بڑا ہے دکھ سو حاصل ہے یہ آسانی مجھے کہ ہمت ہی نہیں کچھ یاد کرنے کی مجھے چلا آتا ہے چپکے سے رضائی ہے وہ ہے وہ مری بری لگتی ہے سورج کی یہ بےباکی مجھے چھپاتا پھروں رہا ہوں خود کو ہے وہ ہے وہ ک سے سے ی ہاں ا گر پہچاننے والا نہیں کوئی مجھے گزر جائے گی ساری زندگی امید ہے وہ ہے وہ ہے وہ لگ جینے دےگی یہ جینے کی تیاری مجھے ا گر کم بولتا ہوں ہے وہ ہے وہ تو کیوں بےچین ہوں تمہیں سے تو لگی ہے چپ کی بیماری مجھے اچانک کچھ ہوا ہوتا تو کوئی بات تھی لگ جانے کیوں ہوئی ا سے درجہ حیرانی مجھے
Related Ghazal
تمہیں ب سے یہ بتانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے کیا چھپانا چاہتا ہوں کبھی مجھ سے بھی کوئی جھوٹ بولو ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہاں ہے وہ ہے وہ ہاں ملانا چاہتا ہوں یہ جو کھڑکی ہے نقشے ہے وہ ہے وہ تمہارے ی ہاں ہے وہ ہے وہ در بنانا چاہتا ہوں اداکاری بے حد دکھ دے رہی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ سچ مچ مسکرانا چاہتا ہوں پروں ہے وہ ہے وہ تیر ہے پنجوں ہے وہ ہے وہ تنکے ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ چڑیا اڑانا چاہتا ہوں لیے بیٹھا ہوں گھنگرو پھول اندھیرا ترا ہنسنا بنانا چاہتا ہوں بیگا لگ غم عشق کی جاناں کو مبارک ہے وہ ہے وہ ہے وہ ب سے خا لگ کمانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سارے شہر کی بیساخیوں کو تری در پر نرم گوئی چاہتا ہوں مجھے جاناں سے اندھیرا ہی پڑےگا ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں کو یاد آنا چاہتا ہوں
Fahmi Badayuni
249 likes
زبان تو کھول نظر تو ملا جواب تو دے ہے وہ ہے وہ ہے وہ کتنی بار لٹا ہوں مجھے حساب تو دے تری بدن کی ودھی ہے وہ ہے وہ ہے اتار لکھاوت ہے وہ ہے وہ ہے وہ تجھے کیسے چڑھاو مجھے کتاب تو دے تیرا سوال ہے ساقی کہ زندگی کیا ہے جواب دیتا ہوں پہلے مجھے شراب تو دے
Rahat Indori
190 likes
ستم ڈھاتے ہوئے سوچا کروگے ہمارے ساتھ جاناں ایسا کروگے انگوٹھی تو مجھے لوٹا رہے ہوں انگوٹھی کے نشان کا کیا کروگے ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے اب تمنائیں بھی نہیں ہوں تو کیا ا سے بات پر جھگڑا کروگے میرا دامن تمہیں تھامے ہوئے ہوں میرا دامن تمہیں میلا کروگے بتاؤ وعدہ کر کے آوگے نا کے پچھلی بار کے جیسا کروگے حقیقت دلہن بن کے رخصت ہوں گئی ہے ک ہاں تک کار کا پیچھا کروگے مجھے ب سے یوں ہی جاناں سے پوچھنا تھا ا گر ہے وہ ہے وہ مر گیا تو تو کیا کروگے
Zubair Ali Tabish
140 likes
حقیقت تو اچھا ہے غزل تیرا سہارا ہے مجھے ور لگ فکروں نے تو ب سے گھیر کے مارا ہے مجھے ج سے کی تصویر ہے وہ ہے وہ کاغذ پہ بنا بھی لگ سکا ا سے نے مہن گرا سے ہتھیلی پہ اتارا ہے مجھے غیر کے ہاتھ سے مرہم مجھے جھمکے نہیں جاناں م گر زخم بھی دے دو تو بے شرط ہے مجھے
Abrar Kashif
54 likes
ہے وہ ہے وہ بھی جاناں جیسا ہوں اپنے سے جدا مت سمجھو آدمی ہی مجھے رہنے دو خدا مت سمجھو یہ جو ہے وہ ہے وہ ہوش ہے وہ ہے وہ رہتا نہیں جاناں سے مل کر یہ میرا عشق ہے جاناں اس کا کو نشہ مت سمجھو را سے آتا نہیں سب کو یہ محبت کا مرض مری بیماری کو جاناں اپنی دوا مت سمجھو
Shakeel Azmi
51 likes
More from Shariq Kaifi
لوگ سہ لیتے تھے ہنسکر کبھی بے زاری بھی اب تو مشکوک ہوئی اپنی ملن ساری بھی وار کچھ خالی گئے مری تو پھروں آ ہی گئی اپنے دشمن کو دعا دینے کی ہوشیاری بھی عمر بھر ک سے نے بھلا غور سے دیکھا تھا مجھے سمے کم ہوں تو سجا دیتی ہے بیماری بھی ک سے طرح آئی ہیں ا سے پہلی ملاقات تلک اور مکمل ہے جدا ہونے کی تیاری بھی اوب جاتا ہوں ذہانت کی نمائش سے تو پھروں لطف دیتا ہے یہ لہجہ مجھے بازاری بھی عمر بڑھتی ہے م گر ہم وہیں ٹھہرے ہوئے ہیں ٹھوکریں خائی تو کچھ آئی سمجھداری بھی اب جو کردار مجھے کرنا ہے مشکل ہے بے حد مست ہونے کا دکھاوا بھی ہے سر بھاری بھی
Shariq Kaifi
3 likes
گزر رہا ہے حقیقت لمحہ تو یاد آیا ہے ا سے ایک پل سے کبھی کتنا خوف کھایا ہے اسی نگاہ نے آنکھوں کو کر دیا پتھر اسی نگاہ ہے وہ ہے وہ سب کچھ نظر بھی آیا ہے یہ طنز یوں بھی ہے اک امتحاں مری لیے تری لبوں سے کوئی اور مسکرایا ہے بہے رقیب کے آنسو بھی مری گالوں پر یہ سانحہ بھی محبت ہے وہ ہے وہ پیش آیا ہے یہ کوئی اور ہے تیری طرف سرکتا ہوا اندھیرا ہوتے ہی جو مجھ ہے وہ ہے وہ آ سمایا ہے ہمارے عشق سے مرعوب ا سے دودمان بھی لگ ہوں یہ خوں تو ایک اداکار نے بہایا ہے ی ہاں تو ریت ہے پتھر ہیں اور کچھ بھی نہیں حقیقت کیا دکھانے مجھے اتنی دور لایا ہے بے حد سے بوجھ ہیں دل پر یہ کوئی ایسا نہیں یہ دکھ کسی نے ہمارے لیے اٹھایا ہے
Shariq Kaifi
4 likes
کم سے کم دنیا سے اتنا میرا رشتہ ہوں جائے کوئی میرا بھی برا چاہنے والا ہوں جائے اسی مجبوری ہے وہ ہے وہ یہ بھیڑ اکٹھا ہے ی ہاں جو تری ساتھ نہیں آئی حقیقت تنہا ہوں جائے شکر ا سے کا ادا کرنے کا خیال آئی کسے ابر جب اتنا شوالہ ہوں کہ اندھیرا ہوں جائے ہاں نہیں چاہیے ا سے درجہ محبت تیری کہ میرا سچ بھی تری جھوٹ کا حصہ ہوں جائے بند آنکھوں نے سرابوں سے بچایا ہے مجھے آنکھ والا ہوں تو ا سے کھیل ہے وہ ہے وہ اندھا ہوں جائے ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی اللہ ری ہوں تری بات سمجھ سکتا ہوں یہ کہ مٹ جانے کے ڈر سے کوئی دریا ہوں جائے ب سے اسی بات پہ آئینوں سے بگڑی مری چاہتا تھا میرا اپنا کوئی چہرہ ہوں جائے پھری ہے وہ ہے وہ یہی رنگ تو دیتے ہیں مزہ کوئی روئے تو ہنسی سے کوئی دوہرا ہوں جائے
Shariq Kaifi
0 likes
کچھ قدم اور مجھے جسم کو ڈھونا ہے ی ہاں ساتھ لایا ہوں اسی کو جسے کھونا ہے ی ہاں بھیڑ چھٹ جائے گی پل ہے وہ ہے وہ یہ خبر اڑتے ہی اب کوئی اور تماشا نہیں ہونا ہے ی ہاں یہ بھنور کون سا اندھیرا مجھے دے سکتا ہے بات یہ ہے کہ مجھے خود کو ڈبونا ہے ی ہاں کیا ملا دشت ہے وہ ہے وہ آ کر تری دیوانے کو گھر کے جیسا ہی ا گر جاگنا سونا ہے ی ہاں کچھ بھی ہوں جائے لگ مانوں گا م گر جسم کی بات آج مجرم تو کسی اور کو ہونا ہے ی ہاں یوں بھی درکار ہے مجھ کو کسی بینائی کا لم سے اب کسی اور کا ہونا میرا ہونا ہے ی ہاں خوشی پلکوں پہ سجا لوں ہے وہ ہے وہ ابھی سے شریک شب ہے باقی تو ترا ذکر بھی ہونا ہے ی ہاں
Shariq Kaifi
1 likes
سیانے تھے م گر اتنے نہیں ہم خموشی کی زبان سمجھے نہیں ہم انا کی بات اب سننا پڑےگی حقیقت کیا گنگنائے گا جو روٹھے نہیں ہم ادھوری لگ رہی ہے جیت ا سے کو اسے ہارے ہوئے لگتے نہیں ہم ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو روک لو اٹھنے سے پہلے پلٹ کر دیکھنے والے نہیں ہم چیزیں کا تری صدمہ تو ہوگا م گر ا سے خوف کو جیتے نہیں ہم تری رہتے تو کیا ہوتے کسی کے تجھے کھو کر بھی دنیا کے نہیں ہم یہ منزل خواب ہی رہتی ہمیشہ ا گر گھر لوٹ کر آتے نہیں ہم کبھی اپائے تو ا سے پہلو سے کوئی کسی کی بات کیوں سنتے نہیں ہم ابھی تک مشوروں پر جی رہے ہیں کسی صورت بڑے ہوتے نہیں ہم
Shariq Kaifi
4 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Shariq Kaifi.
Similar Moods
More moods that pair well with Shariq Kaifi's ghazal.







