بڑے بزدل ہیں لیکن پھروں بھی ہمت کر رہے ہیں ہم تمہارے شہر ہے وہ ہے وہ رہ کر محبت کر رہے ہیں ہم ابھی تک ٹھیک سے آئی نہیں ہے دھن محبت کی گزشتہ سات جنموں سے ریاضت کر رہے ہیں ہم تمہیں کیسا لگے گا گر کسی پنجرے ہے وہ ہے وہ رکھ کر کے کوئی جاناں سے کہے تیری حفاظت کر رہے ہیں ہم وگرنہ جس کو چھوڑا ہے اسے شہر جان جاں نہیں دیکھا غنیمت جان کے تجھ سے شکایت کر رہے ہیں ہم میرے رونے سے خائف ہیں مگر کیا اس کا سے واقف ہیں کہ یہ ماتم بھلا کہ سے کی بدولت کر رہے ہیں ہم
Related Ghazal
ا سے کے ہاتھوں ہے وہ ہے وہ جو خنجر ہے زیادہ تیز ہے اور پھروں بچپن سے ہی ا سے کا نشا لگ تیز ہے جب کبھی ا سے پار جانے کا خیال آتا مجھے کوئی آہستہ سے کہتا تھا کی دریا تیز ہے آج ملنا تھا بچھڑ جانے کی نیت سے ہمیں آج بھی حقیقت دیر سے پہنچا ہے کتنا تیز ہے اپنا سب کچھ ہار کے لوٹ آئی ہوں لگ مری پا سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تمہیں کہتا بھی رہتا کی دنیا تیز ہے آج ا سے کے گال چومے ہیں تو اندازہ ہوا چائے اچھی ہے م گر تھوڑا سا میٹھا تیز ہے
Tehzeeb Hafi
220 likes
بعد ہے وہ ہے وہ مجھ سے نا کہنا گھر پلٹنا ٹھیک ہے ویسے سننے ہے وہ ہے وہ یہی آیا ہے رستہ ٹھیک ہے شاخ سے پتہ گرے بارش گردشیں بادل چھٹے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہی تو سب کچھ غلط کرتا ہوں اچھا ٹھیک ہے ذہن تک تسلیم کر لیتا ہے ا سے کی برتری آنکھ تک تصدیق کر دیتی ہے بندہ ٹھیک ہے ایک تیری آواز سننے کے لیے زندہ ہے ہم تو ہی جب خاموش ہوں جائے تو پھروں کیا ٹھیک ہے
Tehzeeb Hafi
182 likes
سینا کچا رہا ہوں تو کیا چپ رہے کوئی کیوں چیخ چیخ کر لگ گلہ سروہا لے کوئی ثابت ہوا سکون دل و جاں کہی نہیں رشتوں ہے وہ ہے وہ ڈھونڈتا ہے تو ڈھونڈا کرے کوئی ترک تعلقات کوئی مسئلہ نہیں یہ تو حقیقت راستہ ہے کہ ب سے چل پڑے کوئی دیوار جانتا تھا جسے ہے وہ ہے وہ حقیقت دھول تھی اب مجھ کو اعتماد کی دعوت لگ دے کوئی ہے وہ ہے وہ ہے وہ خود یہ چاہتا ہوں کہ حالات ہوں خراب مری خلاف زہر اگلتا پھیرے کوئی اے بے وجہ اب تو مجھ کو سبھی کچھ قبول ہے یہ بھی قبول ہے کہ تجھے چھین لے کوئی ہاں ٹھیک ہے ہے وہ ہے وہ اپنی انا کا مریض ہوں آخر مری مزاج ہے وہ ہے وہ کیوں دخل دے کوئی اک بے وجہ کر رہا ہے ابھی تک وفا کا ذکر کاش ا سے زبان دراز کا منا نوچ لے کوئی
Jaun Elia
77 likes
تماشا دیر و حرم دیکھتے ہیں تجھے ہر بہانے سے ہم دیکھتے ہیں ہماری طرف اب حقیقت کم دیکھتے ہیں حقیقت نظریں نہیں جن کو ہم دیکھتے ہیں زمانے کے کیا کیا ستم دیکھتے ہیں ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ جانتے ہیں جو ہم دیکھتے ہیں
Dagh Dehlvi
84 likes
بیٹھے ہیں چین سے کہی جانا تو ہے نہیں ہم بے گھروں کا کوئی ہری تو ہے نہیں جاناں بھی ہوں بیتے سمے کے مانند ہوں بہو جاناں نے بھی یاد آنا ہے آنا تو ہے نہیں عہد وفا سے ک سے لیے خائف ہوں مری جان کر لو کہ جاناں نے عہد نبھانا تو ہے نہیں حقیقت جو ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ عزیز ہے کیسا ہے کون ہے کیوں پوچھتے ہوں ہم نے بتانا تو ہے نہیں دنیا ہم اہل عشق پہ کیوں پھینکتی ہے جال ہم نے تری فریب ہے وہ ہے وہ آنا تو ہے نہیں حقیقت عشق تو کرےگا م گر دیکھ بھال کے فار سے حقیقت تری جیسا دیوا لگ تو ہے نہیں
Rehman Faris
196 likes
More from Vashu Pandey
حالات ا سے دودمان لگ تھے دشوار ٹھیک تھے چارگری سے قبل یہ بیمار ٹھیک تھے بیکار ہوں گئے ہوئے ہیں جب سے کار گر ا سے سے تو مری جان ہم بیکار ٹھیک تھے ا سے پار لگ رہا تھا کہ ا سے پار موج ہے ا سے پار سوچتے ہیں کہ ا سے پار ٹھیک تھے تھے یوں بھی اپنے چاہنے والے بے حد کہ ہم انسان تو چنو بھی تھے فنکار ٹھیک تھے
Vashu Pandey
5 likes
ہم کو مشکل ہے وہ ہے وہ رہنے دے چارا گر آسانی سے مر غلطیاں سمجھا کر اول اول ہم بھی تری چنو تھے ہم بھی خوش ہوتے تھے دیکھ کے خوش منظر نقل مکانی شوق نہیں مجبوری تھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ گھر سے لگ چلتا کیسے چلتا گھر ان کو ب سے تنقید ہی کرنی ہوتی ہے ان کو کیا معلوم غزل کے پ سے منظر
Vashu Pandey
4 likes
یوں بھی کٹنے لگا ہوں اب ہے وہ ہے وہ غیر مناسب یاروں سے بارش وفا نہیں کر سکتی مٹی کی دیواروں سے دکھے ہوئے لوگوں کی پھوڑی رگ کو چھونا ٹھیک نہیں سمے نہیں پوچھا کرتے ہیں یاروں سمے کے ماروں سے عاشق ہیں تو عاشق والے جلوے بھی دکھلائیں آپ کپڑے پھاڑیں خاک اڑائیں سر ماریں دیواروں سے اور چمن گر اپنا ہے تو ا سے سب کچھ اپنا ہے بے شک پھول پہ پھول لوٹائیں بچھاؤ لگ کھائیں خارو سے
Vashu Pandey
5 likes
حقیقت در بنے یا راہ کی دیوار خوش رہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ بس یہ چاہتا ہوں میرا یار خوش رہے ایسا کوئی نہیں کہ جسے کوئی غم نہیں ایسا کوئی نہیں جو لگاتار خوش رہے مہمان رہ گیا تو ہے یہ بس چند روز کا کوشش یہ جون ایلیا کہ بیمار خوش رہے
Vashu Pandey
9 likes
उम्र भर यूँँ ही जलते रहे रौशनी भी नहीं कर सके गाँव करना था रौशन हमें इक गली भी नहीं कर सके हम को इतना डराया गया मेरे मौला तेरे नाम से तेरे बंदे कभी ठीक से बंदगी भी नहीं कर सके बेख़ुदी में उठे थे क़दम आ फँसे ऐसे रस्ते पे हम मंज़िलें भी नहीं मिल सकी वापसी भी नहीं कर सके छोटे घर के बड़े थे सो हम ज़िम्मेदारी निभाते रहे आशिक़ी तो बड़ी बात थी ख़ुद-कुशी भी नहीं कर सके काम दो ही थे करने हमें आशिक़ी या तो फिर शा'इरी आशिक़ी भी नहीं कर सके शा'इरी भी नहीं कर सके
Vashu Pandey
6 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Vashu Pandey.
Similar Moods
More moods that pair well with Vashu Pandey's ghazal.







