ghazalKuch Alfaaz

چاندنی تھا کہ غزل تھا کہ صبا تھا کیا تھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے اک بار ترا نام سنا تھا کیا تھا اب کے بچھڑے ہیں تو لگتا ہے کہ کچھ ٹوٹ گیا تو میرا دل تھا کہ ترا عہد وفا تھا کیا تھا خود کشی کر کے بھی بستر سے اٹھا ہوں زندہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے کل رات کو جو زہر پیا تھا کیا تھا جاناں تو کہتے تھے خدا جاناں سے خفا ہے قیصر ڈوبتے سمے حقیقت جو اک ہاتھ بڑھا تھا کیا تھا

Related Ghazal

تماشا دیر و حرم دیکھتے ہیں تجھے ہر بہانے سے ہم دیکھتے ہیں ہماری طرف اب حقیقت کم دیکھتے ہیں حقیقت نظریں نہیں جن کو ہم دیکھتے ہیں زمانے کے کیا کیا ستم دیکھتے ہیں ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ جانتے ہیں جو ہم دیکھتے ہیں

Dagh Dehlvi

84 likes

حقیقت منہ لگاتا ہے جب کوئی کام ہوتا ہے جو اس کا کا ہوتا ہے سمجھو غلام ہوتا ہے کسی کا ہوں کے دوبارہ نہ آنا میری طرف محبتوں ہے وہ ہے وہ حلالہ حرام ہوتا ہے اسے بھی گنتے ہیں ہم لوگ اہل خانہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہمارے یاں تو شجر کا بھی نام ہوتا ہے تجھ ایسے بے وجہ کے ہوتے ہیں ضرب سے دوست بہت تجھ ایسا بے وجہ بہت جلد آم ہوتا ہے کبھی لگی ہے تمہیں کوئی شام آخری شام ہمارے ساتھ یہ ہر ایک شام ہوتا ہے

Umair Najmi

81 likes

غزل تو سب کو میٹھی لگ رہی تھی م گر نہاتک کو مرچی لگ رہی تھی تمہارے لب نہیں چومے تھے جب تک مجھے ہر چیز کڑوی لگ رہی تھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ ج سے دن چھوڑنے والا تھا اس کا کو حقیقت ا سے دن سب سے پیاری لگ رہی تھی

Zubair Ali Tabish

80 likes

تری پیچھے ہوں گی دنیا پاگل بن کیا بولا ہے وہ ہے وہ نے کچھ سمجھا پاگل بن صحرا ہے وہ ہے وہ بھی ڈھونڈ لے دریا پاگل بن ورنا مر جائےگا پیاسا پاگل بن آدھا دا لگ آدھا پاگل نہیں نہیں نہیں اس کا کا کو پانا ہے تو پورا پاگل بن دانائی دکھلانے سے کچھ حاصل نہیں پاگل خا لگ ہے یہ دنیا پاگل بن دیکھیں تجھ کو لوگ تو پاگل ہوں جائیں اتنا عمدہ اتنا اعلیٰ پاگل بن لوگوں سے ڈر لگتا ہے تو گھر ہے وہ ہے وہ بیٹھ ج ہنستے ہے تو مری جیسا پاگل بن

Varun Anand

81 likes

یہ ک سے طرح کا تعلق ہے آپ کا مری ساتھ مجھے ہی چھوڑ کے جانے کا مشورہ مری ساتھ یہی کہی ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ رستوں نے بد دعا دی تھی م گر ہے وہ ہے وہ بھول گیا تو اور کون تھا مری ساتھ حقیقت جھانکتا نہیں کھڑکی سے دن نکلتا ہے تجھے یقین نہیں آ رہا تو آ مری ساتھ

Tehzeeb Hafi

92 likes

More from Qaisar-ul-Jafri

صدیوں طویل رات کے زانو سے سر اٹھا سورج پیام عشق سے جھانک رہا ہے نظر اٹھا اتنی بری نہیں ہے کھنڈر کی زمین بھی ا سے ڈھیر کو سمیٹ نئے بام و در اٹھا ممکن ہے کوئی ہاتھ سمندر لپیٹ دے کشتی ہے وہ ہے وہ سو شگاف ہوں لن گر م گر اٹھا شاخ چمن ہے وہ ہے وہ آگ لگا کر گیا تو تھا کیوں اب یہ عذاب در بدری عمر بھر اٹھا منزل پہ آ کے دیکھ رہا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ آئی لگ کتنا غمدیدہ تھا جو سر رہگزر اٹھا صحرا ہے وہ ہے وہ تھوڑی دیر ٹھہرنا غلط لگ تھا لے گرد باد بیٹھ گیا تو اب تو سر اٹھا دستک ہے وہ ہے وہ کوئی درد کی خوشبو ضرور تھی دروازہ کھولنے کے لیے گھر کا گھر اٹھا قیصر متاع دل کا خریدار کون ہے بازار اجڑ گیا تو ہے دکان ہنر اٹھا

Qaisar-ul-Jafri

1 likes

دشت تنہائی ہے وہ ہے وہ کل رات ہوا کیسی تھی دیر تک ٹوٹتے لمحوں کی صدا کیسی تھی زندگی نے میرا پیچھا نہیں چھوڑا اب تک عمر بھر سر سے لگ اتری یہ بلا کیسی تھی سنتے رہتے تھے محبت کے فسانے کیا کیا بوند بھر دل پہ لگ برسی یہ گھٹا کیسی تھی کیا ملا فیصلہ ترک تعلق کر کے جاناں جو بچھڑے تھے تو ہونٹوں پہ دعا کیسی تھی ٹوٹ کر خود جو حقیقت بکھرا ہے تو معلوم ہوا ج سے سے لپٹا تھا حقیقت دیوار انا کیسی تھی جسم سے نوچ کے پھینکی بھی تو خوشبو لگ گئی یہ روایات کی بوسیدہ قباء کیسی تھی ڈوبتے سمے بھنور پوچھ رہا ہے قیصر جب کنارے سے چلے تھے تو فضا کیسی تھی

Qaisar-ul-Jafri

0 likes

काग़ज़ काग़ज़ धूल उड़ेगी फ़न बंजर हो जाएगा जिस दिन सूखे दिल के आँसू सब पत्थर हो जाएगा टूटेंगी जब नींद से पलकें सो जाऊँगा चुपके से जिस जंगल में रात पड़ेगी मेरा घर हो जाएगा ख़्वाबों के ये पंछी कब तक शोर करेंगे पलकों पर शाम ढलेगी और सन्नाटा शाख़ों पर हो जाएगा रात क़लम ले कर आएगी इतनी सियाही छिड़केगी दिन का सारा मंज़र-नामा बे-मंज़र हो जाएगा नाख़ुन से भी ईंट कुरेदें मिल-जुल कर हम-साए तो आँगन की दीवार न टूटे लेकिन दर हो जाएगा 'क़ैसर' रो लो ग़ज़लें कह लो बाक़ी है कुछ दर्द अभी अगली रुतों में यूँँ लगता है सब पत्थर हो जाएगा

Qaisar-ul-Jafri

4 likes

دیواروں سے مل کر رونا اچھا لگتا ہے ہم بھی پاگل ہوں جائیں گے ایسا لگتا ہے کتنے دنوں کے پیاسے ہوں گے یاروں سوچو تو شبنم کا اللہ ری بھی جن کو دریا لگتا ہے آنکھوں کو بھی لے ڈوبا یہ دل کا پاگل پن آتے جاتے جو ملتا ہے جاناں سا لگتا ہے ا سے بستی ہے وہ ہے وہ کون ہمارے آنسو پونچھےگا جو ملتا ہے ا سے کا دامن بھیگا لگتا ہے دنیا بھر کی یادیں ہم سے ملنے آتی ہیں شام ڈھلے ا سے سونے گھر ہے وہ ہے وہ میلا لگتا ہے ک سے کو پتھر ماروں قیصر کون پرایا ہے شیش محل ہے وہ ہے وہ اک اک چہرہ اپنا لگتا ہے

Qaisar-ul-Jafri

0 likes

پھروں مری سر پہ کڑی دھوپ کی بوچھار گری میں جہاں جا کے چھپا تھا وہیں دیوار گری لوگ قسطوں میں مجھے قتل کریںگے شاید سب سے پہلے مری آواز پہ تلوار گری اور کچھ دیر مری آس نہ ٹوٹی ہوتی آخری موج تھی جب ہاتھ سے پتوار گری اگلے وقتوں میں سنیں گے در و دیوار مجھے میری ہر چیخ اٹھیں مری عہد کے اس پار گری خود کو اب گرد کے طوفان سے بچاؤ قیصر تم بہت خوش تھے کہ ہم سایہ کی دیوار گری

Qaisar-ul-Jafri

0 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Qaisar-ul-Jafri.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Qaisar-ul-Jafri's ghazal.