ghazalKuch Alfaaz

काग़ज़ काग़ज़ धूल उड़ेगी फ़न बंजर हो जाएगा जिस दिन सूखे दिल के आँसू सब पत्थर हो जाएगा टूटेंगी जब नींद से पलकें सो जाऊँगा चुपके से जिस जंगल में रात पड़ेगी मेरा घर हो जाएगा ख़्वाबों के ये पंछी कब तक शोर करेंगे पलकों पर शाम ढलेगी और सन्नाटा शाख़ों पर हो जाएगा रात क़लम ले कर आएगी इतनी सियाही छिड़केगी दिन का सारा मंज़र-नामा बे-मंज़र हो जाएगा नाख़ुन से भी ईंट कुरेदें मिल-जुल कर हम-साए तो आँगन की दीवार न टूटे लेकिन दर हो जाएगा 'क़ैसर' रो लो ग़ज़लें कह लो बाक़ी है कुछ दर्द अभी अगली रुतों में यूँँ लगता है सब पत्थर हो जाएगा

Related Ghazal

مجھ پہ ہیں سیکڑوں الزام مری ساتھ نہ چل تو بھی ہو جائےگا بدنام مری ساتھ نہ چل تو نئی صبح کے سورج کی ہے اجلی سی کرن میں ہوں اک دھول بھری شام مری ساتھ نہ چل اپنی خوشیاں مری آلام سے بادہ آشامی نہ کر مجھ سے مت مانگ میرا نام مری ساتھ نہ چل تو بھی کھو جائے گی ٹپکے ہوئے آنسو کی طرح دیکھ اے گردش ایام مری ساتھ نہ چل میری دیوار کو تو کتنا سنبھالےگا شکیل ٹوٹتا رہتا ہوں ہر گام مری ساتھ نہ چل

Shakeel Azmi

26 likes

آنکھوں کو کچھ خواب دکھا کر مانیں گے آپ ہمارے ہوش ق سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ کر مانیں گے لگتا ہے یہ پانی بیچنے والے لوگ ہر بستی ہے وہ ہے وہ آگ لگا کر مانیں گے تجھ کو چھونے کی چاہت ہے وہ ہے وہ دیوانے شاید اپنے ہاتھ جلا کر مانیں گے طے تو یہ تھا پچھلی باتیں بھولنی ہیں آپ م گر سب یاد دلا کر مانیں گے گھر کا جھگڑا گر باہر آ جائےگا باہر والے اندر آ کر مانیں گے چاہے پھروں آواز چلی جائے لیکن ہم ا سے کو آواز لگا کر مانیں گے گھر پکا کرنے کی باتیں کرتے ہیں زبان حقیقت دیوار اٹھا کر مانیں گے

Yasir Khan

13 likes

اپنی منزل کا راستہ بھیجو جان ہم کو و ہاں بلا بھیجو کیا ہمارا نہیں رہا ساون زلف یاں بھی کوئی گھٹا بھیجو نئی مصروف جو اب کھیلی ہیں و ہاں ان کی خوشبو کو اک ذرا بھیجو ہم لگ جیتے ہیں اور لگ مرتے ہیں درد بھیجو لگ جاناں دوا بھیجو دھول اڑتی ہے جو ا سے آنگن ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کو بھیجو صبا صبا بھیجو اے فقیرو گلی کے ا سے گل کی جاناں ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اپنی خاک پا بھیجو شفقت شام ہجر کے ہاتھوں اپنی اتری ہوئی قباء بھیجو کچھ تو رشتہ ہے جاناں سے کم بختوں کچھ نہیں کوئی بد دعا بھیجو

Jaun Elia

29 likes

آج جن جھیلوں کا ب سے کاغذ ہے وہ ہے وہ نقشہ رہ گیا تو ایک مدت تک ہے وہ ہے وہ ان آنکھوں سے بہتا رہ گیا تو ہے وہ ہے وہ ہے وہ اسے نا قابل برداشت سمجھا تھا م گر حقیقت مری دل ہے وہ ہے وہ رہا اور اچھا خاصہ رہ گیا تو حقیقت جو آدھے تھے تجھے مل کر مکمل ہوں گئے جو مکمل تھا حقیقت تری غم ہے وہ ہے وہ آدھا رہ گیا تو

Tehzeeb Hafi

61 likes

अकेले रहने की ख़ुद ही सज़ा क़ुबूल की है ये हम ने इश्क़ किया है या कोई भूल की है ख़याल आया है अब रास्ता बदल लेंगे अभी तलक तो बहुत ज़िंदगी फ़ुज़ूल की है ख़ुदा करे कि ये पौदा ज़मीं का हो जाए कि आरज़ू मिरे आँगन को एक फूल की है न जाने कौन सा लम्हा मिरे क़रार का है न जाने कौन सी साअ'त तिरे हुसूल की है न जाने कौन सा चेहरा मिरी किताब का है न जाने कौन सी सूरत तिरे नुज़ूल की है जिन्हें ख़याल हो आँखों का लौट जाएँ वो अब इस के बा'द हुकूमत सफ़र में धूल की है ये शोहरतें हमें यूँँही नहीं मिली हैं 'शकील' ग़ज़ल ने हम से भी बहुत वसूल की है

Shakeel Azmi

18 likes

More from Qaisar-ul-Jafri

چاندنی تھا کہ غزل تھا کہ صبا تھا کیا تھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے اک بار ترا نام سنا تھا کیا تھا اب کے بچھڑے ہیں تو لگتا ہے کہ کچھ ٹوٹ گیا تو میرا دل تھا کہ ترا عہد وفا تھا کیا تھا خود کشی کر کے بھی بستر سے اٹھا ہوں زندہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے کل رات کو جو زہر پیا تھا کیا تھا جاناں تو کہتے تھے خدا جاناں سے خفا ہے قیصر ڈوبتے سمے حقیقت جو اک ہاتھ بڑھا تھا کیا تھا

Qaisar-ul-Jafri

1 likes

دشت تنہائی ہے وہ ہے وہ کل رات ہوا کیسی تھی دیر تک ٹوٹتے لمحوں کی صدا کیسی تھی زندگی نے میرا پیچھا نہیں چھوڑا اب تک عمر بھر سر سے لگ اتری یہ بلا کیسی تھی سنتے رہتے تھے محبت کے فسانے کیا کیا بوند بھر دل پہ لگ برسی یہ گھٹا کیسی تھی کیا ملا فیصلہ ترک تعلق کر کے جاناں جو بچھڑے تھے تو ہونٹوں پہ دعا کیسی تھی ٹوٹ کر خود جو حقیقت بکھرا ہے تو معلوم ہوا ج سے سے لپٹا تھا حقیقت دیوار انا کیسی تھی جسم سے نوچ کے پھینکی بھی تو خوشبو لگ گئی یہ روایات کی بوسیدہ قباء کیسی تھی ڈوبتے سمے بھنور پوچھ رہا ہے قیصر جب کنارے سے چلے تھے تو فضا کیسی تھی

Qaisar-ul-Jafri

0 likes

دیواروں سے مل کر رونا اچھا لگتا ہے ہم بھی پاگل ہوں جائیں گے ایسا لگتا ہے کتنے دنوں کے پیاسے ہوں گے یاروں سوچو تو شبنم کا اللہ ری بھی جن کو دریا لگتا ہے آنکھوں کو بھی لے ڈوبا یہ دل کا پاگل پن آتے جاتے جو ملتا ہے جاناں سا لگتا ہے ا سے بستی ہے وہ ہے وہ کون ہمارے آنسو پونچھےگا جو ملتا ہے ا سے کا دامن بھیگا لگتا ہے دنیا بھر کی یادیں ہم سے ملنے آتی ہیں شام ڈھلے ا سے سونے گھر ہے وہ ہے وہ میلا لگتا ہے ک سے کو پتھر ماروں قیصر کون پرایا ہے شیش محل ہے وہ ہے وہ اک اک چہرہ اپنا لگتا ہے

Qaisar-ul-Jafri

0 likes

تری گلی ہے وہ ہے وہ تماشا کیے زما لگ ہوا پھروں ا سے کے بعد لگ آنا ہوا لگ جانا ہوا کچھ اتنا ٹوٹ کے چاہا تھا مری دل نے اسے حقیقت بے وجہ مری مروت ہے وہ ہے وہ بےوفا لگ ہوا ہوا خفا تھی م گر اتنی سنگ دل بھی لگ تھی ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ کو شمع جلانے کا حوصلہ لگ ہوا مری خلوص کی سیکل گری بھی ہار گئی حقیقت جانے کون سا پتھر تھا آئی لگ لگ ہوا ہے وہ ہے وہ ہے وہ زہر پیتا رہا زندگی کے ہاتھوں سے یہ اور بات ہے میرا بدن ہرا لگ ہوا شعور چاہیے ترتیب خار و خ سے کے لیے قف سے کو توڑ کے رکھا تو آشیا لگ ہوا ہمارے گاؤں کی مٹی ہی ریت جیسی تھی یہ ایک رات کا سیلاب تو بہانا ہوا کسی کے ساتھ گئیں دل کی دھڑکنیں قیصر پھروں ا سے کے بعد محبت کا حادثہ لگ ہوا

Qaisar-ul-Jafri

1 likes

بیتابی کی برف پڑی تھی لیکن موسم سرد لگ تھا آج سے پہلے دل ہے وہ ہے وہ یاروں اتنا ٹھنڈا درد لگ تھا تنہائی کی بوجھل راتیں پہلے بھی تو برسی تھیں زخم نہیں تھے اتنے قاتل غم اتنا بے درد لگ تھا پھرتے ہیں اب رسوا ہوتے کل تک یہ رفتار لگ تھی شہر ہے وہ ہے وہ تھیں سو کوئے ملامت دل آوارہ گرد لگ تھا مرنے پر بھی لو دیتی تھی دیوانے کے دل کی آگ پتھرائی تھیں آنکھیں لیکن پھول سا چہرہ زرد لگ تھا حرف تسلی موج ہوا تھے موج ہوا سے ہوتا کیا سینے کا پتھر تھا قیصر غم دامن کی گرد لگ تھا

Qaisar-ul-Jafri

0 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Qaisar-ul-Jafri.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Qaisar-ul-Jafri's ghazal.