ghazalKuch Alfaaz

جو بھی افواہ تھا حقیقت سچ نکلا شور مچنا تھا شور مچ نکلا چھپ گئی بات ہاتھ کٹنے کی خون مہن گرا کے ساتھ رچ نکلا دکھ تو یہ ہے کہ تری بارے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ج ہاں سے جو سنا حقیقت سچ نکلا سوچتا ہوں حقیقت عین موقعے پر کیسے مری ہوں سے سے بچ نکلا

Related Ghazal

ہے وہ ہے وہ نے تو ب سے مزاق ہے وہ ہے وہ پوچھا خراب ہے حقیقت پیر ہاتھ دیکھ کے بولا خراب ہے ہر دن اسے دکھایا کہ کتنے غنیم ہیں ہر رات ا سے کے بارے ہے وہ ہے وہ سوچا خراب ہے یہ عشق ہوں چکا ہے ترپ چال تاش کی آگے غلام کے میرا اکا خراب ہے آزاد لڑ کیوں سے بھلی قید عورتیں زار کہ جھیل ٹھیک ہے دریا خراب ہے ہم ج سے خدا کی آ سے ہے وہ ہے وہ بیٹھے ہیں رات دن حقیقت جا چکا ہے بول کے دنیا خراب ہے زیادہ کسی کی موت پہ رونا نہیں صحیح اور جنم دن پہ شور شرابا خراب ہے آدھا بھی ا سے کے جتنا ہے وہ ہے وہ روشن نہیں ہوا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ج سے دیے کو بول رہا تھا خراب ہے

Kushal Dauneria

35 likes

غم کی دولت مفت لٹا دوں بلکل نہیں اشکوں ہے وہ ہے وہ یہ درد بہا دوں بلکل نہیں تو نے تو اوقات دکھا دی ہے اپنی ہے وہ ہے وہ ہے وہ اپنا گاہے گرا دوں بلکل نہیں ایک نجومی سب کو خواب دکھاتا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی اپنا ہاتھ دکھا دوں بلکل نہیں مری اندر اک خموشی چیختی ہے تو کیا ہے وہ ہے وہ بھی شور مچا دوں بلکل نہیں

Mehshar Afridi

49 likes

یہ ا پیش بات مقدر نہیں بدلا اپنا ایک ہی در پہ رہے در نہیں بدلا اپنا عشق کا کھیل ہے شطرنج نہیں ہے صاحب مات کھائی ہے م گر گھر نہیں بدلا اپنا جانے ک سے سمے اچانک اسے یاد آ جائے ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے یہ سوچ کے نمبر نہیں بدلا اپنا

Aadil Rasheed

33 likes

اب مری ساتھ نہیں ہے سمجھے نا سمجھانے کی بات نہیں ہے سمجھے نا جاناں مانگوگے اور تمہیں مل جائےگا پیار ہے یہ خیرات نہیں ہے سمجھے نا ہے وہ ہے وہ ہے وہ بادل ہوں ج سے پر چا ہوں برسوں گا مری کوئی ذات نہیں ہے سمجھے نا اپنا خالی ہاتھ مجھے مت دکھلاؤ ا سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ میرا ہاتھ نہیں ہے سمجھے نا

Zubair Ali Tabish

66 likes

جو بھی عزت کے ڈر سے ڈر جائے مت کرے عشق اپنے گھر جائے بات آ جائے جب دعاؤں پر ا سے سے بہتر ہے بندہ مر جائے تھوڑی سی اور دیر سامنے رہ مری آنکھوں کا پیٹ بھر جائے المہیمین کے گھر بھی خطرے ہیں جائے بھی تو کوئی کدھر جائے ہاں عقیدہ ا گر لگ قید رکھے پھروں تو انسان کچھ بھی کر جائے قیامت کی یہ آخری حد ہے مری اولاد آپ پر جائے ا سے کے چہرے پر آج اداسی تھی ہاں یہ افکار علوی مر جائے

Afkar Alvi

38 likes

More from Kushal Dauneria

بچی ہے روشنی جو بھی چراغوں سے نکل جائے جو مری دل سے نکلا ہے دعاؤں سے نکل جائے ہم ایسے لوگ جو دشمن کے رونے پر ٹھہر جائیں حقیقت ایسا بے وجہ جو اپنوں کی لاشوں سے نکل جائے پڑھانے کا ا گر زار ہے ہاتھوں سے نکل جانا خدایا پھروں مری بیٹی بھی ہاتھوں سے نکل جائے وہی اک بے وجہ تھا میرا ی ہاں پر جی لگانے کو اسی کو چاہتے تھے سب کہ گاؤں سے نکل جائے ادھر تو چھو رہی ہے جسم میرا ٹھنڈے ہاتھوں سے ادھر حقیقت چاہتی ہے رات باتوں سے نکل جائے نمائش باپ کی دولت کی کر کے سوچتا تھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ کہ شاید امتحاں عشق پیسوں سے نکل جائے

Kushal Dauneria

25 likes

ہے وہ ہے وہ نے تو ب سے مزاق ہے وہ ہے وہ پوچھا خراب ہے حقیقت پیر ہاتھ دیکھ کے بولا خراب ہے ہر دن اسے دکھایا کہ کتنے غنیم ہیں ہر رات ا سے کے بارے ہے وہ ہے وہ سوچا خراب ہے یہ عشق ہوں چکا ہے ترپ چال تاش کی آگے غلام کے میرا اکا خراب ہے آزاد لڑ کیوں سے بھلی قید عورتیں زار کہ جھیل ٹھیک ہے دریا خراب ہے ہم ج سے خدا کی آ سے ہے وہ ہے وہ بیٹھے ہیں رات دن حقیقت جا چکا ہے بول کے دنیا خراب ہے زیادہ کسی کی موت پہ رونا نہیں صحیح اور جنم دن پہ شور شرابا خراب ہے آدھا بھی ا سے کے جتنا ہے وہ ہے وہ روشن نہیں ہوا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ج سے دیے کو بول رہا تھا خراب ہے

Kushal Dauneria

35 likes

حسن اک گلستاں کا رہیےگا ہے آنکھ شہتوت بدن ڈالی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے کچھ دیر اداسی ہنسکر ماری ہے مار نہیں ڈالی ہے ساز و سنگار سے چمکایا بدن ایک ہی نوٹ حقیقت بھی جالی ہے

Kushal Dauneria

24 likes

کیا ہوں کہ مری زندگی سے تو نکل سکے ج سے سے کہ مری درد کا پہلو نکل سکے درکار ا سے لیے ہے مجھے دوسرا بدن ا سے کی دل و دماغ سے خوشبو نکل سکے سب اپنی اپنی لاشوں کو مندیر ہے وہ ہے وہ لے چلو شاید خدا کی آنکھ سے آنسو نکل سکے گہری ہوئیں جڑیں تو یہ شاخیں خا لگ وحدت پسند ہوئیں پاؤں جمعے تو پیڑ کے بازو نکل سکے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے بعد صرف انہی کوششوں ہے وہ ہے وہ ہوں گردن سے ا سے کے نام کا ٹیٹو نکل سکے اپنی ہتھیلیوں ہے وہ ہے وہ یہ آنکھیں نچوڑ لوں ممکن ہے تری ہجر سے چلو نکل سکے ہے وہ ہے وہ ہے وہ چاہتا ہوں رات ہے وہ ہے وہ سورج مکھی کھلے ہے وہ ہے وہ ہے وہ چاہتا ہوں دن ہے وہ ہے وہ بھی جگنو نکل سکے

Kushal Dauneria

18 likes

کوئی حسین تو کوئی دردناک سمجھےگا میرا مزاج وہی ٹھیک ٹھاک سمجھےگا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ج سے کے ساتھ کئی راتوں سے ہوں ا سے کا نام بتا تو دوں گا م گر تو مزاق سمجھےگا حقیقت ج سے حساب سے گاتا ہے ا سے سے لگتا ہے کہ مری دکھ کو تو ب سے لڑکھڑاتے پراک سمجھےگا

Kushal Dauneria

36 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Kushal Dauneria.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Kushal Dauneria's ghazal.