بھلا بھی دے اسے جو بات ہوں گئی پیاری نئے چراغ جلا رات ہوں گئی پیاری تری نگاہ پشیمان کو کیسے دیکھوں گا کبھی جو تجھ سے ملاقات ہوں گئی پیاری لگ تیری یاد لگ دنیا کا غم لگ اپنا خیال عجیب صورت حالات ہوں گئی پیاری ادا سے ادا سے ہیں شمعیں بجھے بجھے میک اپ یہ کیسی شام خرابات ہوں گئی پیاری وفا کا نام لگ لےگا کوئی زمانے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہم اہل دل کو ا گر مات ہوں گئی پیاری تمہیں تو ناز بے حد دوستوں پہ تھا جالب ا پیش تھ پیش سے ہوں کیا بات ہوں گئی پیاری
Related Ghazal
حقیقت بےوفا ہے تو کیا مت کہو برا اس کا کو کہ جو ہوا سو ہوا خوش رکھے خدا اس کا کو نظر لگ آئی تو ا سے کی تلاش ہے وہ ہے وہ رہنا کہی ملے تو پلٹ کر لگ دیکھنا اس کا کو حقیقت سادہ خوں تھا زمانے کے خم سمجھتا کیا ہوا کے ساتھ چلا لے اڑی ہوا اس کا کو حقیقت اپنے بارے ہے وہ ہے وہ کتنا ہے خوش گماں دیکھو جب اس کا کو ہے وہ ہے وہ بھی لگ دیکھوں تو دیکھنا اس کا کو
Naseer Turabi
244 likes
زنے حسین تھی اور پھول چن کر لاتی تھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ شعر کہتا تھا حقیقت داستان سناتی تھی عرب لہو تھا رگوں ہے وہ ہے وہ بدن سنہرا تھا حقیقت مسکراتی نہیں تھی دیے جلاتی تھی علی سے دور رہو لوگ ا سے سے کہتے تھے حقیقت میرا سچ ہے بے حد چیک کر بتاتی تھی علی یہ لوگ تمہیں جانتے نہیں ہیں ابھی گلے دیکھیں گے میرا حوصلہ بڑھاتی تھی یہ پھول دیکھ رہے ہوں یہ ا سے کا لہجہ تھا یہ جھیل دیکھ رہے ہوں ی ہاں حقیقت آتی تھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے بعد کبھی ٹھیک سے نہیں جاگا حقیقت مجھ کو خواب نہیں نیند سے جگاتی تھی اسے کسی سے محبت تھی اور حقیقت ہے وہ ہے وہ نہیں تھا یہ بات مجھ سے زیادہ اسے رلاتی تھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ کچھ بتا نہیں سکتا حقیقت مری کیا تھی علی کہ اس کا کو دیکھ کر ب سے اپنی یاد آتی تھی
Ali Zaryoun
102 likes
یہ ہے وہ ہے وہ نے کب کہا کہ مری حق ہے وہ ہے وہ فیصلہ کرے ا گر حقیقت مجھ سے خوش نہیں ہے تو مجھے جدا کرے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے ساتھ ج سے طرح گزارتا ہوں زندگی اسے تو چاہیے کہ میرا شکریہ ادا کرے مری دعا ہے اور اک طرح سے بد دعا بھی ہے خدا تمہیں تمہارے جیسی بیٹیاں عطا کرے بنا چکا ہوں ہے وہ ہے وہ محبتوں کے درد کی دوا ا گر کسی کو چاہیے تو مجھ سے رابطہ کرے
Tehzeeb Hafi
292 likes
अब के हम बिछड़े तो शायद कभी ख़्वाबों में मिलें जिस तरह सूखे हुए फूल किताबों में मिलें ढूँढ़ उजड़े हुए लोगों में वफ़ा के मोती ये ख़ज़ाने तुझे मुमकिन है ख़राबों में मिलें ग़म-ए-दुनिया भी ग़म-ए-यार में शामिल कर लो नशा बढ़ता है शराबें जो शराबों में मिलें तू ख़ुदा है न मिरा इश्क़ फ़रिश्तों जैसा दोनों इंसाँ हैं तो क्यूँँ इतने हिजाबों में मिलें आज हम दार पे खींचे गए जिन बातों पर क्या अजब कल वो ज़माने को निसाबों में मिलें अब न वो मैं न वो तू है न वो माज़ी है 'फ़राज़' जैसे दो शख़्स तमन्ना के सराबों में मिलें
Ahmad Faraz
130 likes
اصولوں پر ج ہاں آنچ آئی ٹکرانا ضروری ہے جو زندہ ہوں تو پھروں زندہ نظر آنا ضروری ہے نئی عمروں کی خودمختاریوں کو کون سمجھائے ک ہاں سے بچ کے چلنا ہے ک ہاں جانا ضروری ہے تھکے ہارے پرندے جب بسیرے کے لیے لوٹیں سلیقہ مند شاخوں کا لچک جانا ضروری ہے بے حد بےباک آنکھوں ہے وہ ہے وہ تعلق ٹک نہیں پاتا محبت ہے وہ ہے وہ کشش رکھنے کو شرمانا ضروری ہے سلیقہ ہی نہیں شاید اسے محسو سے کرنے کا جو کہتا ہے خدا ہے تو نظر آنا ضروری ہے مری ہونٹوں پہ اپنی پیا سے رکھ دو اور پھروں سوچو کہ ا سے کے بعد بھی دنیا ہے وہ ہے وہ کچھ پانا ضروری ہے
Waseem Barelvi
107 likes
More from Habib Jalib
آگ ہے پھیلی ہوئی کالی گھٹاؤں کی جگہ بد دعائیں ہیں لبوں پر اب دعاؤں کی جگہ انتخاب اہل گلشن پر بے حد روتا ہے دل دیکھ کر زاغ و زغن کو خوش نواوں کی جگہ کچھ بھی ہوتا پر لگ ہوتے پارہ پارہ جسم و جاں راہزن ہوتے ا گر ان رہنماؤں کی جگہ لٹ گئی ا سے دور ہے وہ ہے وہ اہل کی رکھ بک رہے ہیں اب صحافی بے سواوں کی جگہ کچھ تو آتا ہم کو بھی جاں سے گزرنے کا مزہ غیر ہوتے کاش جالب آشناؤں کی جگہ
Habib Jalib
1 likes
ا سے نے جب ہن سے کے نمسکار کیا مجھ کو انسان سے اوتار کیا دشت غربت ہے وہ ہے وہ دل ویراں نے یاد جمنا کو کئی بار کیا پیار کی بات لگ پوچھو یاروں ہم نے ک سے ک سے سے نہیں پیار کیا کتنی خوابیدہ تمناؤں کو ا سے کی آواز نے منجملہ و اسباب ماتم کیا ہم پجاری ہیں بتوں کے جالب ہم نے کعبہ ہے وہ ہے وہ بھی اقرار کیا
Habib Jalib
1 likes
کچھ لوگ خیالوں سے چلے جائیں تو سوئیں بیتے ہوئے دن رات لگ یاد آئیں تو سوئیں چہرے جو کبھی ہم کو دکھائی نہیں دیں گے آ آ کے تصور ہے وہ ہے وہ لگ تڑپائیں تو سوئیں برسات کی رت کے حقیقت طرب ریز مناظر سینے ہے وہ ہے وہ لگ اک آگ سی بھڑکائیں تو سوئیں صبحوں کے مقدر کو جگاتے ہوئے مکھڑے آنچل جو نگا ہوں ہے وہ ہے وہ لگ لہرائیں تو سوئیں محسو سے یہ ہوتا ہے ابھی جاگ رہے ہیں لاہور کے سب یار بھی سو جائیں تو سوئیں
Habib Jalib
0 likes
یہ سوچ کر لگ مائل فریاد ہم ہوئے آباد کب ہوئے تھے کہ برباد ہم ہوئے ہوتا ہے شاد کام ی ہاں کون با ضمیر ناشاد ہم ہوئے تو بے حد شاد ہم ہوئے پرویز کے جلال سے ٹکرائے ہم بھی ہیں یہ اور بات ہے کہ لگ فرہاد ہم ہوئے کچھ ایسے بھا گئے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ دنیا کے درد و غم کوئے بتاں ہے وہ ہے وہ بھولی ہوئی یاد ہم ہوئے جالب تمام عمر ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ گماں رہا ا سے زلف کے خیال سے آزاد ہم ہوئے
Habib Jalib
1 likes
ہم نے دل سے تجھے صدا مانا تو بڑا تھا تجھے بڑا مانا میر و غالب کے بعد انی سے کے بعد تجھ کو مانا بڑا بجا مانا تو کہ دیوا لگ صداقت تھا تو نے بندے کو کب خدا مانا تجھ کو پروا لگ تھی زمانے کی تو نے دل ہی کا ہر کہا مانا تجھ کو خود پہ تھا اعتماد اتنا خود ہی کو تو لگ رہنما مانا کی لگ شب کی کبھی پذیرائی صبح کو جائیں گے ثنا مانا ہن سے دیا سطح ذہن عالم پر جب کسی بات کا برا مانا یوں تو شاعر تھے اور بھی اے خون تمنا ہم نے تجھ سا لگ دوسرا مانا
Habib Jalib
0 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Habib Jalib.
Similar Moods
More moods that pair well with Habib Jalib's ghazal.







