ghazalKuch Alfaaz

حالات ا سے دودمان لگ تھے دشوار ٹھیک تھے چارگری سے قبل یہ بیمار ٹھیک تھے بیکار ہوں گئے ہوئے ہیں جب سے کار گر ا سے سے تو مری جان ہم بیکار ٹھیک تھے ا سے پار لگ رہا تھا کہ ا سے پار موج ہے ا سے پار سوچتے ہیں کہ ا سے پار ٹھیک تھے تھے یوں بھی اپنے چاہنے والے بے حد کہ ہم انسان تو چنو بھی تھے فنکار ٹھیک تھے

Related Ghazal

ہے وہ ہے وہ نے تو ب سے مزاق ہے وہ ہے وہ پوچھا خراب ہے حقیقت پیر ہاتھ دیکھ کے بولا خراب ہے ہر دن اسے دکھایا کہ کتنے غنیم ہیں ہر رات ا سے کے بارے ہے وہ ہے وہ سوچا خراب ہے یہ عشق ہوں چکا ہے ترپ چال تاش کی آگے غلام کے میرا اکا خراب ہے آزاد لڑ کیوں سے بھلی قید عورتیں زار کہ جھیل ٹھیک ہے دریا خراب ہے ہم ج سے خدا کی آ سے ہے وہ ہے وہ بیٹھے ہیں رات دن حقیقت جا چکا ہے بول کے دنیا خراب ہے زیادہ کسی کی موت پہ رونا نہیں صحیح اور جنم دن پہ شور شرابا خراب ہے آدھا بھی ا سے کے جتنا ہے وہ ہے وہ روشن نہیں ہوا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ج سے دیے کو بول رہا تھا خراب ہے

Kushal Dauneria

35 likes

زندگی تو نے سلوک ایسے کیے ساتھ مری حقیقت تو اچھا ہے کہ باندھے ہوئے ہیں ہاتھ مری روز ہے وہ ہے وہ لوٹتا ہوں خود ہے وہ ہے وہ ندامت کے ساتھ روز مجھ کو کہی پھینک آتے ہیں جذبات مری مجھ کو سنیے نظر انداز لگ کیجے صاحب مری حالات سے اچھے ہے خیالات مری

Ismail Raaz

15 likes

شاہسازی ہے وہ ہے وہ رعایت بھی نہیں کرتے ہوں سامنے آکے حکومت بھی نہیں کرتے ہوں جاناں سے کیا بات کرے کون ک ہاں قتل ہوا جاناں تو ا سے ظلم پہ حیرت بھی نہیں کرتے ہوں اب مری حال پہ کیوں جاناں کو پریشانی ہے اب تو جاناں مجھ سے محبت بھی نہیں کرتے ہوں پیار کرنے کی سند کیسے تمہیں جاری کروں جاناں ابھی ٹھیک سے خوبصورت بھی نہیں کرتے ہوں مشورے ہن سے کے دیا کرتے تھے دیوانوں کو کیا ہوا اب تو نصیحت بھی نہیں کرتے ہوں

Ali Zaryoun

39 likes

سینا کچا رہا ہوں تو کیا چپ رہے کوئی کیوں چیخ چیخ کر لگ گلہ سروہا لے کوئی ثابت ہوا سکون دل و جاں کہی نہیں رشتوں ہے وہ ہے وہ ڈھونڈتا ہے تو ڈھونڈا کرے کوئی ترک تعلقات کوئی مسئلہ نہیں یہ تو حقیقت راستہ ہے کہ ب سے چل پڑے کوئی دیوار جانتا تھا جسے ہے وہ ہے وہ حقیقت دھول تھی اب مجھ کو اعتماد کی دعوت لگ دے کوئی ہے وہ ہے وہ ہے وہ خود یہ چاہتا ہوں کہ حالات ہوں خراب مری خلاف زہر اگلتا پھیرے کوئی اے بے وجہ اب تو مجھ کو سبھی کچھ قبول ہے یہ بھی قبول ہے کہ تجھے چھین لے کوئی ہاں ٹھیک ہے ہے وہ ہے وہ اپنی انا کا مریض ہوں آخر مری مزاج ہے وہ ہے وہ کیوں دخل دے کوئی اک بے وجہ کر رہا ہے ابھی تک وفا کا ذکر کاش ا سے زبان دراز کا منا نوچ لے کوئی

Jaun Elia

77 likes

جو ہوں اک بار حقیقت ہر بار ہوں ایسا نہیں ہوتا ہمیشہ ایک ہی سے پیار ہوں ایسا نہیں ہوتا ہر اک کشتی کا اپنا غضب ہوتا ہے دریا ہے وہ ہے وہ ہے وہ سفر ہے وہ ہے وہ روز ہی منجھدار ہوں ایسا نہیں ہوتا کہانی ہے وہ ہے وہ تو کرداروں کو جو چاہے بنا دیجئے حقیقت بھی کہانی کار ہوں ایسا نہیں ہوتا کہی تو کوئی ہوگا ج سے کو اپنی بھی ضرورت ہوں ہر اک بازی ہے وہ ہے وہ دل کی ہار ہوں ایسا نہیں ہوتا سکھا دیتی ہیں چلنا ٹھوکریں بھی راہگیروں کو کوئی رستہ صدا دشوار ہوں ایسا نہیں ہوتا

Nida Fazli

8 likes

More from Vashu Pandey

یوں بھی کٹنے لگا ہوں اب ہے وہ ہے وہ غیر مناسب یاروں سے بارش وفا نہیں کر سکتی مٹی کی دیواروں سے دکھے ہوئے لوگوں کی پھوڑی رگ کو چھونا ٹھیک نہیں سمے نہیں پوچھا کرتے ہیں یاروں سمے کے ماروں سے عاشق ہیں تو عاشق والے جلوے بھی دکھلائیں آپ کپڑے پھاڑیں خاک اڑائیں سر ماریں دیواروں سے اور چمن گر اپنا ہے تو ا سے سب کچھ اپنا ہے بے شک پھول پہ پھول لوٹائیں بچھاؤ لگ کھائیں خارو سے

Vashu Pandey

5 likes

حقیقت در بنے یا راہ کی دیوار خوش رہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ بس یہ چاہتا ہوں میرا یار خوش رہے ایسا کوئی نہیں کہ جسے کوئی غم نہیں ایسا کوئی نہیں جو لگاتار خوش رہے مہمان رہ گیا تو ہے یہ بس چند روز کا کوشش یہ جون ایلیا کہ بیمار خوش رہے

Vashu Pandey

9 likes

उम्र भर यूँँ ही जलते रहे रौशनी भी नहीं कर सके गाँव करना था रौशन हमें इक गली भी नहीं कर सके हम को इतना डराया गया मेरे मौला तेरे नाम से तेरे बंदे कभी ठीक से बंदगी भी नहीं कर सके बेख़ुदी में उठे थे क़दम आ फँसे ऐसे रस्ते पे हम मंज़िलें भी नहीं मिल सकी वापसी भी नहीं कर सके छोटे घर के बड़े थे सो हम ज़िम्मेदारी निभाते रहे आशिक़ी तो बड़ी बात थी ख़ुद-कुशी भी नहीं कर सके काम दो ही थे करने हमें आशिक़ी या तो फिर शा'इरी आशिक़ी भी नहीं कर सके शा'इरी भी नहीं कर सके

Vashu Pandey

6 likes

یہ تقریباً غیر ممکن ہے خدایا پر نکل جائے چراغوں کے دماغوں سے ہوا کا ڈر نکل جائے اسی ڈر سے سفر بھر ہے وہ ہے وہ کہی آنکھیں نہیں جھپکی کہی ایسا لگ ہوں غلطی سے تیرا گھر نکل جائے طریقہ ایک ہی ہے ب سے سکون پانے کا دنیا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ی ہاں سے دل نکل جائے ی ہاں سے سر نکل جائے

Vashu Pandey

11 likes

ہم کو مشکل ہے وہ ہے وہ رہنے دے چارا گر آسانی سے مر غلطیاں سمجھا کر اول اول ہم بھی تری چنو تھے ہم بھی خوش ہوتے تھے دیکھ کے خوش منظر نقل مکانی شوق نہیں مجبوری تھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ گھر سے لگ چلتا کیسے چلتا گھر ان کو ب سے تنقید ہی کرنی ہوتی ہے ان کو کیا معلوم غزل کے پ سے منظر

Vashu Pandey

4 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Vashu Pandey.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Vashu Pandey's ghazal.