ghazalKuch Alfaaz

کب تک ا سے پیا سے کے صحرا ہے وہ ہے وہ جھل سے تے جائیں اب یہ بادل جو اٹھے ہیں تو برستے جائیں کون بتلائے تمہیں کیسے حقیقت موسم ہیں کہ جو مجھ سے ہی دور رہیں مجھ ہے وہ ہے وہ ہی گدا جائیں ہم سے آزاد مزاجوں پہ یہ افتاد ہے کیا چاہتے جائیں اسے خود کو ترستے جائیں ہاں یہ کیا لوگ یہ آباد ہوئے ہیں مجھ ہے وہ ہے وہ ہے وہ پیار کے لفظ لکھیں لہجے سے ڈستے جائیں آئی لگ دیکھوں تو اک چہرے کے بے رنگ نقوش ایک نادیدہ سی زنجیر ہے وہ ہے وہ کستے جائیں پوچھوں محبت کسے آیا ہے میسر امید ایسا لمحہ کہ جدھر صدیوں کے رستے جائیں

Related Ghazal

ستم ڈھاتے ہوئے سوچا کروگے ہمارے ساتھ جاناں ایسا کروگے انگوٹھی تو مجھے لوٹا رہے ہوں انگوٹھی کے نشان کا کیا کروگے ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے اب تمنائیں بھی نہیں ہوں تو کیا ا سے بات پر جھگڑا کروگے میرا دامن تمہیں تھامے ہوئے ہوں میرا دامن تمہیں میلا کروگے بتاؤ وعدہ کر کے آوگے نا کے پچھلی بار کے جیسا کروگے حقیقت دلہن بن کے رخصت ہوں گئی ہے ک ہاں تک کار کا پیچھا کروگے مجھے ب سے یوں ہی جاناں سے پوچھنا تھا ا گر ہے وہ ہے وہ مر گیا تو تو کیا کروگے

Zubair Ali Tabish

140 likes

ہاتھ خالی ہیں تری شہر سے جاتے جاتے جان ہوتی تو مری جان لٹاتے جاتے اب تو ہر ہاتھ کا پتھر ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ پہچانتا ہے عمر گزری ہے تری شہر ہے وہ ہے وہ آتے جاتے اب کے مایو سے ہوا یاروں کو رخصت کر کے جا رہے تھے تو کوئی زخم لگاتے جاتے رینگنے کی بھی اجازت نہیں ہم کو ور لگ ہم جدھر جاتے نئے پھول کھلاتے جاتے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو جلتے ہوئے صحراؤں کا اک پتھر تھا جاناں تو دریا تھے مری پیا سے بجھاتے جاتے مجھ کو رونے کا سلیقہ بھی نہیں ہے شاید لوگ ہنستے ہیں مجھے دیکھ کے آتے جاتے ہم سے پہلے بھی مسافر کئی گزرے ہوں گے کم سے کم راہ کے پتھر تو ہٹاتے جاتے

Rahat Indori

102 likes

کیا بادلوں ہے وہ ہے وہ سفر زندگی بھر ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ پر بنایا لگ گھر زندگی بھر سبھی زندگی کے مزے لوٹتے ہیں لگ آیا ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ ہنر زندگی بھر محبت رہی چار دن زندگی ہے وہ ہے وہ ہے وہ رہا چار دن کا اثر زندگی بھر

Anwar Shaoor

95 likes

چلا ہے سلسلہ کیسا یہ راتوں کو منانے کا تمہیں حق دے دیا ک سے نے دیوں کے دل دکھانے کا ارادہ چھوڑیے اپنی حدوں سے دور جانے کا زما لگ ہے زمانے کی نگا ہوں ہے وہ ہے وہ لگ آنے کا ک ہاں کی دوستی کن دوستوں کی بات کرتے ہوں میاں دشمن نہیں ملتا کوئی اب تو ٹھکانے کا نگا ہوں ہے وہ ہے وہ کوئی بھی دوسرا چہرہ نہیں آیا بھروسا ہی کچھ ایسا تھا تمہارے لوٹ آنے کا یہ ہے وہ ہے وہ ہی تھا بچا کے خود کو لے آیا کنارے تک سمندر نے بے حد موقع دیا تھا ڈوب جانے کا

Waseem Barelvi

103 likes

پوچھ لیتے حقیقت ب سے مزاج میرا کتنا آسان تھا علاج میرا چارہ گر کی نظر بتاتی ہے حال اچھا نہیں ہے آج میرا ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو رہتا ہوں دشت ہے وہ ہے وہ مصروف قی سے کرتا ہے کام کاج میرا کوئی کاسا مدد کو بھیج اللہ مری ب سے ہے وہ ہے وہ نہیں ہے تاج میرا ہے وہ ہے وہ ہے وہ محبت کی بادشاہت ہوں مجھ پہ چلتا نہیں ہے راج میرا

Fahmi Badayuni

96 likes

More from Ummeed Fazli

عقل نے ہم کو یوں بھٹکایا رہ لگ سکے دیوانے بھی آبا گرا کو ڈھونڈنے نکلے کھو بیٹھے ویرانے بھی چشم ساقی بھی نمہ ہے لو دیتے ہیں پیمانے بھی تش لگ لبی کے سیل تپاں سے بچ لگ سکے مے خانے بھی سنگ کہوں کو خوش خبری دو مجدہ نوید دو زنجیروں کو شہر خرد ہے وہ ہے وہ آ پہنچے ہیں ہم چنو دیوانے بھی ہم نے جب ج سے دوست کو بھی آئی لگ دکھایا ماضی کا حیران ہوں کر عک سے نے پوچھا آپ مجھے فنا فی ال عشق بھی جسم کی تش لگ سامانی سے جسم ہی نا آسودہ نہیں ٹوٹ گئے ا سے زد پر آ کر روح کے طعنہ بانے بھی اندیشے اور بزم جاناں دار کا ذکر اور اتنا سکوت دیوانوں کے بھی سے ہے وہ ہے وہ شاید آ پہنچے فرضانے بھی

Ummeed Fazli

0 likes

مقتل جاں سے کہ زندان سے کہ گھر سے نکلے ہم تو خوشبو کی طرح نکلے جدھر سے نکلے گر خوشگوار یہ نہیں ہے تو خوشگوار کیا ہے شہر جلتا رہا اور لوگ لگ گھر سے نکلے جانے حقیقت کون سی منزل تھی محبت کی ج ہاں مری آنسو بھی تری دیدہ تر سے نکلے در بدری کا ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ طع لگ لگ دے اے چشم غزال دیکھ حقیقت خواب کہ ج سے کے لیے گھر سے نکلے میرا رہزن ہوا کیا کیا لگ پشیمان کہ جب ا سے کے نامے مری اسباب سفر سے نکلے بر سر دوش رہے یا سر نیزہ یا رب طرز پرستش کا لگ سودا کبھی سر سے نکلے

Ummeed Fazli

0 likes

حقیقت خواب ہی صحیح سانحے نظر تو اب بھی ہے چیزیں والا شریک سفر تو اب بھی ہے زبان بریدا صحیح ہے وہ ہے وہ خزاں گزیدہ صحیح ہرا بھرا میرا زخم ہنر تو اب بھی ہے سنا تھا ہم نے کہ موسم بدل گئے ہیں م گر ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ سے فاصلہ ابر تر تو اب بھی ہے ہماری در بدری پر لگ جائیے کہ ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ شعور سایہ دیوار و در تو اب بھی ہے ہوں سے کے دور ہے وہ ہے وہ ممنون یاد یار ہیں ہم کہ یاد یار دلوں کی سپر تو اب بھی ہے اندھیرا ہیں ا گر معتبر تو پھروں اک بے وجہ کہانیوں کی طرح معتبر تو اب بھی ہے ہزار کھینچ لے سورج حصار ابر م گر کرن کرن پہ گرفت نظر تو اب بھی ہے سمندروں سے زمینوں کو خوف کیا کہ امید نمو پذیر زمین ہنر تو اب بھی ہے م گر یہ کون بدلتی ہوئی رتوں سے کہے شجر ہے وہ ہے وہ سایہ نہیں ہے شجر تو اب بھی ہے

Ummeed Fazli

0 likes

اک ایسا مرحلہ رہ گزر بھی آتا ہے کوئی فصیل انا سے اتر بھی آتا ہے تری تلاش ہے وہ ہے وہ جانے ک ہاں بھٹک جاؤں سفر ہے وہ ہے وہ دشت بھی آتا ہے گھر بھی آتا ہے تلاش سائے کی لائی جو دشت سے تو کھلا عذاب صورت دیوار و در بھی آتا ہے سکون تو جب ہوں کہ ہے وہ ہے وہ چھاؤں عزیز تر ہے وہ ہے وہ دیکھوں نظر تو ویسے گلی کا شجر بھی آتا ہے بدن کی خاک سمیٹے ہوئے ہوں کیا لوگوں سفر ہے وہ ہے وہ لمحہ ترک سفر بھی آتا ہے دلوں کو زخم لگ دو حرف نا ملائم سے یہ تیر حقیقت ہے کہ جو لوٹ کر بھی آتا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ شہر ہے وہ ہے وہ کسے الزام نا شناسی دوں یہ حرف خود مری کردار پر بھی آتا ہے نظر یہ ک سے سے ملی ناگ ہاں کہ یاد آیا اسی گلی ہے وہ ہے وہ کہی میرا گھر بھی آتا ہے ہوا کے رکھ پہ نظر طائران خوش پرواز قف سے کا سایہ پ سے بال و پر بھی آتا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ حرف حرف ہے وہ ہے وہ اترا ہوں روشنی کی طرح سو کائنات کا چہرہ نظر بھی آتا ہے لہو سے حرف تراشیں جو مری طرح امید انہی کے حصے ہے وہ ہے وہ زخم ہنر بھی آتا ہے

Ummeed Fazli

0 likes

ناز کر ناز کہ یہ ناز جدا ہے سب سے میرا لہجہ مری آواز جدا ہے سب سے پوچھوں محبت کسے معلوم کہ حقیقت چشم حیا بات تو کرتی ہے انداز جدا ہے سب سے ج سے کو بھی مار دیا زندہ جاوید کیا حرف حق تیرا یہ اعجاز جدا ہے سب سے دیکھنا کون ہے کیا ا سے کو نہیں جان عزیز سر دربار اک آواز جدا ہے سب سے ٹوٹ جاتا ہے تو سر اور بھی لو دیتے ہیں دل جسے کہتے ہیں حقیقت ساز جدا ہے سب سے سوچ کر دام بچھانا ذرا اے موج ہوا مری انکار کی پرواز جدا ہے سب سے نشہ دہر و قیامت کا تو کیا ذکر امید حقیقت میرا سرو سر افراز جدا ہے سب سے

Ummeed Fazli

0 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Ummeed Fazli.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Ummeed Fazli's ghazal.