حقیقت خواب ہی صحیح سانحے نظر تو اب بھی ہے چیزیں والا شریک سفر تو اب بھی ہے زبان بریدا صحیح ہے وہ ہے وہ خزاں گزیدہ صحیح ہرا بھرا میرا زخم ہنر تو اب بھی ہے سنا تھا ہم نے کہ موسم بدل گئے ہیں م گر ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ سے فاصلہ ابر تر تو اب بھی ہے ہماری در بدری پر لگ جائیے کہ ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ شعور سایہ دیوار و در تو اب بھی ہے ہوں سے کے دور ہے وہ ہے وہ ممنون یاد یار ہیں ہم کہ یاد یار دلوں کی سپر تو اب بھی ہے اندھیرا ہیں ا گر معتبر تو پھروں اک بے وجہ کہانیوں کی طرح معتبر تو اب بھی ہے ہزار کھینچ لے سورج حصار ابر م گر کرن کرن پہ گرفت نظر تو اب بھی ہے سمندروں سے زمینوں کو خوف کیا کہ امید نمو پذیر زمین ہنر تو اب بھی ہے م گر یہ کون بدلتی ہوئی رتوں سے کہے شجر ہے وہ ہے وہ سایہ نہیں ہے شجر تو اب بھی ہے
Related Ghazal
غزل تو سب کو میٹھی لگ رہی تھی م گر نہاتک کو مرچی لگ رہی تھی تمہارے لب نہیں چومے تھے جب تک مجھے ہر چیز کڑوی لگ رہی تھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ ج سے دن چھوڑنے والا تھا اس کا کو حقیقت ا سے دن سب سے پیاری لگ رہی تھی
Zubair Ali Tabish
80 likes
دل پھروں اس کا کوچے ہے وہ ہے وہ جانے والا ہے بیٹھے بٹھائے ٹھوکر خانے والا ہے ترک تعلق کا دھڑکا سا ہے دل کو حقیقت مجھ کو اک بات بتانے والا ہے کتنے ادب سے بیٹھے ہیں سوکھے پودے چنو بادل شعر سنہانے والا ہے یہ مت سوچ سرائے پر کیا بیتےگی تو تو بس اک رات بتانے والا ہے اینٹوں کو آپس ہے وہ ہے وہ ملانے والا بے وجہ اصل ہے وہ ہے وہ اک دیوار اٹھانے والا ہے گاڑی کی رفتار ہے وہ ہے وہ آئی ہے سستی شاید اب اسٹیشن آنے والا ہے آخری ہچکی لینی ہے اب آ جاؤ بعد ہے وہ ہے وہ جاناں کو کون بلانے والا ہے
Zubair Ali Tabish
33 likes
جھکی جھکی سی نظر بے قرار ہے کہ نہیں دبا دبا سا صحیح دل ہے وہ ہے وہ پیار ہے کہ نہیں تو اپنے دل کی جواں دھڑکنوں کو گن کے بتا مری طرح ترا دل بے قرار ہے کہ نہیں حقیقت پل کہ ج سے ہے وہ ہے وہ محبت جوان ہوتی ہے ا سے ایک پل کا تجھے انتظار ہے کہ نہیں تری امید پہ ٹھکرا رہا ہوں دنیا کو تجھے بھی اپنے پہ یہ اعتبار ہے کہ نہیں
Kaifi Azmi
33 likes
خواب کے ہی ہم سہارے چل رہے ہیں زخم کو بھی گدگداتے چل رہے ہیں کیا بتائیں اب تمہیں ہم حال اپنا ہجر ہے وہ ہے وہ کیسے دیوانے چل رہے ہیں دریا کی تنہائی کا تو سوچئے ساتھ ج سے کے دو کنارے چل رہے ہیں جاناں کو کیا لگتا ہے تنہا چل رہا ہوں ساتھ مری چاند تارے چل رہے ہیں
Anand Raj Singh
32 likes
حقیقت زما لگ گزر گیا تو کب کا تھا جو دیوا لگ مر گیا تو کب کا ڈھونڈتا تھا جو اک نئی دنیا لوٹ کے اپنے گھر گیا تو کب کا حقیقت جو لایا تھا ہم کو دریا تک پار اکیلے اتر گیا تو کب کا ا سے کا جو حال ہے وہی جانے اپنا تو زخم بھر گیا تو کب کا خواب در خواب تھا جو شیرازہ اب ک ہاں ہے بکھر گیا تو کب کا
Javed Akhtar
62 likes
More from Ummeed Fazli
عقل نے ہم کو یوں بھٹکایا رہ لگ سکے دیوانے بھی آبا گرا کو ڈھونڈنے نکلے کھو بیٹھے ویرانے بھی چشم ساقی بھی نمہ ہے لو دیتے ہیں پیمانے بھی تش لگ لبی کے سیل تپاں سے بچ لگ سکے مے خانے بھی سنگ کہوں کو خوش خبری دو مجدہ نوید دو زنجیروں کو شہر خرد ہے وہ ہے وہ آ پہنچے ہیں ہم چنو دیوانے بھی ہم نے جب ج سے دوست کو بھی آئی لگ دکھایا ماضی کا حیران ہوں کر عک سے نے پوچھا آپ مجھے فنا فی ال عشق بھی جسم کی تش لگ سامانی سے جسم ہی نا آسودہ نہیں ٹوٹ گئے ا سے زد پر آ کر روح کے طعنہ بانے بھی اندیشے اور بزم جاناں دار کا ذکر اور اتنا سکوت دیوانوں کے بھی سے ہے وہ ہے وہ شاید آ پہنچے فرضانے بھی
Ummeed Fazli
0 likes
مقتل جاں سے کہ زندان سے کہ گھر سے نکلے ہم تو خوشبو کی طرح نکلے جدھر سے نکلے گر خوشگوار یہ نہیں ہے تو خوشگوار کیا ہے شہر جلتا رہا اور لوگ لگ گھر سے نکلے جانے حقیقت کون سی منزل تھی محبت کی ج ہاں مری آنسو بھی تری دیدہ تر سے نکلے در بدری کا ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ طع لگ لگ دے اے چشم غزال دیکھ حقیقت خواب کہ ج سے کے لیے گھر سے نکلے میرا رہزن ہوا کیا کیا لگ پشیمان کہ جب ا سے کے نامے مری اسباب سفر سے نکلے بر سر دوش رہے یا سر نیزہ یا رب طرز پرستش کا لگ سودا کبھی سر سے نکلے
Ummeed Fazli
0 likes
اک ایسا مرحلہ رہ گزر بھی آتا ہے کوئی فصیل انا سے اتر بھی آتا ہے تری تلاش ہے وہ ہے وہ جانے ک ہاں بھٹک جاؤں سفر ہے وہ ہے وہ دشت بھی آتا ہے گھر بھی آتا ہے تلاش سائے کی لائی جو دشت سے تو کھلا عذاب صورت دیوار و در بھی آتا ہے سکون تو جب ہوں کہ ہے وہ ہے وہ چھاؤں عزیز تر ہے وہ ہے وہ دیکھوں نظر تو ویسے گلی کا شجر بھی آتا ہے بدن کی خاک سمیٹے ہوئے ہوں کیا لوگوں سفر ہے وہ ہے وہ لمحہ ترک سفر بھی آتا ہے دلوں کو زخم لگ دو حرف نا ملائم سے یہ تیر حقیقت ہے کہ جو لوٹ کر بھی آتا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ شہر ہے وہ ہے وہ کسے الزام نا شناسی دوں یہ حرف خود مری کردار پر بھی آتا ہے نظر یہ ک سے سے ملی ناگ ہاں کہ یاد آیا اسی گلی ہے وہ ہے وہ کہی میرا گھر بھی آتا ہے ہوا کے رکھ پہ نظر طائران خوش پرواز قف سے کا سایہ پ سے بال و پر بھی آتا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ حرف حرف ہے وہ ہے وہ اترا ہوں روشنی کی طرح سو کائنات کا چہرہ نظر بھی آتا ہے لہو سے حرف تراشیں جو مری طرح امید انہی کے حصے ہے وہ ہے وہ زخم ہنر بھی آتا ہے
Ummeed Fazli
0 likes
ناز کر ناز کہ یہ ناز جدا ہے سب سے میرا لہجہ مری آواز جدا ہے سب سے پوچھوں محبت کسے معلوم کہ حقیقت چشم حیا بات تو کرتی ہے انداز جدا ہے سب سے ج سے کو بھی مار دیا زندہ جاوید کیا حرف حق تیرا یہ اعجاز جدا ہے سب سے دیکھنا کون ہے کیا ا سے کو نہیں جان عزیز سر دربار اک آواز جدا ہے سب سے ٹوٹ جاتا ہے تو سر اور بھی لو دیتے ہیں دل جسے کہتے ہیں حقیقت ساز جدا ہے سب سے سوچ کر دام بچھانا ذرا اے موج ہوا مری انکار کی پرواز جدا ہے سب سے نشہ دہر و قیامت کا تو کیا ذکر امید حقیقت میرا سرو سر افراز جدا ہے سب سے
Ummeed Fazli
0 likes
کب تک ا سے پیا سے کے صحرا ہے وہ ہے وہ جھل سے تے جائیں اب یہ بادل جو اٹھے ہیں تو برستے جائیں کون بتلائے تمہیں کیسے حقیقت موسم ہیں کہ جو مجھ سے ہی دور رہیں مجھ ہے وہ ہے وہ ہی گدا جائیں ہم سے آزاد مزاجوں پہ یہ افتاد ہے کیا چاہتے جائیں اسے خود کو ترستے جائیں ہاں یہ کیا لوگ یہ آباد ہوئے ہیں مجھ ہے وہ ہے وہ ہے وہ پیار کے لفظ لکھیں لہجے سے ڈستے جائیں آئی لگ دیکھوں تو اک چہرے کے بے رنگ نقوش ایک نادیدہ سی زنجیر ہے وہ ہے وہ کستے جائیں پوچھوں محبت کسے آیا ہے میسر امید ایسا لمحہ کہ جدھر صدیوں کے رستے جائیں
Ummeed Fazli
0 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Ummeed Fazli.
Similar Moods
More moods that pair well with Ummeed Fazli's ghazal.







