ghazalKuch Alfaaz

مقتل جاں سے کہ زندان سے کہ گھر سے نکلے ہم تو خوشبو کی طرح نکلے جدھر سے نکلے گر خوشگوار یہ نہیں ہے تو خوشگوار کیا ہے شہر جلتا رہا اور لوگ لگ گھر سے نکلے جانے حقیقت کون سی منزل تھی محبت کی ج ہاں مری آنسو بھی تری دیدہ تر سے نکلے در بدری کا ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ طع لگ لگ دے اے چشم غزال دیکھ حقیقت خواب کہ ج سے کے لیے گھر سے نکلے میرا رہزن ہوا کیا کیا لگ پشیمان کہ جب ا سے کے نامے مری اسباب سفر سے نکلے بر سر دوش رہے یا سر نیزہ یا رب طرز پرستش کا لگ سودا کبھی سر سے نکلے

Related Ghazal

ج سے طرح سمے گزرنے کے لیے ہوتا ہے آدمی شکل پہ مرنے کے لیے ہوتا ہے تیری آنکھوں سے ملاقات ہوئی تب یہ کھلا ڈوبنے والا ابھرنے کے لیے ہوتا ہے عشق کیوں پیچھے ہٹا بات نبھانے سے میاں حسن تو خیر مکرنے کے لیے ہوتا ہے آنکھ ہوتی ہے کسی راہ کو تکنے کے لیے دل کسی پاؤں پہ دھرنے کے لیے ہوتا ہے دل کی دہلی کا چناؤ ہی ا پیش ہے صاحب جب بھی ہوتا ہے یہ ہَرنے کے لیے ہوتا ہے کوئی بستی ہوں اجڑنے کے لیے بستی ہے کوئی مجمع ہوں گزرا کے لیے ہوتا ہے

Ali Zaryoun

61 likes

ہاتھ خالی ہیں تری شہر سے جاتے جاتے جان ہوتی تو مری جان لٹاتے جاتے اب تو ہر ہاتھ کا پتھر ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ پہچانتا ہے عمر گزری ہے تری شہر ہے وہ ہے وہ آتے جاتے اب کے مایو سے ہوا یاروں کو رخصت کر کے جا رہے تھے تو کوئی زخم لگاتے جاتے رینگنے کی بھی اجازت نہیں ہم کو ور لگ ہم جدھر جاتے نئے پھول کھلاتے جاتے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو جلتے ہوئے صحراؤں کا اک پتھر تھا جاناں تو دریا تھے مری پیا سے بجھاتے جاتے مجھ کو رونے کا سلیقہ بھی نہیں ہے شاید لوگ ہنستے ہیں مجھے دیکھ کے آتے جاتے ہم سے پہلے بھی مسافر کئی گزرے ہوں گے کم سے کم راہ کے پتھر تو ہٹاتے جاتے

Rahat Indori

102 likes

آنکھ کو آئی لگ سمجھتے ہوں جاناں بھی سب کی طرح سمجھتے ہوں دوست اب کیوں نہیں سمجھتے جاناں جاناں تو کہتے تھے نا سمجھتے ہوں اپنا غم جاناں کو کیسے سمجھاؤں سب سے ہارا ہوا سمجھتے ہوں مری دنیا اجڑ گئی ا سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں اسے حادثہ سمجھتے ہوں آخری راستہ تو باقی ہے آخری راستہ سمجھتے ہوں

Himanshi babra KATIB

76 likes

ہر اندھیرا روشنی ہے وہ ہے وہ لگ گیا تو ج سے کو دیکھو شاعری ہے وہ ہے وہ لگ گیا تو ہم کو مر جانے کی فرصت کب ملی سمے سارا زندگی ہے وہ ہے وہ لگ گیا تو اپنا مے خا لگ بنا سکتے تھے ہم اتنا بڑھانے میکشی ہے وہ ہے وہ لگ گیا تو خود سے اتنی دور جا نکلے تھے ہم اک زما لگ واپسی ہے وہ ہے وہ لگ گیا تو

Mehshar Afridi

53 likes

جھکی جھکی سی نظر بے قرار ہے کہ نہیں دبا دبا سا صحیح دل ہے وہ ہے وہ پیار ہے کہ نہیں تو اپنے دل کی جواں دھڑکنوں کو گن کے بتا مری طرح ترا دل بے قرار ہے کہ نہیں حقیقت پل کہ ج سے ہے وہ ہے وہ محبت جوان ہوتی ہے ا سے ایک پل کا تجھے انتظار ہے کہ نہیں تری امید پہ ٹھکرا رہا ہوں دنیا کو تجھے بھی اپنے پہ یہ اعتبار ہے کہ نہیں

Kaifi Azmi

33 likes

More from Ummeed Fazli

عقل نے ہم کو یوں بھٹکایا رہ لگ سکے دیوانے بھی آبا گرا کو ڈھونڈنے نکلے کھو بیٹھے ویرانے بھی چشم ساقی بھی نمہ ہے لو دیتے ہیں پیمانے بھی تش لگ لبی کے سیل تپاں سے بچ لگ سکے مے خانے بھی سنگ کہوں کو خوش خبری دو مجدہ نوید دو زنجیروں کو شہر خرد ہے وہ ہے وہ آ پہنچے ہیں ہم چنو دیوانے بھی ہم نے جب ج سے دوست کو بھی آئی لگ دکھایا ماضی کا حیران ہوں کر عک سے نے پوچھا آپ مجھے فنا فی ال عشق بھی جسم کی تش لگ سامانی سے جسم ہی نا آسودہ نہیں ٹوٹ گئے ا سے زد پر آ کر روح کے طعنہ بانے بھی اندیشے اور بزم جاناں دار کا ذکر اور اتنا سکوت دیوانوں کے بھی سے ہے وہ ہے وہ شاید آ پہنچے فرضانے بھی

Ummeed Fazli

0 likes

حقیقت خواب ہی صحیح سانحے نظر تو اب بھی ہے چیزیں والا شریک سفر تو اب بھی ہے زبان بریدا صحیح ہے وہ ہے وہ خزاں گزیدہ صحیح ہرا بھرا میرا زخم ہنر تو اب بھی ہے سنا تھا ہم نے کہ موسم بدل گئے ہیں م گر ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ سے فاصلہ ابر تر تو اب بھی ہے ہماری در بدری پر لگ جائیے کہ ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ شعور سایہ دیوار و در تو اب بھی ہے ہوں سے کے دور ہے وہ ہے وہ ممنون یاد یار ہیں ہم کہ یاد یار دلوں کی سپر تو اب بھی ہے اندھیرا ہیں ا گر معتبر تو پھروں اک بے وجہ کہانیوں کی طرح معتبر تو اب بھی ہے ہزار کھینچ لے سورج حصار ابر م گر کرن کرن پہ گرفت نظر تو اب بھی ہے سمندروں سے زمینوں کو خوف کیا کہ امید نمو پذیر زمین ہنر تو اب بھی ہے م گر یہ کون بدلتی ہوئی رتوں سے کہے شجر ہے وہ ہے وہ سایہ نہیں ہے شجر تو اب بھی ہے

Ummeed Fazli

0 likes

کب تک ا سے پیا سے کے صحرا ہے وہ ہے وہ جھل سے تے جائیں اب یہ بادل جو اٹھے ہیں تو برستے جائیں کون بتلائے تمہیں کیسے حقیقت موسم ہیں کہ جو مجھ سے ہی دور رہیں مجھ ہے وہ ہے وہ ہی گدا جائیں ہم سے آزاد مزاجوں پہ یہ افتاد ہے کیا چاہتے جائیں اسے خود کو ترستے جائیں ہاں یہ کیا لوگ یہ آباد ہوئے ہیں مجھ ہے وہ ہے وہ ہے وہ پیار کے لفظ لکھیں لہجے سے ڈستے جائیں آئی لگ دیکھوں تو اک چہرے کے بے رنگ نقوش ایک نادیدہ سی زنجیر ہے وہ ہے وہ کستے جائیں پوچھوں محبت کسے آیا ہے میسر امید ایسا لمحہ کہ جدھر صدیوں کے رستے جائیں

Ummeed Fazli

0 likes

اک ایسا مرحلہ رہ گزر بھی آتا ہے کوئی فصیل انا سے اتر بھی آتا ہے تری تلاش ہے وہ ہے وہ جانے ک ہاں بھٹک جاؤں سفر ہے وہ ہے وہ دشت بھی آتا ہے گھر بھی آتا ہے تلاش سائے کی لائی جو دشت سے تو کھلا عذاب صورت دیوار و در بھی آتا ہے سکون تو جب ہوں کہ ہے وہ ہے وہ چھاؤں عزیز تر ہے وہ ہے وہ دیکھوں نظر تو ویسے گلی کا شجر بھی آتا ہے بدن کی خاک سمیٹے ہوئے ہوں کیا لوگوں سفر ہے وہ ہے وہ لمحہ ترک سفر بھی آتا ہے دلوں کو زخم لگ دو حرف نا ملائم سے یہ تیر حقیقت ہے کہ جو لوٹ کر بھی آتا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ شہر ہے وہ ہے وہ کسے الزام نا شناسی دوں یہ حرف خود مری کردار پر بھی آتا ہے نظر یہ ک سے سے ملی ناگ ہاں کہ یاد آیا اسی گلی ہے وہ ہے وہ کہی میرا گھر بھی آتا ہے ہوا کے رکھ پہ نظر طائران خوش پرواز قف سے کا سایہ پ سے بال و پر بھی آتا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ حرف حرف ہے وہ ہے وہ اترا ہوں روشنی کی طرح سو کائنات کا چہرہ نظر بھی آتا ہے لہو سے حرف تراشیں جو مری طرح امید انہی کے حصے ہے وہ ہے وہ زخم ہنر بھی آتا ہے

Ummeed Fazli

0 likes

جانے یہ کیسا زہر دلوں ہے وہ ہے وہ اتر گیا تو پرچھائیں زندہ رہ گئی انسان مر گیا تو بربادیاں تو میرا مقدر ہی تھیں م گر چہروں سے دوستوں کے ملمع اتر گیا تو اے دوپہر کی دھوپ بتا کیا جواب دوں دیوار پوچھتی ہے کہ سایہ کدھر گیا تو ا سے شہر ہے وہ ہے وہ فراش طلب ہے ہر ایک راہ حقیقت خوش نصیب تھا جو سلیقے سے مر گیا تو کیا کیا لگ ا سے کو زوم مسیحائی تھا امید ہم نے د کھائے زخم تو چہرہ اتر گیا تو

Ummeed Fazli

1 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Ummeed Fazli.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Ummeed Fazli's ghazal.