ghazalKuch Alfaaz

ناز کر ناز کہ یہ ناز جدا ہے سب سے میرا لہجہ مری آواز جدا ہے سب سے پوچھوں محبت کسے معلوم کہ حقیقت چشم حیا بات تو کرتی ہے انداز جدا ہے سب سے ج سے کو بھی مار دیا زندہ جاوید کیا حرف حق تیرا یہ اعجاز جدا ہے سب سے دیکھنا کون ہے کیا ا سے کو نہیں جان عزیز سر دربار اک آواز جدا ہے سب سے ٹوٹ جاتا ہے تو سر اور بھی لو دیتے ہیں دل جسے کہتے ہیں حقیقت ساز جدا ہے سب سے سوچ کر دام بچھانا ذرا اے موج ہوا مری انکار کی پرواز جدا ہے سب سے نشہ دہر و قیامت کا تو کیا ذکر امید حقیقت میرا سرو سر افراز جدا ہے سب سے

Related Ghazal

چاند ستارے تم پھول پرندے شام سویرہ ایک طرف ساری دنیا ا سے کا چربہ ا سے کا چہرہ ایک طرف حقیقت لڑکر بھی سو جائے تو ا سے کا ماتھا چوموں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے سے محبت ایک طرف ہے ا سے سے جھگڑا ایک طرف ج سے اجازت پر حقیقت انگلی رکھ دے اس کا کو حقیقت دلوانی ہے ا سے کی خوشیاں سب سے اول سستا مہنگا ایک طرف زخموں پر مرہم لگواو لیکن ا سے کے ہاتھوں سے چارسازی ایک طرف ہے ا سے کا چھونا ایک طرف ساری دنیا جو بھی بولے سب کچھ شور شرابا ہے سب کا کہنا ایک طرف ہے ا سے کا کہنا ایک طرف ا سے نے ساری دنیا مانگی ہے وہ ہے وہ نے اس کا کو مانگا ہے ا سے کے سپنے ایک طرف ہے میرا سپنا ایک طرف

Varun Anand

406 likes

یہ غم کیا دل کی عادت ہے نہیں تو کسی سے کچھ شکایت ہے نہیں تو ہے حقیقت اک خواب بے تعبیر ا سے کو بھلا دینے کی نیت ہے نہیں تو کسی کے بن کسی کی یاد کے بن جیے جانے کی ہمت ہے نہیں تو کسی صورت بھی دل لگتا نہیں ہاں تو کچھ دن سے یہ حالت ہے نہیں تو تری ا سے حال پر ہے سب کو حیرت تجھے بھی ا سے پہ حیرت ہے نہیں تو ہم آہنگی نہیں دنیا سے تیری تجھے ا سے پر ندامت ہے نہیں تو ہوا جو کچھ یہی مقسوم تھا کیا یہی ساری مقسوم ہے نہیں تو اذیت ناک اذیت ناک سے تجھ کو اماں پانے کی حسرت ہے نہیں تو تو رہتا ہے خیال و خواب ہے وہ ہے وہ گم تو ا سے کی وجہ فرصت ہے نہیں تو سبب جو ا سے جدائی کا بنا ہے حقیقت مجھ سے خوبصورت ہے نہیں تو

Jaun Elia

355 likes

تیری مشکل لگ چھپاؤں گا چلا جاؤں گا خوشی آنکھوں ہے وہ ہے وہ آؤں گا چلا جاؤں گا اپنی دہلیز پہ کچھ دیر پڑا رہنے دے چنو ہی ہوش ہے وہ ہے وہ لگاؤں گا چلا جاؤں گا خواب لینے کوئی آئی کہ لگ آئی کوئی ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو آواز رلاؤں گا چلا جاؤں گا چند یادیں مجھے بچوں کی طرح پیاری ہیں ان کو سینے سے لگاؤں گا چلا جاؤں گا مدتوں بعد ہے وہ ہے وہ آیا ہوں پرانی گھر ہے وہ ہے وہ ہے وہ خود کو جی بھر کے نیت شوق چلا جاؤں گا ا سے جزیرے ہے وہ ہے وہ زیادہ نہیں رہنا اب تو آجکل ناو بناؤں گا چلا جاؤں گا تہذیب کی طرح لوٹ کے آؤںگا حسن ہر طرف پھول کھلاؤں گا چلا جاؤں گا

Hasan Abbasi

235 likes

اتنا مجبور لگ کر بات بنانے لگ جائے ہم تری سر کی قسم جھوٹ ہی خانے لگ جائے اتنے سناٹے پیے مری سماعت نے کہ اب صرف آواز پہ چا ہوں تو نشانے لگ جائے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا گر اپنی جوانی کے سنا دوں قصے یہ جو افلاطون ہیں مری پاؤں دبانے لگ جائے

Mehshar Afridi

173 likes

ستم ڈھاتے ہوئے سوچا کروگے ہمارے ساتھ جاناں ایسا کروگے انگوٹھی تو مجھے لوٹا رہے ہوں انگوٹھی کے نشان کا کیا کروگے ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے اب تمنائیں بھی نہیں ہوں تو کیا ا سے بات پر جھگڑا کروگے میرا دامن تمہیں تھامے ہوئے ہوں میرا دامن تمہیں میلا کروگے بتاؤ وعدہ کر کے آوگے نا کے پچھلی بار کے جیسا کروگے حقیقت دلہن بن کے رخصت ہوں گئی ہے ک ہاں تک کار کا پیچھا کروگے مجھے ب سے یوں ہی جاناں سے پوچھنا تھا ا گر ہے وہ ہے وہ مر گیا تو تو کیا کروگے

Zubair Ali Tabish

140 likes

More from Ummeed Fazli

عقل نے ہم کو یوں بھٹکایا رہ لگ سکے دیوانے بھی آبا گرا کو ڈھونڈنے نکلے کھو بیٹھے ویرانے بھی چشم ساقی بھی نمہ ہے لو دیتے ہیں پیمانے بھی تش لگ لبی کے سیل تپاں سے بچ لگ سکے مے خانے بھی سنگ کہوں کو خوش خبری دو مجدہ نوید دو زنجیروں کو شہر خرد ہے وہ ہے وہ آ پہنچے ہیں ہم چنو دیوانے بھی ہم نے جب ج سے دوست کو بھی آئی لگ دکھایا ماضی کا حیران ہوں کر عک سے نے پوچھا آپ مجھے فنا فی ال عشق بھی جسم کی تش لگ سامانی سے جسم ہی نا آسودہ نہیں ٹوٹ گئے ا سے زد پر آ کر روح کے طعنہ بانے بھی اندیشے اور بزم جاناں دار کا ذکر اور اتنا سکوت دیوانوں کے بھی سے ہے وہ ہے وہ شاید آ پہنچے فرضانے بھی

Ummeed Fazli

0 likes

مقتل جاں سے کہ زندان سے کہ گھر سے نکلے ہم تو خوشبو کی طرح نکلے جدھر سے نکلے گر خوشگوار یہ نہیں ہے تو خوشگوار کیا ہے شہر جلتا رہا اور لوگ لگ گھر سے نکلے جانے حقیقت کون سی منزل تھی محبت کی ج ہاں مری آنسو بھی تری دیدہ تر سے نکلے در بدری کا ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ طع لگ لگ دے اے چشم غزال دیکھ حقیقت خواب کہ ج سے کے لیے گھر سے نکلے میرا رہزن ہوا کیا کیا لگ پشیمان کہ جب ا سے کے نامے مری اسباب سفر سے نکلے بر سر دوش رہے یا سر نیزہ یا رب طرز پرستش کا لگ سودا کبھی سر سے نکلے

Ummeed Fazli

0 likes

حقیقت خواب ہی صحیح سانحے نظر تو اب بھی ہے چیزیں والا شریک سفر تو اب بھی ہے زبان بریدا صحیح ہے وہ ہے وہ خزاں گزیدہ صحیح ہرا بھرا میرا زخم ہنر تو اب بھی ہے سنا تھا ہم نے کہ موسم بدل گئے ہیں م گر ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ سے فاصلہ ابر تر تو اب بھی ہے ہماری در بدری پر لگ جائیے کہ ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ شعور سایہ دیوار و در تو اب بھی ہے ہوں سے کے دور ہے وہ ہے وہ ممنون یاد یار ہیں ہم کہ یاد یار دلوں کی سپر تو اب بھی ہے اندھیرا ہیں ا گر معتبر تو پھروں اک بے وجہ کہانیوں کی طرح معتبر تو اب بھی ہے ہزار کھینچ لے سورج حصار ابر م گر کرن کرن پہ گرفت نظر تو اب بھی ہے سمندروں سے زمینوں کو خوف کیا کہ امید نمو پذیر زمین ہنر تو اب بھی ہے م گر یہ کون بدلتی ہوئی رتوں سے کہے شجر ہے وہ ہے وہ سایہ نہیں ہے شجر تو اب بھی ہے

Ummeed Fazli

0 likes

کب تک ا سے پیا سے کے صحرا ہے وہ ہے وہ جھل سے تے جائیں اب یہ بادل جو اٹھے ہیں تو برستے جائیں کون بتلائے تمہیں کیسے حقیقت موسم ہیں کہ جو مجھ سے ہی دور رہیں مجھ ہے وہ ہے وہ ہی گدا جائیں ہم سے آزاد مزاجوں پہ یہ افتاد ہے کیا چاہتے جائیں اسے خود کو ترستے جائیں ہاں یہ کیا لوگ یہ آباد ہوئے ہیں مجھ ہے وہ ہے وہ ہے وہ پیار کے لفظ لکھیں لہجے سے ڈستے جائیں آئی لگ دیکھوں تو اک چہرے کے بے رنگ نقوش ایک نادیدہ سی زنجیر ہے وہ ہے وہ کستے جائیں پوچھوں محبت کسے آیا ہے میسر امید ایسا لمحہ کہ جدھر صدیوں کے رستے جائیں

Ummeed Fazli

0 likes

اک ایسا مرحلہ رہ گزر بھی آتا ہے کوئی فصیل انا سے اتر بھی آتا ہے تری تلاش ہے وہ ہے وہ جانے ک ہاں بھٹک جاؤں سفر ہے وہ ہے وہ دشت بھی آتا ہے گھر بھی آتا ہے تلاش سائے کی لائی جو دشت سے تو کھلا عذاب صورت دیوار و در بھی آتا ہے سکون تو جب ہوں کہ ہے وہ ہے وہ چھاؤں عزیز تر ہے وہ ہے وہ دیکھوں نظر تو ویسے گلی کا شجر بھی آتا ہے بدن کی خاک سمیٹے ہوئے ہوں کیا لوگوں سفر ہے وہ ہے وہ لمحہ ترک سفر بھی آتا ہے دلوں کو زخم لگ دو حرف نا ملائم سے یہ تیر حقیقت ہے کہ جو لوٹ کر بھی آتا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ شہر ہے وہ ہے وہ کسے الزام نا شناسی دوں یہ حرف خود مری کردار پر بھی آتا ہے نظر یہ ک سے سے ملی ناگ ہاں کہ یاد آیا اسی گلی ہے وہ ہے وہ کہی میرا گھر بھی آتا ہے ہوا کے رکھ پہ نظر طائران خوش پرواز قف سے کا سایہ پ سے بال و پر بھی آتا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ حرف حرف ہے وہ ہے وہ اترا ہوں روشنی کی طرح سو کائنات کا چہرہ نظر بھی آتا ہے لہو سے حرف تراشیں جو مری طرح امید انہی کے حصے ہے وہ ہے وہ زخم ہنر بھی آتا ہے

Ummeed Fazli

0 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Ummeed Fazli.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Ummeed Fazli's ghazal.