عقل نے ہم کو یوں بھٹکایا رہ لگ سکے دیوانے بھی آبا گرا کو ڈھونڈنے نکلے کھو بیٹھے ویرانے بھی چشم ساقی بھی نمہ ہے لو دیتے ہیں پیمانے بھی تش لگ لبی کے سیل تپاں سے بچ لگ سکے مے خانے بھی سنگ کہوں کو خوش خبری دو مجدہ نوید دو زنجیروں کو شہر خرد ہے وہ ہے وہ آ پہنچے ہیں ہم چنو دیوانے بھی ہم نے جب ج سے دوست کو بھی آئی لگ دکھایا ماضی کا حیران ہوں کر عک سے نے پوچھا آپ مجھے فنا فی ال عشق بھی جسم کی تش لگ سامانی سے جسم ہی نا آسودہ نہیں ٹوٹ گئے ا سے زد پر آ کر روح کے طعنہ بانے بھی اندیشے اور بزم جاناں دار کا ذکر اور اتنا سکوت دیوانوں کے بھی سے ہے وہ ہے وہ شاید آ پہنچے فرضانے بھی
Related Ghazal
کیسے ا سے نے یہ سب کچھ مجھ سے چھپ کر بدلا چہرہ بدلا رستہ بدلا بعد ہے وہ ہے وہ گھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے بارے ہے وہ ہے وہ یہ کہتا تھا لوگوں سے میرا نام بدل دینا حقیقت بے وجہ ا گر بدلا حقیقت بھی خوش تھا ا سے نے دل دے کر دل مانگا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی خوش ہوں ہے وہ ہے وہ نے پتھر سے پتھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے کہا کیا مری خاطر خود کو بدلوگے اور پھروں ا سے نے نظریں بدلیں اور نمبر بدلا
Tehzeeb Hafi
435 likes
کیوں ڈریں زندگی ہے وہ ہے وہ کیا ہوگا کچھ لگ ہوگا تو غضب ہوگا ہنستی آنکھوں ہے وہ ہے وہ جھانک کر دیکھو کوئی آنسو کہی چھپا ہوگا ان دنوں نا امید سا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ شاید ا سے نے بھی یہ سنا ہوگا دیکھ کر جاناں کو سوچتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کیا کسی نے تمہیں چھوا ہوگا
Javed Akhtar
371 likes
چاند ستارے تم پھول پرندے شام سویرہ ایک طرف ساری دنیا ا سے کا چربہ ا سے کا چہرہ ایک طرف حقیقت لڑکر بھی سو جائے تو ا سے کا ماتھا چوموں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے سے محبت ایک طرف ہے ا سے سے جھگڑا ایک طرف ج سے اجازت پر حقیقت انگلی رکھ دے اس کا کو حقیقت دلوانی ہے ا سے کی خوشیاں سب سے اول سستا مہنگا ایک طرف زخموں پر مرہم لگواو لیکن ا سے کے ہاتھوں سے چارسازی ایک طرف ہے ا سے کا چھونا ایک طرف ساری دنیا جو بھی بولے سب کچھ شور شرابا ہے سب کا کہنا ایک طرف ہے ا سے کا کہنا ایک طرف ا سے نے ساری دنیا مانگی ہے وہ ہے وہ نے اس کا کو مانگا ہے ا سے کے سپنے ایک طرف ہے میرا سپنا ایک طرف
Varun Anand
406 likes
अब के हम बिछड़े तो शायद कभी ख़्वाबों में मिलें जिस तरह सूखे हुए फूल किताबों में मिलें ढूँढ़ उजड़े हुए लोगों में वफ़ा के मोती ये ख़ज़ाने तुझे मुमकिन है ख़राबों में मिलें ग़म-ए-दुनिया भी ग़म-ए-यार में शामिल कर लो नशा बढ़ता है शराबें जो शराबों में मिलें तू ख़ुदा है न मिरा इश्क़ फ़रिश्तों जैसा दोनों इंसाँ हैं तो क्यूँँ इतने हिजाबों में मिलें आज हम दार पे खींचे गए जिन बातों पर क्या अजब कल वो ज़माने को निसाबों में मिलें अब न वो मैं न वो तू है न वो माज़ी है 'फ़राज़' जैसे दो शख़्स तमन्ना के सराबों में मिलें
Ahmad Faraz
130 likes
یہ ہے وہ ہے وہ نے کب کہا کہ مری حق ہے وہ ہے وہ فیصلہ کرے ا گر حقیقت مجھ سے خوش نہیں ہے تو مجھے جدا کرے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے ساتھ ج سے طرح گزارتا ہوں زندگی اسے تو چاہیے کہ میرا شکریہ ادا کرے مری دعا ہے اور اک طرح سے بد دعا بھی ہے خدا تمہیں تمہارے جیسی بیٹیاں عطا کرے بنا چکا ہوں ہے وہ ہے وہ محبتوں کے درد کی دوا ا گر کسی کو چاہیے تو مجھ سے رابطہ کرے
Tehzeeb Hafi
292 likes
More from Ummeed Fazli
جانے یہ کیسا زہر دلوں ہے وہ ہے وہ اتر گیا تو پرچھائیں زندہ رہ گئی انسان مر گیا تو بربادیاں تو میرا مقدر ہی تھیں م گر چہروں سے دوستوں کے ملمع اتر گیا تو اے دوپہر کی دھوپ بتا کیا جواب دوں دیوار پوچھتی ہے کہ سایہ کدھر گیا تو ا سے شہر ہے وہ ہے وہ فراش طلب ہے ہر ایک راہ حقیقت خوش نصیب تھا جو سلیقے سے مر گیا تو کیا کیا لگ ا سے کو زوم مسیحائی تھا امید ہم نے د کھائے زخم تو چہرہ اتر گیا تو
Ummeed Fazli
1 likes
مقتل جاں سے کہ زندان سے کہ گھر سے نکلے ہم تو خوشبو کی طرح نکلے جدھر سے نکلے گر خوشگوار یہ نہیں ہے تو خوشگوار کیا ہے شہر جلتا رہا اور لوگ لگ گھر سے نکلے جانے حقیقت کون سی منزل تھی محبت کی ج ہاں مری آنسو بھی تری دیدہ تر سے نکلے در بدری کا ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ طع لگ لگ دے اے چشم غزال دیکھ حقیقت خواب کہ ج سے کے لیے گھر سے نکلے میرا رہزن ہوا کیا کیا لگ پشیمان کہ جب ا سے کے نامے مری اسباب سفر سے نکلے بر سر دوش رہے یا سر نیزہ یا رب طرز پرستش کا لگ سودا کبھی سر سے نکلے
Ummeed Fazli
0 likes
حقیقت خواب ہی صحیح سانحے نظر تو اب بھی ہے چیزیں والا شریک سفر تو اب بھی ہے زبان بریدا صحیح ہے وہ ہے وہ خزاں گزیدہ صحیح ہرا بھرا میرا زخم ہنر تو اب بھی ہے سنا تھا ہم نے کہ موسم بدل گئے ہیں م گر ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ سے فاصلہ ابر تر تو اب بھی ہے ہماری در بدری پر لگ جائیے کہ ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ شعور سایہ دیوار و در تو اب بھی ہے ہوں سے کے دور ہے وہ ہے وہ ممنون یاد یار ہیں ہم کہ یاد یار دلوں کی سپر تو اب بھی ہے اندھیرا ہیں ا گر معتبر تو پھروں اک بے وجہ کہانیوں کی طرح معتبر تو اب بھی ہے ہزار کھینچ لے سورج حصار ابر م گر کرن کرن پہ گرفت نظر تو اب بھی ہے سمندروں سے زمینوں کو خوف کیا کہ امید نمو پذیر زمین ہنر تو اب بھی ہے م گر یہ کون بدلتی ہوئی رتوں سے کہے شجر ہے وہ ہے وہ سایہ نہیں ہے شجر تو اب بھی ہے
Ummeed Fazli
0 likes
اک ایسا مرحلہ رہ گزر بھی آتا ہے کوئی فصیل انا سے اتر بھی آتا ہے تری تلاش ہے وہ ہے وہ جانے ک ہاں بھٹک جاؤں سفر ہے وہ ہے وہ دشت بھی آتا ہے گھر بھی آتا ہے تلاش سائے کی لائی جو دشت سے تو کھلا عذاب صورت دیوار و در بھی آتا ہے سکون تو جب ہوں کہ ہے وہ ہے وہ چھاؤں عزیز تر ہے وہ ہے وہ دیکھوں نظر تو ویسے گلی کا شجر بھی آتا ہے بدن کی خاک سمیٹے ہوئے ہوں کیا لوگوں سفر ہے وہ ہے وہ لمحہ ترک سفر بھی آتا ہے دلوں کو زخم لگ دو حرف نا ملائم سے یہ تیر حقیقت ہے کہ جو لوٹ کر بھی آتا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ شہر ہے وہ ہے وہ کسے الزام نا شناسی دوں یہ حرف خود مری کردار پر بھی آتا ہے نظر یہ ک سے سے ملی ناگ ہاں کہ یاد آیا اسی گلی ہے وہ ہے وہ کہی میرا گھر بھی آتا ہے ہوا کے رکھ پہ نظر طائران خوش پرواز قف سے کا سایہ پ سے بال و پر بھی آتا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ حرف حرف ہے وہ ہے وہ اترا ہوں روشنی کی طرح سو کائنات کا چہرہ نظر بھی آتا ہے لہو سے حرف تراشیں جو مری طرح امید انہی کے حصے ہے وہ ہے وہ زخم ہنر بھی آتا ہے
Ummeed Fazli
0 likes
کب تک ا سے پیا سے کے صحرا ہے وہ ہے وہ جھل سے تے جائیں اب یہ بادل جو اٹھے ہیں تو برستے جائیں کون بتلائے تمہیں کیسے حقیقت موسم ہیں کہ جو مجھ سے ہی دور رہیں مجھ ہے وہ ہے وہ ہی گدا جائیں ہم سے آزاد مزاجوں پہ یہ افتاد ہے کیا چاہتے جائیں اسے خود کو ترستے جائیں ہاں یہ کیا لوگ یہ آباد ہوئے ہیں مجھ ہے وہ ہے وہ ہے وہ پیار کے لفظ لکھیں لہجے سے ڈستے جائیں آئی لگ دیکھوں تو اک چہرے کے بے رنگ نقوش ایک نادیدہ سی زنجیر ہے وہ ہے وہ کستے جائیں پوچھوں محبت کسے آیا ہے میسر امید ایسا لمحہ کہ جدھر صدیوں کے رستے جائیں
Ummeed Fazli
0 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Ummeed Fazli.
Similar Moods
More moods that pair well with Ummeed Fazli's ghazal.







