ghazalKuch Alfaaz

apna ghham le ke kahin aur na jaaya jaae ghar men bikhri hui chizon ko sajaya jaae jin charaghhon ko havaon ka koi khauf nahin un charaghhon ko havaon se bachaya jaae khud-kushi karne ki himmat nahin hoti sab men aur kuchh din abhi auron ko sataya jaae baaghh men jaane ke adab hua karte hain kisi titli ko na phulon se udaya jaae kya hua shahr ko kuchh bhi to dikhai de kahin yuun kiya jaae kabhi khud ko rulaya jaae ghar se masjid hai bahut duur chalo yuun kar len kisi rote hue bachche ko hansaya jaae apna gham le ke kahin aur na jaya jae ghar mein bikhri hui chizon ko sajaya jae jin charaghon ko hawaon ka koi khauf nahin un charaghon ko hawaon se bachaya jae khud-kushi karne ki himmat nahin hoti sab mein aur kuchh din abhi auron ko sataya jae bagh mein jaane ke aadab hua karte hain kisi titli ko na phulon se udaya jae kya hua shahr ko kuchh bhi to dikhai de kahin yun kiya jae kabhi khud ko rulaya jae ghar se masjid hai bahut dur chalo yun kar len kisi rote hue bachche ko hansaya jae

Related Ghazal

کتنے عیش سے رہتے ہوں گے کتنے اتراتے ہوں گے جانے کیسے لوگ حقیقت ہوں گے جو ا سے کو بھاتے ہوں گے شام ہوئے خوش باش ی ہاں کے مری پا سے آ جاتے ہیں مری بجھنے کا نہظارہ کرنے آ جاتے ہوں گے حقیقت جو لگ آنے والا ہے نا ا سے سے مجھ کو زار تھا آنے والوں سے کیا زار آتے ہیں آتے ہوں گے ا سے کی یاد کی باد صبا ہے وہ ہے وہ اور تو کیا ہوتا ہوگا یوںہی مری بال ہیں بکھرے اور بکھر جاتے ہوں گے یاروں کچھ تو ذکر کروں جاناں ا سے کی خوشگوار بان ہوں کا حقیقت جو سمٹتے ہوں گے ان ہے وہ ہے وہ حقیقت تو مر جاتے ہوں گے میرا سان سے اکھڑتے ہی سب بین کریںگے روئیںگے زبان مری بعد بھی زبان سان سے لیے جاتے ہوں گے

Jaun Elia

88 likes

نہیں تھا اپنا م گر پھروں بھی اپنا اپنا لگا کسی سے مل کے بے حد دیر بعد اچھا لگا تمہیں لگا تھا ہے وہ ہے وہ مر جاؤں گا تمہارے بغیر بتاؤ پھروں تمہیں میرا مزاق کیسا لگا تجوریوں پہ نظر اور لوگ رکھتے ہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ آسمان چرا لوں گا جب بھی موقع لگا مہ لقا ہے بھری الماریاں بڑے دل سے بتاتی ہے کہ محبت ہے وہ ہے وہ کس کا کتنا لگا

Tehzeeb Hafi

94 likes

مجھے ادا سے کر گئے ہوں خوش رہو مری مزاج پر گئے ہوں خوش رہو مری لیے لگ رک سکے تو کیا ہوا ج ہاں کہی ٹھہر گئے ہوں خوش رہو خوشی ہوئی ہے آج جاناں کو دیکھ کر بے حد نکھر سنور گئے ہوں خوش رہو ادا سے ہوں کسی کی بے وفائی پر وفا کہی تو کر گئے ہوں خوش رہو گلی ہے وہ ہے وہ اور لوگ بھی تھے آشنا ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ سلام بخیر کر گئے ہوں خوش رہو تمہیں تو مری دوستی پہ ناز تھا اسی سے اب مکر گئے ہوں خوش رہو کسی کی زندگی بنو کہ بندگی مری لیے تو مر گئے ہوں خوش رہو

Fazil Jamili

73 likes

याद तब करते हो करने को न हो जब कुछ भी और कहते हो तुम्हें इश्क़ है मतलब कुछ भी अब जो आ आ के बताते हो वो शख़्स ऐसा था जब मेरे साथ था वो क्यूँँ न कहा तब कुछ भी वक्फ़े-वक्फ़े से मुझे देखने आते रहना हिज्र की शब है सो हो सकता है इस शब कुछ भी

Umair Najmi

68 likes

حقیقت زما لگ گزر گیا تو کب کا تھا جو دیوا لگ مر گیا تو کب کا ڈھونڈتا تھا جو اک نئی دنیا لوٹ کے اپنے گھر گیا تو کب کا حقیقت جو لایا تھا ہم کو دریا تک پار اکیلے اتر گیا تو کب کا ا سے کا جو حال ہے وہی جانے اپنا تو زخم بھر گیا تو کب کا خواب در خواب تھا جو شیرازہ اب ک ہاں ہے بکھر گیا تو کب کا

Javed Akhtar

62 likes

More from Nida Fazli

چاہتیں موسمی پرندے ہیں رت بدلتے ہی لوٹ جاتے ہیں گھونسلے بن کے ٹوٹ جاتے ہیں داغ شاخوں پہ چہچہاتے ہیں آنے والے بیاض ہے وہ ہے وہ اپنی جانے والوں کے نام لکھتے ہیں سب ہی اوروں کے خالی کمروں کو اپنی اپنی طرح سجاتے ہیں موت اک واہمہ ہے دی کا ساتھ چھوٹتا ک ہاں ہے اپنوں کا جو ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ پر نظر نہیں آتے چاند تاروں ہے وہ ہے وہ جگمگاتے ہیں یہ مصور عجیب ہوتے ہیں آپ اپنے حبیب ہوتے ہیں دوسروں کی شباہتیں لے کر اپنی تصویر ہی بناتے ہیں یوں ہی چلتا ہے کاروبار ج ہاں ہے ضروری ہر ایک چیز ی ہاں جن درختوں ہے وہ ہے وہ پھل نہیں آتے حقیقت جلانے کے کام آتے ہیں

Nida Fazli

0 likes

جسے دیکھتے ہی خماری لگے اسے عمر ساری ہماری لگے اجالا سا ہے ا سے کے چاروں طرف حقیقت چھوؤں گا بدن پاؤں بھاری لگے حقیقت سسرال سے آئی ہے مائیکے اسے جتنا دیکھو حقیقت پیاری لگے حسین صورتیں اور بھی ہیں م گر حقیقت سب سیکڑوں ہے وہ ہے وہ ہزاری لگے چلو ا سے طرح سے سے جائیں اسے یہ دنیا ہماری تمہاری لگے اسے دیکھنا شعر گوئی کا فن اسے سوچنا دین داری لگے

Nida Fazli

1 likes

ہر ایک بات کو چپ چاپ کیوں سنا جائے کبھی تو حوصلہ کر کے نہیں کہا جائے تمہارا گھر بھی اسی شہر کے حصار ہے وہ ہے وہ ہے لگی ہے آگ ک ہاں کیوں پتا کیا جائے جدا ہے ہیر سے رانجھے کئی زمانوں سے نئے سرے سے کہانی کو پھروں لکھا جائے کہا گیا تو ہے ستاروں کو چھونا مشکل ہے یہ کتنا سچ ہے کبھی غضب کیا جائے کتابیں یوں تو بے حد سی ہیں مری بارے ہے وہ ہے وہ ہے وہ کبھی اکیلے ہے وہ ہے وہ خود کو بھی پڑھ لیا جائے

Nida Fazli

1 likes

اٹھ کے کپڑے بدل گھر سے باہر نکل جو ہوا سو ہوا رات کے بعد دن آج کے بعد کل جو ہوا سو ہوا جب تلک سان سے ہے بھوک ہے پیا سے ہے یہ ہی اتہا سے ہے رکھ کے کندھے پہ حل کھیت کی اور چل جو ہوا سو ہوا خون سے تر ب تر کر کے ہر رہگزر تھک چکے جانور لکڑیوں کی طرح پھروں سے چولہے ہے وہ ہے وہ جل جو ہوا سو ہوا جو مرا کیوں مرا جو لٹا کیوں لٹا جو جلا کیوں جلا مدتوں سے ہیں غم ان سوالوں کے حل جو ہوا سو ہوا مندروں ہے وہ ہے وہ بھجن مسجدوں ہے وہ ہے وہ اذان آدمی ہے ک ہاں آدمی کے لیے ایک تازہ غزل جو ہوا سو ہوا

Nida Fazli

1 likes

ہر ایک گھر ہے وہ ہے وہ دیا بھی جلے اناج بھی ہوں ا گر لگ ہوں کہی ایسا تو احتجاج بھی ہوں رہےگی وعدوں ہے وہ ہے وہ کب تک ہم نوا خوش حالی ہر ایک بار ہی کل کیوں کبھی تو آج بھی ہوں لگ کرتے شور شرابا تو اور کیا کرتے تمہارے شہر ہے وہ ہے وہ کچھ اور کام کاج بھی ہوں حکومتوں کو بدلنا تو کچھ محال نہیں حکومتیں جو بدلتا ہے حقیقت سماج بھی ہوں بدل رہے ہیں کئی آدمی درندوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ مرض پرانا ہے ا سے کا نیا علاج بھی ہوں اکیلے غم سے نئی شاعری نہیں ہوتی زبان میر ہے وہ ہے وہ تاکتے کا امتزاج بھی ہوں

Nida Fazli

0 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Nida Fazli.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Nida Fazli's ghazal.