ghazalKuch Alfaaz

bahar ka dhan aata jaata asl khazana ghar men hai har dhuup men jo mujhe saaya de vo sachcha saaya ghar men hai patal ke dukh vo kya janen jo sath pe hain milne vaale hain ek havala dost mire aur ek havala ghar men hai miri umr ke ik ik lamhe ko main ne qaid kiya hai lafzon men jo haara huun ya jiita huun vo sab sarmaya ghar men hai tu nanha-munna ek diya main ek samundar andhiyara tu jalte jalte bujhne laga aur phir bhi andhera ghar men hai kya svang bhare roti ke liye izzat ke liye shohrat ke liye suno shaam hui ab ghar ko chalo koi shakhs akela ghar men hai ik hijr-zada babul-pyari tire jagte bachchon se haari ai sha'ir kis duniya men hai tu tiri tanha duniya ghar men hai duniya men khapae saal kai akhir men khula ahval yahi vo ghar ka ho ya bahar ka har dukh ka mudava ghar men hai bahar ka dhan aata jata asl khazana ghar mein hai har dhup mein jo mujhe saya de wo sachcha saya ghar mein hai patal ke dukh wo kya jaanen jo sath pe hain milne wale hain ek hawala dost mere aur ek hawala ghar mein hai meri umr ke ek ek lamhe ko main ne qaid kiya hai lafzon mein jo haara hun ya jita hun wo sab sarmaya ghar mein hai tu nanha-munna ek diya main ek samundar andhiyara tu jalte jalte bujhne laga aur phir bhi andhera ghar mein hai kya swang bhare roti ke liye izzat ke liye shohrat ke liye suno sham hui ab ghar ko chalo koi shakhs akela ghar mein hai ek hijr-zada babul-pyari tere jagte bachchon se haari ai sha'ir kis duniya mein hai tu teri tanha duniya ghar mein hai duniya mein khapae sal kai aakhir mein khula ahwal yahi wo ghar ka ho ya bahar ka har dukh ka mudawa ghar mein hai

Related Ghazal

اصولوں پر ج ہاں آنچ آئی ٹکرانا ضروری ہے جو زندہ ہوں تو پھروں زندہ نظر آنا ضروری ہے نئی عمروں کی خودمختاریوں کو کون سمجھائے ک ہاں سے بچ کے چلنا ہے ک ہاں جانا ضروری ہے تھکے ہارے پرندے جب بسیرے کے لیے لوٹیں سلیقہ مند شاخوں کا لچک جانا ضروری ہے بے حد بےباک آنکھوں ہے وہ ہے وہ تعلق ٹک نہیں پاتا محبت ہے وہ ہے وہ کشش رکھنے کو شرمانا ضروری ہے سلیقہ ہی نہیں شاید اسے محسو سے کرنے کا جو کہتا ہے خدا ہے تو نظر آنا ضروری ہے مری ہونٹوں پہ اپنی پیا سے رکھ دو اور پھروں سوچو کہ ا سے کے بعد بھی دنیا ہے وہ ہے وہ کچھ پانا ضروری ہے

Waseem Barelvi

107 likes

آئینے آنکھ ہے وہ ہے وہ چبھتے تھے بستر سے بدن کترا تا تھا ایک یاد بسر کرتی تھی مجھے ہے وہ ہے وہ سان سے نہیں لے پاتا تھا ایک شخص کے ہاتھ ہے وہ ہے وہ تھا سب کچھ میرا کھلنا بھی مرجھانا بھی روتا تھا تو رات اجڑ جاتی ہنستا تھا تو دن بن جاتا تھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ رب سے رابطے ہے وہ ہے وہ رہتا ممکن ہے کی ا سے سے رابطہ ہوں مجھے ہاتھ اٹھانا پڑتے تھے تب جا کر حقیقت فون اٹھاتا تھا مجھے آج بھی یاد ہے بچپن ہے وہ ہے وہ کبھی ا سے پر نظر ا گر پڑتی مری گدا سے پھول برستے تھے مری تختی پہ دل بن جاتا تھا ہم ایک زندان ہے وہ ہے وہ زندہ تھے ہم ایک زنجیر ہے وہ ہے وہ بڑھے ہوئے ایک دوسرے کو دیکھ کر ہم کبھی زار تھے تو رونا آتا تھا حقیقت جسم دلائیں نہیں ہوں پاتا تھا ان آنکھوں سے مجرم ٹھہراتا تھا اپنا کہنے کو تو گھر ٹھہراتا تھا

Tehzeeb Hafi

129 likes

تو کیا یہ آخری خواہش ہے اچھا بھول جاؤں جہاں بھی جو بھی ہے تیرے علاوہ بھول جاؤں تو کیا یہ دوسرا ہی عشق اصلی عشق سمجھوں تو پہلا تجربے کی دین ہے وہ ہے وہ تھا بھول جاؤں تو کیا اتنا ہی آساں ہے کسی کو بھول جانا کہ ب سے باتوں ہی باتوں ہے وہ ہے وہ بھلاتا بھول جاؤں کبھی کہتا ہوں اس کا کو یاد رکھنا ٹھیک ہوگا مگر پھروں سوچتا ہوں فائدہ کیا بھول جاؤں یہ کوئی قتل تھوڑی ہے کہ بات آئی گئی ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ اور اپنا نظر انداز ہونا بھول جاؤں ہے اتنی جزئیات ا سے سانحے کی پوچھیے مت ہے وہ ہے وہ ہے وہ کیا کیا یاد رکھوں اور کیا کیا بھول جاؤں کوئی کب تک کسی کی بے وفائی یاد رکھے بہت ممکن ہے ہے وہ ہے وہ بھی رفتہ رفتہ بھول جاؤں تو کیا یہ کہ کے خود کو مطمئن کر لوگے جواد کہ حقیقت ہے بھی اسی جائیں گے لہذا بھول جاؤں

Jawwad Sheikh

42 likes

سارے کا سارا تو میرا بھی نہیں اور حقیقت بے وجہ بےوفا بھی نہیں غور سے دیکھنے پہ بولی ہے شا گرا سے پہلے سوچنا بھی نہیں اچھی صحت کا ہے میرا محبوب دھوکے دیتے ہوئے تھکا بھی نہیں جتنا برباد کر دیا تو نے اتنا آباد تو ہے وہ ہے وہ تھا بھی نہیں مجھ کو ب سے اتنا دین آتا ہے ج ہاں ہے وہ ہے وہ خود نہیں خدا بھی نہیں

Kushal Dauneria

43 likes

مہینوں بعد دفترون آ رہے ہیں ہم ایک صدمے سے باہر آ رہے ہیں تیری با ہوں سے دل اکتا گیا تو ہیں اب ا سے جھولے ہے وہ ہے وہ چکر آ رہے ہیں ک ہاں سویا ہے چوکیدار میرا یہ کیسے لوگ اندر آ رہے ہیں سمندر کر چکا تسلیم ہم کو خزانے خود ہی اوپر آ رہے ہیں یہی ایک دن بچا تھا دیکھنے کو اسے ب سے ہے وہ ہے وہ بٹھا کر آ رہے ہیں

Tehzeeb Hafi

116 likes

More from Obaidullah Aleem

عزیز اتنا ہی رکھو کہ جی سنبھل جائے اب ا سے دودمان بھی لگ چاہو کہ دم نکل جائے ملے ہیں یوں تو بے حد آؤ اب ملیں یوں بھی کہ روح گرمی انف سے سے پگھل جائے محبتوں ہے وہ ہے وہ غضب ہے دلوں کو دھڑکا سا کہ جانے کون ک ہاں راستہ بدل جائے زہے حقیقت دل جو تمنا تازہ تر ہے وہ ہے وہ رہے خوشا حقیقت عمر جو خوابوں ہی ہے وہ ہے وہ بہل جائے ہے وہ ہے وہ ہے وہ حقیقت چراغ سر رہ گزاری دنیا ہوں جو اپنی ذات کی تنہائیوں ہے وہ ہے وہ جل جائے ہر ایک لہجہ یہی آرزو یہی حسرت جو آگ دل ہے وہ ہے وہ ہے حقیقت شعر ہے وہ ہے وہ بھی ڈھل جائے

Obaidullah Aleem

1 likes

کوئی دھن ہوں ہے وہ ہے وہ تری گیت ہی گائے جاؤں درد سینے ہے وہ ہے وہ اٹھے شور مچائے جاؤں خواب بن کر تو برستا رہے شبنم شبنم اور بس ہے وہ ہے وہ اسی موسم ہے وہ ہے وہ نہائے جاؤں تیرے ہی رنگ اترتے چلے جائیں مجھ ہے وہ ہے وہ ہے وہ خود کو لکھوں تری تصویر بنائے جاؤں جس کو ملنا نہیں پھروں اس کا سے محبت کیسی سوچتا جاؤں مگر دل ہے وہ ہے وہ اتاریں جاؤں اب تو اس کا کی ہوئی جس پہ مجھے پیار آتا ہے زندگی آ تجھے سینے سے لگائے جاؤں یہی چہرے مری ہونے کی گواہی دیں گے ہر نئے حرف ہے وہ ہے وہ جاں اپنی سمائے جاؤں جان تو چیز ہے کیا رشتہ جاں سے آگے کوئی آواز دیے جائے ہے وہ ہے وہ آئی جاؤں شاید اس کا راہ پہ کچھ اور بھی راہی آئیں دھوپ ہے وہ ہے وہ چلتا رہوں سائے بچھائے جاؤں اہل دل ہوں گے تو بھلاکر سخن کو میرے بزم ہے وہ ہے وہ آ ہی گیا تو ہوں تو سنائے جاؤں

Obaidullah Aleem

1 likes

جو اس کا نے کیا اسے صلہ دے مولا مجھے دل پامال کی جزا دے یا میرے دیے کی لو بڑھا دے یا رات کو صبح سے ملا دے سچ ہوں تو مجھے فدا بنا دے جھوٹا ہوں تو نقش سب مٹا دے یہ قوم عجیب ہوں گئی ہے اس کا کا قوم کو خو انبیا دے اترےگا نہ کوئی آسماں سے اک آس ہے وہ ہے وہ دل مگر صدا دے بچوں کی طرح یہ لفظ میرے معبود نہ بولنا سکھا دے دکھ دہر کے اپنے نام لکھوں ہر دکھ مجھے ذات کا مزہ دے اک میرا وجود سن رہا ہے الہام جو رات کی ہوا دے مجھ سے میرا کوئی ملنے والا بچھڑا تو نہیں مگر ملا دے چہرہ مجھے اپنا دیکھنے کو اب دست ہوس ہے وہ ہے وہ آئینہ دے جس بے وجہ نے عمر ہجر کاٹی اس کا کا بے وجہ کو ایک رات کیا دے دکھتا ہے بدن کہ پھروں ملے حقیقت مل جائے تو روح کو دکھا دے کیا چیز ہے خواہش بدن بھی ہر بار نیا ہی ذائقہ دے چھونے ہے وہ ہے وہ یہ ڈر کہ مر نہ جاؤں چھو لوں تو حقیقت زندگی سوا دے

Obaidullah Aleem

1 likes

خیال و خواب ہوئی ہیں محبتیں کیسی لہو ہے وہ ہے وہ ناچ رہی ہیں یہ وحشتیں کیسی لگ شب کو چاند ہی اچھا لگ دن کو مہر اچھا یہ ہم پہ بیت رہی ہیں قیامتیں کیسی حقیقت ساتھ تھا تو خدا بھی تھا مہرباں کیا کیا بچھڑ گیا تو تو ہوئی ہیں عداوتیں کیسی عذاب جن کا تبسم ثواب جن کی نگاہ کھنچی ہوئی ہیں پ سے جاں یہ صورتیں کیسی ہوا کے دوست پہ رکھے ہوئے چراغ ہیں ہم جو بجھ گئے تو ہوا سے شکایتیں کیسی جو بے خبر کوئی گزرا تو یہ صدا دے دی ہے وہ ہے وہ ہے وہ سنگ راہ ہوں مجھ پر عنایتیں کیسی نہیں کہ حسن ہی نیرنگیوں ہے وہ ہے وہ طاق نہیں جنوں بھی کھیل رہا ہے سیاستیں کیسی لگ صاحبان جنوں ہیں لگ اہل کشف و غصہ ہمارے عہد ہے وہ ہے وہ آئیں کسافتیں کیسی جو ابر ہے وہی اب پل دو پل لاتا ہے فضا یہ ہوں تو دلوں ہے وہ ہے وہ نزاکتیں کیسی یہ دور بے ہنراں ہے بچا رکھو خود کو ی ہاں صداقتیں کیسی کراماتیں کیسی

Obaidullah Aleem

0 likes

ہجر کرتے یا کوئی وصل گزارا کرتے ہم بہر حال بسر خواب تمہارا کرتے ایک ایسی بھی گھڑی عشق ہے وہ ہے وہ آئی تھی کہ ہم خاک کو ہاتھ لگاتے تو ستارہ کرتے اب تو مل جاؤ ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں کہ تمہاری خاطر اتنی دور آ گئے دنیا سے کنارہ کرتے محو آرائش رکھ ہے حقیقت خوشگوار سر بام آنکھ ا گر آئی لگ ہوتی تو نظارہ کرتے ایک چہرے ہے وہ ہے وہ تو ممکن نہیں اتنے چہرے ک سے سے کرتے جو کوئی عشق دوبارہ کرتے جب ہے یہ خا لگ دل آپ کی خلوت کے لیے پھروں کوئی آئی ی ہاں کیسے بے شرط کرتے کون رکھتا ہے اندھیرے ہے وہ ہے وہ دیا آنکھ ہے وہ ہے وہ خواب تیری جانب ہی تری لوگ اشارہ کرتے ظرف آئی لگ ک ہاں اور ترا حسن ک ہاں ہم تری چہرے سے آئی لگ سنوارا کرتے

Obaidullah Aleem

1 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Obaidullah Aleem.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Obaidullah Aleem's ghazal.