھ پھول کھلتے ہیں تری شعلہ آواز کے ساتھ ایک بار اور بھی کیوں عرض تمنا لگ کروں کہ تو انکار بھی کرتا ہے غضب ناز کے ساتھ لے جو ٹوٹی تو صدا آئی شکست دل کی رگ جاں کا کوئی رشتہ ہے رگ ساز کے ساتھ تو پکارے تو چمک اٹھتی ہیں مری آنکھیں تیری صورت بھی ہے شامل تری آواز کے ساتھ جب تک ارزاں ہے زمانے ہے وہ ہے وہ کبوتر کا لہو ظلم ہے ربط رکھوں گر کسی شہباز کے ساتھ پست اتنی تو لگ تھی مری شکست اے یاروں پر سمیٹے ہیں م گر حسرت پرواز کے ساتھ پہرے بیٹھے ہیں قف سے پر کہ ہے صیاد کو وہم پر شکستوں کو بھی اک ربط ہے پرواز کے ساتھ عمر بھر سنگ زنی کرتے رہے اہل وطن یہ ا پیش بات کہ دفنائیں گے اعزاز کے ساتھ

Ahmad Nadeem Qasmi

0 likes

मिरा ग़ुरूर तुझे खो के हार मान गया मैं चोट खा के मगर अपनी क़द्र जान गया कहीं उफ़ुक़ न मिला मेरी दश्त-गर्दी को मैं तेरी धुन में भरी काएनात छान गया ख़ुदा के बा'द तो बे-इंतिहा अँधेरा है तिरी तलब में कहाँ तक न मेरा ध्यान गया जबीं पे बल भी न आता गँवा के दोनों-जहाँ जो तू छिना तो मैं अपनी शिकस्त मान गया बदलते रंग थे तेरी उमंग के ग़म्माज़ तू मुझ से बिछड़ा तो मैं तेरा राज़ जान गया ख़ुद अपने आप से मैं शिकवा-संज आज भी हूँ 'नदीम' यूँँ तो मुझे इक जहान मान गया

Ahmad Nadeem Qasmi

0 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Ahmad Nadeem Qasmi.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Ahmad Nadeem Qasmi's ghazal.