یہ تقریباً غیر ممکن ہے خدایا پر نکل جائے چراغوں کے دماغوں سے ہوا کا ڈر نکل جائے اسی ڈر سے سفر بھر ہے وہ ہے وہ کہی آنکھیں نہیں جھپکی کہی ایسا لگ ہوں غلطی سے تیرا گھر نکل جائے طریقہ ایک ہی ہے ب سے سکون پانے کا دنیا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ی ہاں سے دل نکل جائے ی ہاں سے سر نکل جائے
Related Ghazal
جاناں ثروت کو پڑھتی ہوں کتنی اچھی لڑکی ہوں بات نہیں سنتی ہوں کیوں غزلیں بھی تو سنتی ہوں کیا رشتہ ہے شاموں سے سورج کی کیا لگتی ہوں لوگ نہیں ڈرتے رب سے جاناں لوگوں سے ڈرتی ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو جیتا ہوں جاناں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں کیوں مجھ پہ مرتی ہوں آدم اور سدھر جائے جاناں بھی حد ہی کرتی ہوں ک سے نے جینز کری ممنوع پہنو اچھی لگتی ہوں
Ali Zaryoun
48 likes
ک سے طرح ہوگا فقیروں کا گزارا اپائے ا سے سے کہنا کہ حقیقت اک بار دوبارہ اپائے کیسے ممکن ہے اسے اور کوئی کام لگ ہوں کیسے ممکن ہے کہ حقیقت صرف ہمارا اپائے تری افلاک پہ جائے تو ستارہ چمکے مری افلاک پہ آئی تو ستارہ اپائے ٹوٹے پتوار کی کشتی کا مقدر کیا ہے یہ تو دریا ہی بتائے یا کنارہ اپائے ایسا موقع ہوں کہ ب سے ایک ہی بچ سکتا ہوں اور ا سے سمے بھی ایک بے وجہ تمہارا اپائے
Zahid Bashir
40 likes
عقل نے اچھے اچھوں کو بہکایا تھا شکر ہے ہم پر کچھ وحشت کا سایہ تھا جاناں نے اپنی گردن اونچی ہی رکھی ورنا ہے وہ ہے وہ تو جپا لے کر آیا تھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ اب تک ا سے کے ہی رنگ ہے وہ ہے وہ رنگا ہوں ج سے نے سب سے پہلے رنگ لگایا تھا مری رائے سب سے پہلے لی جائے ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے سب سے پہلے دھوکہ کھایا تھا سب کو علم ہے پھول اور خوشبو دونوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سب سے پہلے ک سے نے ہاتھ چھڑایا تھا اک لڑکی نے پھروں مجھ کو بہکایا ہے اک لڑکی نے اچھے سے سمجھایا تھا
Zubair Ali Tabish
48 likes
جو بھی افواہ تھا حقیقت سچ نکلا شور مچنا تھا شور مچ نکلا چھپ گئی بات ہاتھ کٹنے کی خون مہن گرا کے ساتھ رچ نکلا دکھ تو یہ ہے کہ تری بارے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ج ہاں سے جو سنا حقیقت سچ نکلا سوچتا ہوں حقیقت عین موقعے پر کیسے مری ہوں سے سے بچ نکلا
Kushal Dauneria
32 likes
ہم نے کب چاہا کہ حقیقت بے وجہ ہمارا ہوں جائے اتنا دکھ جائے کہ آنکھوں کا گزارا ہوں جائے ہم جسے پا سے بٹھا لیں حقیقت بچھڑ جاتا ہے جاناں جسے ہاتھ لگا دو حقیقت تمہارا ہوں جائے جاناں کو لگتا ہے کہ جاناں جیت گئے ہوں مجھ سے ہے یہی بات تو پھروں کھیل دوبارہ ہوں جائے ہے محبت بھی غضب طرز تجارت کہ ی ہاں ہر دکاں دار یہ چاہے کہ خسارہ ہوں جائے
Yasir Khan
92 likes
More from Vashu Pandey
حالات ا سے دودمان لگ تھے دشوار ٹھیک تھے چارگری سے قبل یہ بیمار ٹھیک تھے بیکار ہوں گئے ہوئے ہیں جب سے کار گر ا سے سے تو مری جان ہم بیکار ٹھیک تھے ا سے پار لگ رہا تھا کہ ا سے پار موج ہے ا سے پار سوچتے ہیں کہ ا سے پار ٹھیک تھے تھے یوں بھی اپنے چاہنے والے بے حد کہ ہم انسان تو چنو بھی تھے فنکار ٹھیک تھے
Vashu Pandey
5 likes
یوں بھی کٹنے لگا ہوں اب ہے وہ ہے وہ غیر مناسب یاروں سے بارش وفا نہیں کر سکتی مٹی کی دیواروں سے دکھے ہوئے لوگوں کی پھوڑی رگ کو چھونا ٹھیک نہیں سمے نہیں پوچھا کرتے ہیں یاروں سمے کے ماروں سے عاشق ہیں تو عاشق والے جلوے بھی دکھلائیں آپ کپڑے پھاڑیں خاک اڑائیں سر ماریں دیواروں سے اور چمن گر اپنا ہے تو ا سے سب کچھ اپنا ہے بے شک پھول پہ پھول لوٹائیں بچھاؤ لگ کھائیں خارو سے
Vashu Pandey
5 likes
ہم کو مشکل ہے وہ ہے وہ رہنے دے چارا گر آسانی سے مر غلطیاں سمجھا کر اول اول ہم بھی تری چنو تھے ہم بھی خوش ہوتے تھے دیکھ کے خوش منظر نقل مکانی شوق نہیں مجبوری تھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ گھر سے لگ چلتا کیسے چلتا گھر ان کو ب سے تنقید ہی کرنی ہوتی ہے ان کو کیا معلوم غزل کے پ سے منظر
Vashu Pandey
4 likes
उम्र भर यूँँ ही जलते रहे रौशनी भी नहीं कर सके गाँव करना था रौशन हमें इक गली भी नहीं कर सके हम को इतना डराया गया मेरे मौला तेरे नाम से तेरे बंदे कभी ठीक से बंदगी भी नहीं कर सके बेख़ुदी में उठे थे क़दम आ फँसे ऐसे रस्ते पे हम मंज़िलें भी नहीं मिल सकी वापसी भी नहीं कर सके छोटे घर के बड़े थे सो हम ज़िम्मेदारी निभाते रहे आशिक़ी तो बड़ी बात थी ख़ुद-कुशी भी नहीं कर सके काम दो ही थे करने हमें आशिक़ी या तो फिर शा'इरी आशिक़ी भी नहीं कर सके शा'इरी भी नहीं कर सके
Vashu Pandey
6 likes
حقیقت در بنے یا راہ کی دیوار خوش رہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ بس یہ چاہتا ہوں میرا یار خوش رہے ایسا کوئی نہیں کہ جسے کوئی غم نہیں ایسا کوئی نہیں جو لگاتار خوش رہے مہمان رہ گیا تو ہے یہ بس چند روز کا کوشش یہ جون ایلیا کہ بیمار خوش رہے
Vashu Pandey
9 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Vashu Pandey.
Similar Moods
More moods that pair well with Vashu Pandey's ghazal.







