ghazalKuch Alfaaz

حقیقت در بنے یا راہ کی دیوار خوش رہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ بس یہ چاہتا ہوں میرا یار خوش رہے ایسا کوئی نہیں کہ جسے کوئی غم نہیں ایسا کوئی نہیں جو لگاتار خوش رہے مہمان رہ گیا تو ہے یہ بس چند روز کا کوشش یہ جون ایلیا کہ بیمار خوش رہے

Related Ghazal

چاند ستارے تم پھول پرندے شام سویرہ ایک طرف ساری دنیا ا سے کا چربہ ا سے کا چہرہ ایک طرف حقیقت لڑکر بھی سو جائے تو ا سے کا ماتھا چوموں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے سے محبت ایک طرف ہے ا سے سے جھگڑا ایک طرف ج سے اجازت پر حقیقت انگلی رکھ دے اس کا کو حقیقت دلوانی ہے ا سے کی خوشیاں سب سے اول سستا مہنگا ایک طرف زخموں پر مرہم لگواو لیکن ا سے کے ہاتھوں سے چارسازی ایک طرف ہے ا سے کا چھونا ایک طرف ساری دنیا جو بھی بولے سب کچھ شور شرابا ہے سب کا کہنا ایک طرف ہے ا سے کا کہنا ایک طرف ا سے نے ساری دنیا مانگی ہے وہ ہے وہ نے اس کا کو مانگا ہے ا سے کے سپنے ایک طرف ہے میرا سپنا ایک طرف

Varun Anand

406 likes

چادر کی عزت کرتا ہوں اور پردے کو مانتا ہوں ہر پردہ پردہ نہیں ہوتا اتنا ہے وہ ہے وہ بھی جانتا ہوں سارے مرد ایک چنو ہیں جاناں نے کیسے کہ ڈالا ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی تو ایک مرد ہوں جاناں کو خود سے بہتر مانتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے ا سے سے پیار کیا ہے ملکیت کا دعویٰ نہیں حقیقت ج سے کے بھی ساتھ ہے ہے وہ ہے وہ اس کا کو بھی اپنا مانتا ہوں چادر کی عزت کرتا ہوں اور پردے کو مانتا ہوں ہر پردہ پردہ نہیں ہوتا اتنا ہے وہ ہے وہ بھی جانتا ہوں

Ali Zaryoun

105 likes

مری ب سے ہے وہ ہے وہ نہیں ورنا قدرت کا لکھا ہوا کاٹتا تری حصے ہے وہ ہے وہ آئی برے دن کوئی دوسرا کاٹتا لاریوں سے زیادہ بہاؤ تھا تری ہر اک لفظ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اشارہ نہیں کاٹ سکتا تیری بات کیا کاٹتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے بھی زندگی اور شب اے ہجر کاٹی ہے سب کی طرح ویسے بہتر تو یہ تھا کے ہے وہ ہے وہ کم سے کم کچھ نیا کاٹتا تری ہوتے ہوئے موم بتی بجھائی کسی اور نے کیا خوشی رہ گئی تھی جنم دن کی ہے وہ ہے وہ کیک کیا کاٹتا کوئی بھی تو نہیں جو مری بھوکے رہنے پہ ناراض ہوں جیل ہے وہ ہے وہ تیری تصویر ہوتی تو ہنسکر سزا کاٹتا

Tehzeeb Hafi

456 likes

کیوں ڈریں زندگی ہے وہ ہے وہ کیا ہوگا کچھ لگ ہوگا تو غضب ہوگا ہنستی آنکھوں ہے وہ ہے وہ جھانک کر دیکھو کوئی آنسو کہی چھپا ہوگا ان دنوں نا امید سا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ شاید ا سے نے بھی یہ سنا ہوگا دیکھ کر جاناں کو سوچتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کیا کسی نے تمہیں چھوا ہوگا

Javed Akhtar

371 likes

جاناں حقیقت نہیں ہوں حسرت ہوں جو ملے خواب ہے وہ ہے وہ حقیقت دولت ہوں جاناں ہوں خوشبو کے خواب کی خوشبو اور اتنے ہی بے مروت ہوں ک سے طرح چھوڑ دوں تمہیں جاناں جاناں مری زندگی کی عادت ہوں ک سے لیے دیکھتے ہوں آئی لگ جاناں تو خود سے بھی خوبصورت ہوں داستان ختم ہونے والی ہے جاناں مری آخری محبت ہوں

Jaun Elia

315 likes

More from Vashu Pandey

حالات ا سے دودمان لگ تھے دشوار ٹھیک تھے چارگری سے قبل یہ بیمار ٹھیک تھے بیکار ہوں گئے ہوئے ہیں جب سے کار گر ا سے سے تو مری جان ہم بیکار ٹھیک تھے ا سے پار لگ رہا تھا کہ ا سے پار موج ہے ا سے پار سوچتے ہیں کہ ا سے پار ٹھیک تھے تھے یوں بھی اپنے چاہنے والے بے حد کہ ہم انسان تو چنو بھی تھے فنکار ٹھیک تھے

Vashu Pandey

5 likes

یوں بھی کٹنے لگا ہوں اب ہے وہ ہے وہ غیر مناسب یاروں سے بارش وفا نہیں کر سکتی مٹی کی دیواروں سے دکھے ہوئے لوگوں کی پھوڑی رگ کو چھونا ٹھیک نہیں سمے نہیں پوچھا کرتے ہیں یاروں سمے کے ماروں سے عاشق ہیں تو عاشق والے جلوے بھی دکھلائیں آپ کپڑے پھاڑیں خاک اڑائیں سر ماریں دیواروں سے اور چمن گر اپنا ہے تو ا سے سب کچھ اپنا ہے بے شک پھول پہ پھول لوٹائیں بچھاؤ لگ کھائیں خارو سے

Vashu Pandey

5 likes

ہم کو مشکل ہے وہ ہے وہ رہنے دے چارا گر آسانی سے مر غلطیاں سمجھا کر اول اول ہم بھی تری چنو تھے ہم بھی خوش ہوتے تھے دیکھ کے خوش منظر نقل مکانی شوق نہیں مجبوری تھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ گھر سے لگ چلتا کیسے چلتا گھر ان کو ب سے تنقید ہی کرنی ہوتی ہے ان کو کیا معلوم غزل کے پ سے منظر

Vashu Pandey

4 likes

उम्र भर यूँँ ही जलते रहे रौशनी भी नहीं कर सके गाँव करना था रौशन हमें इक गली भी नहीं कर सके हम को इतना डराया गया मेरे मौला तेरे नाम से तेरे बंदे कभी ठीक से बंदगी भी नहीं कर सके बेख़ुदी में उठे थे क़दम आ फँसे ऐसे रस्ते पे हम मंज़िलें भी नहीं मिल सकी वापसी भी नहीं कर सके छोटे घर के बड़े थे सो हम ज़िम्मेदारी निभाते रहे आशिक़ी तो बड़ी बात थी ख़ुद-कुशी भी नहीं कर सके काम दो ही थे करने हमें आशिक़ी या तो फिर शा'इरी आशिक़ी भी नहीं कर सके शा'इरी भी नहीं कर सके

Vashu Pandey

6 likes

یہ تقریباً غیر ممکن ہے خدایا پر نکل جائے چراغوں کے دماغوں سے ہوا کا ڈر نکل جائے اسی ڈر سے سفر بھر ہے وہ ہے وہ کہی آنکھیں نہیں جھپکی کہی ایسا لگ ہوں غلطی سے تیرا گھر نکل جائے طریقہ ایک ہی ہے ب سے سکون پانے کا دنیا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ی ہاں سے دل نکل جائے ی ہاں سے سر نکل جائے

Vashu Pandey

11 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Vashu Pandey.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Vashu Pandey's ghazal.