یوں بھی کٹنے لگا ہوں اب ہے وہ ہے وہ غیر مناسب یاروں سے بارش وفا نہیں کر سکتی مٹی کی دیواروں سے دکھے ہوئے لوگوں کی پھوڑی رگ کو چھونا ٹھیک نہیں سمے نہیں پوچھا کرتے ہیں یاروں سمے کے ماروں سے عاشق ہیں تو عاشق والے جلوے بھی دکھلائیں آپ کپڑے پھاڑیں خاک اڑائیں سر ماریں دیواروں سے اور چمن گر اپنا ہے تو ا سے سب کچھ اپنا ہے بے شک پھول پہ پھول لوٹائیں بچھاؤ لگ کھائیں خارو سے
Related Ghazal
یہی اپنی کہانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے حقیقت لڑکی جاں ہماری تھی میاں پہلے بے حد پہلے وہم مجھ کو یہ بھاتا ہے,अभी مری دیوانی ہے م گر مری دیوانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے رقیب آ کر بتاتے ہیں ی ہاں تل ہے و ہاں تل ہے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ جانکاری تھی میاں پہلے بے حد پہلے ادب سے مانگ کر مافی بھری محفل یہ کہتا ہوں حقیقت لڑکی خاندانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے
Anand Raj Singh
526 likes
مری ب سے ہے وہ ہے وہ نہیں ورنا قدرت کا لکھا ہوا کاٹتا تری حصے ہے وہ ہے وہ آئی برے دن کوئی دوسرا کاٹتا لاریوں سے زیادہ بہاؤ تھا تری ہر اک لفظ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اشارہ نہیں کاٹ سکتا تیری بات کیا کاٹتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے بھی زندگی اور شب اے ہجر کاٹی ہے سب کی طرح ویسے بہتر تو یہ تھا کے ہے وہ ہے وہ کم سے کم کچھ نیا کاٹتا تری ہوتے ہوئے موم بتی بجھائی کسی اور نے کیا خوشی رہ گئی تھی جنم دن کی ہے وہ ہے وہ کیک کیا کاٹتا کوئی بھی تو نہیں جو مری بھوکے رہنے پہ ناراض ہوں جیل ہے وہ ہے وہ تیری تصویر ہوتی تو ہنسکر سزا کاٹتا
Tehzeeb Hafi
456 likes
چاند ستارے تم پھول پرندے شام سویرہ ایک طرف ساری دنیا ا سے کا چربہ ا سے کا چہرہ ایک طرف حقیقت لڑکر بھی سو جائے تو ا سے کا ماتھا چوموں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے سے محبت ایک طرف ہے ا سے سے جھگڑا ایک طرف ج سے اجازت پر حقیقت انگلی رکھ دے اس کا کو حقیقت دلوانی ہے ا سے کی خوشیاں سب سے اول سستا مہنگا ایک طرف زخموں پر مرہم لگواو لیکن ا سے کے ہاتھوں سے چارسازی ایک طرف ہے ا سے کا چھونا ایک طرف ساری دنیا جو بھی بولے سب کچھ شور شرابا ہے سب کا کہنا ایک طرف ہے ا سے کا کہنا ایک طرف ا سے نے ساری دنیا مانگی ہے وہ ہے وہ نے اس کا کو مانگا ہے ا سے کے سپنے ایک طرف ہے میرا سپنا ایک طرف
Varun Anand
406 likes
کیوں ڈریں زندگی ہے وہ ہے وہ کیا ہوگا کچھ لگ ہوگا تو غضب ہوگا ہنستی آنکھوں ہے وہ ہے وہ جھانک کر دیکھو کوئی آنسو کہی چھپا ہوگا ان دنوں نا امید سا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ شاید ا سے نے بھی یہ سنا ہوگا دیکھ کر جاناں کو سوچتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کیا کسی نے تمہیں چھوا ہوگا
Javed Akhtar
371 likes
تیری مشکل لگ چھپاؤں گا چلا جاؤں گا خوشی آنکھوں ہے وہ ہے وہ آؤں گا چلا جاؤں گا اپنی دہلیز پہ کچھ دیر پڑا رہنے دے چنو ہی ہوش ہے وہ ہے وہ لگاؤں گا چلا جاؤں گا خواب لینے کوئی آئی کہ لگ آئی کوئی ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو آواز رلاؤں گا چلا جاؤں گا چند یادیں مجھے بچوں کی طرح پیاری ہیں ان کو سینے سے لگاؤں گا چلا جاؤں گا مدتوں بعد ہے وہ ہے وہ آیا ہوں پرانی گھر ہے وہ ہے وہ ہے وہ خود کو جی بھر کے نیت شوق چلا جاؤں گا ا سے جزیرے ہے وہ ہے وہ زیادہ نہیں رہنا اب تو آجکل ناو بناؤں گا چلا جاؤں گا تہذیب کی طرح لوٹ کے آؤںگا حسن ہر طرف پھول کھلاؤں گا چلا جاؤں گا
Hasan Abbasi
235 likes
More from Vashu Pandey
حالات ا سے دودمان لگ تھے دشوار ٹھیک تھے چارگری سے قبل یہ بیمار ٹھیک تھے بیکار ہوں گئے ہوئے ہیں جب سے کار گر ا سے سے تو مری جان ہم بیکار ٹھیک تھے ا سے پار لگ رہا تھا کہ ا سے پار موج ہے ا سے پار سوچتے ہیں کہ ا سے پار ٹھیک تھے تھے یوں بھی اپنے چاہنے والے بے حد کہ ہم انسان تو چنو بھی تھے فنکار ٹھیک تھے
Vashu Pandey
5 likes
ہم کو مشکل ہے وہ ہے وہ رہنے دے چارا گر آسانی سے مر غلطیاں سمجھا کر اول اول ہم بھی تری چنو تھے ہم بھی خوش ہوتے تھے دیکھ کے خوش منظر نقل مکانی شوق نہیں مجبوری تھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ گھر سے لگ چلتا کیسے چلتا گھر ان کو ب سے تنقید ہی کرنی ہوتی ہے ان کو کیا معلوم غزل کے پ سے منظر
Vashu Pandey
4 likes
حقیقت در بنے یا راہ کی دیوار خوش رہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ بس یہ چاہتا ہوں میرا یار خوش رہے ایسا کوئی نہیں کہ جسے کوئی غم نہیں ایسا کوئی نہیں جو لگاتار خوش رہے مہمان رہ گیا تو ہے یہ بس چند روز کا کوشش یہ جون ایلیا کہ بیمار خوش رہے
Vashu Pandey
9 likes
उम्र भर यूँँ ही जलते रहे रौशनी भी नहीं कर सके गाँव करना था रौशन हमें इक गली भी नहीं कर सके हम को इतना डराया गया मेरे मौला तेरे नाम से तेरे बंदे कभी ठीक से बंदगी भी नहीं कर सके बेख़ुदी में उठे थे क़दम आ फँसे ऐसे रस्ते पे हम मंज़िलें भी नहीं मिल सकी वापसी भी नहीं कर सके छोटे घर के बड़े थे सो हम ज़िम्मेदारी निभाते रहे आशिक़ी तो बड़ी बात थी ख़ुद-कुशी भी नहीं कर सके काम दो ही थे करने हमें आशिक़ी या तो फिर शा'इरी आशिक़ी भी नहीं कर सके शा'इरी भी नहीं कर सके
Vashu Pandey
6 likes
یہ تقریباً غیر ممکن ہے خدایا پر نکل جائے چراغوں کے دماغوں سے ہوا کا ڈر نکل جائے اسی ڈر سے سفر بھر ہے وہ ہے وہ کہی آنکھیں نہیں جھپکی کہی ایسا لگ ہوں غلطی سے تیرا گھر نکل جائے طریقہ ایک ہی ہے ب سے سکون پانے کا دنیا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ی ہاں سے دل نکل جائے ی ہاں سے سر نکل جائے
Vashu Pandey
11 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Vashu Pandey.
Similar Moods
More moods that pair well with Vashu Pandey's ghazal.







